Daily Mashriq


سفینہ چاہئے اس بحر بیکراں کیلئے

سفینہ چاہئے اس بحر بیکراں کیلئے

ایک قدیم داستان کے کردار’’لیموں نچوڑ‘‘ کا وجود آج جیسے حالات میں ہوتا مگر دور وہی پرانا یعنی بیل گاڑیوں ،گھوڑوں وغیرہ پر سفر کرنے والا،پنج ستاری(اب تو7ستاری) ہوٹلوں کی جگہ وہی قدیم سرائے ہوتے، جہاں مسافر پڑائو کرتے، ایک آدھ آرام کرتے اور آگے بڑھ جاتے، تو شاید معاملہ الٹ ہوتا،یعنی سرائے کے مسافروں کو پتہ چلتا کہ ان کے پڑوس والے کسی کمرے میں ایک بہت ہی’’مالدار‘‘یعنی لیموں کا تھیلا رکھے ہوئے ایک شخص بھی موجود ہے تو بجائے’’لیموں نچوڑ کے، جو ہر دوپہر اور رات کے وقت کھانا دوسروں کے پلے سے کھانے کیلئے ان سے علیک سلیک کے بہانے راہ ورسم بڑھ جاتا اور وہ بھی عین اس وقت جب اسے احساس ہوتا کہ کھانا پک چکا ہے اور سرائے کا ملازم ایک ایک کمرے پر دستک دے کر کھانے کا آرڈر طلب کرنے بس آیا ہی چاہتا ہے ،اور جیسے ہی مسافر کوپتہ چلتا تو وہ پہلے تو سرائے کے ملازم سے پوچھتا کہ آج کیا پکا ہے بھائی، جواب جو بھی ملتا تو یہ جھٹ سے کہتا کہ اگر اس ترکاری پر لیمو نچوڑ کر کھائی جائے تو لطف دوبالا ہو جائے، پھر ساتھی مسافر سے کہتا، میں دیکھتا ہوں شاید ایک لیموں جوسفر پر چلتے ہوئے میں نے گھر سے اٹھایا تھا میرے سامان میں موجود ہو، جس کے کمرے میں یہ گفتگو ہورہی ہوتی وہ ممنون ہو کر ایک کی بجائے دو کھانوں کا آرڈر دے دیتا،یوں’’لیموں نچوڑ‘‘ نے اسی سرائے میںلگ بھگ ایک مہینہ صرف لیموں کی ’’طاقت‘‘ پر دوسروں کی روٹیاں توڑنے کی کامیاب وارداتیں کیں، مزید شاید اس کے پاس بھی لیموں ختم ہوچکے ہوں گے، اس لیئے بالآخر اسے بھی رخت سفر باندھ کر آگے جانا ہی پڑا ہوگا۔ البتہ جس طرح اوپر کی سطور میں گزارش کی ہے کہ اگر دور پرانا اور لیموں پر پڑی افتاد آج والی ہوتی تو’’لیموں نچوڑ‘‘ کو خود کسی کے پاس چلنے کی حاجت ہی نہیںتھی، بس سرائے کے ملازم کے ذریعے یہ خبر’’افواہ‘‘ کے طور پر اڑانے ہی کی دیر تھی، اس کے بعد مسافر قطار باندھے اپنے ساتھ کھانا’’تناول فرمانے‘‘ کی درخواستوں کے ساتھ حاضر ہوتے اور’’لیموں نچوڑ‘‘رعونت کے ساتھ کسی کی درخواست کو رد کرتا یا پھر درجہ قبولیت پر فائز کرتا، یہ اس کی مرضی تھی۔دراصل زبان کا چٹخارہ بہت ہی خراب چیز ہے اور انسان اسی چٹخارے کیلئے تو اور کئی چٹخاروںکا روگ پال لیتا ہے بہرحال بات لیموں کے چٹخارے تک ہی محدود رکھتے ہیں اور قدیم داستان کے کردار’’لیموں نچوڑ‘‘ کے قبضہ قدرت میں جتنے لیموں تھے انہی کی بدولت سرائے کے باقی مسافر زبان کے چٹخارے کیلئے مالک سرائے سے یہ گلہ بھی تو کر سکتے تھے یعنی داغ دہلوی کی روح سے انتہائی معذرت کے ساتھ کہ

تری محفل میں سبھی کچھ ہے’’یہ لیموں ہی نہیں‘‘

مجھ کو وہ خانہ خراب آج بہت یاد آیا

لیموں کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ آج وہ’’قدر‘‘ کے لحاظ سے جس اونچے سنگھاسن پر براجمان ہے باقی سب سبزیوں کو تو رکھئے ایک طرف ڈالر کو بھی چاروں شانے چت کرتے ہوئے بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے اور بے چارہ ڈالر پاکستانی لیموں کو حسرت سے تکتے تکتے کوشش کر رہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح لیموں تک پہنچ جائے لیکن موجودہ حالات میں وہ لیموں کی گرد تک بھی نہیں پہنچ پا رہا ۔ یعنی کہاں ڈالر147اور کہاں لیموں بادشاہ جو240پر کھڑا ڈالر کو للکار رہا ہے کہ کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگوتیلی۔ اسی لیئے تو کسی ستم ظریف نے سوشل میڈیا پر وزیر سائنس وٹیکنالوجی سے ایک تکنیکی مشورہ مانگا ہے کہ وزیر موصوف یہ بتائیں لیموں فی کلو240روپے ہے جبکہ کئی لیموئوں کی طاقت والا ڈش بار(برتن دھونے والاصابن) صرف پانچ روپے میں ملتا ہے تو کیا افطاری کے وقت لال شربت میں لیموں والا چٹخارہ پیدا کرنے کیلئے لیموں والے ڈش بار کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا کاٹ کر شامل کیا جا سکتا ہے ، اس سوال کا جواب کیا آتا ہے تھوڑا سا انتظار ضرور کرلینا چاہیئے کیونکہ ابھی وزیرموصوف اس اسلامیٍ ایپ کی تیاری میں مصروف ہیں جو عیدین،محرم اور دیگر اسلامی مہینوں کے حوالے سے چاند طلوع ہونے کا تعین کرے گا، اور انہوں نے پندرہ رمضان تک یہ ’’اسلامی کیلنڈر‘‘بنانے کا وعدہ کر رکھا ہے تاہم اگر انہوں نے اپنے’’سرکاری فیصلے‘‘ پر یوٹرن نہ لے لیا تو امید ہے لیمن بار والے معاملے کا جائزہ وہ اپنے اگلے منصوبے کا حصہ ضرور بنالیں گے۔اور اس حوالے سے وزارت سائنس وٹیکنالوجی کی لیبارٹری میں ریسرچ کا آغاز15رمضان کے بعد کسی بھی وقت کیا جا سکے گا لیکن ہمیں اس سوال سے ایک اور خوف لاحق ہوگیا ہے کہ جس طرح لیموں کو پر لگ چکے ہیں اور اس نے ڈالر کو بھی حقارت کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا ہے، یعنی پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتا ہے، اور لیموں کی اسی بلند پروازی کو دیکھ کر لیموں سے مزین ڈش بار بنانے والوں کو بھی ہوش نہ آجائے یعنی وہ موجودہ’’خواب غفلت‘‘ سے جاگ کر اپنے صابن کی قیمت پر’’لیموں ٹیکس‘‘کا اضافہ نہ کردیں۔ تب تک اگر وزیر سائنس وٹیکنالوجی نے لال شربت کو شکنجبین بنانے کیلئے لیمن بار کے استعمال کا جواب ہاں میں دے دیا تو غریب لوگوں کا کیا بنے گا،پھر وہ لیموں کی طاقت سے بھر پور ڈش بار سے برتن دھوئیں گے یا شکنجبین بنائیں گے؟ مزید کہنے کی گنجائش ہوتی تو ضرورکہتا مگر

ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے

سفینہ چاہیئے اس بحر بیکراں کیلئے

متعلقہ خبریں