Daily Mashriq

چور دروازہ کہانی کا کھلا لگتا ہے

چور دروازہ کہانی کا کھلا لگتا ہے

چلتے گھوڑے کو چابک مارنا کہاں کی عقلمندی ہے ۔ لیکن پی ٹی آئی کی حکومت میں ریاست کے چلتے گھوڑے کو چابک مارتے رہنے کی روش دیکھ کر کہنا پڑ رہا ہے کہ

بھاگتے گھوڑے کی راسیں کھینچنے سے فائدہ

ڈوبتے سورج کی کیا رفتار کم ہوجائے گی

آپ کہتے رہیں کسی کو چور کوئی فرق نہیں پڑتا چور کی صحت پر بلکہ اس سے وہ مزید تندرست و توانا ہونے لگتا ہے۔ آپ لاکھ ڈراتے رہیں چوروں کو جیل کی کال کوٹھڑیوں سے۔ ان کو معلوم ہے کہ ان کی جتنی خاطر مدارت جیلوں میں ہوتی ہے اور ان کی حفاظت کا جتنا خیال جیلوں کے اند رکھاجاتا ہے وہ جیل سے باہر ممکن نہیں ۔ جبھی تو چور ڈاکو لٹیرے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلے جانے سے نہیں گھبراتے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے آپ کو جیل کی سلاخوں سے باہر غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ ہم ایک بار انجمن بہبود اسیراں کا وفد لیکر سنٹرل جیل پشاور کے دورے پر گئے۔ اللہ مغفرت کرے پشاور کے مئیر آغہ سید علی شاہ اس تنظیم کے صدر تھے۔ ڈاکٹر سعید المجید جنرل سیکرٹری تھے اور راقم السطور کے پاس سیکرٹری اطلاعات کا قلم دان تھا۔ ہماری مجلس عاملہ میں بلدیہ پشاور کے کونسلروں کے علاوہ آئی بنک سوسائٹی کے بڑے نامور ماہرین امراض چشم بھی شامل تھے۔ جن کے تعاون سے ہم نے سنٹرل جیل پشاور کے احاطہ میں قیدیوں کے لئے آئی کیمپ لگانا تھا۔ جب ہم جیل کے مین گیٹ پر پہنچے تو ہمارا استقبال بڑے تپاک سے کیا گیا جیل سپرٹنڈنٹ انعام اللہ خان کے علاوہ ان کا چاق و چوبند باوردی دستہ ہمیں جیل کے صدر دروازے سے گارڈ آف آنر پیش کرتا بڑے پروٹوکول کے ساتھ جیل کی مختلف بارکوں کی سیر کرانے لگا۔ ہم نے بڑی بڑی مونچھوں والے بد معاشوں کو سر جھکائے قالین بنتے دیکھا۔ ہم نے سرخی دنداسہ لگائے بیٹھی خواتین قیدیوں کو بھی دیکھا ہم جیل کے پاگل خانے بھی گئے اور پھانسی کی کوٹھڑیوں میں بند قیدیوں سے بھی ملے۔ ہم نے شندی گل پھاٹک بھی دیکھا اور جیل سپرنٹنڈنٹ سے اس کی وجہ تسمیہ بھی پوچھی۔ لیکن ہم جو بات آپ کو بتانا چاہتے ہیں وہ ایسے قیدیوں کی ہے جو اپنی سزا پوری کرنے کے باوجود جیل چھوڑ کر جانا نہیں چاہتے تھے۔ ان سے ملاقات کرکے وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ یہاں ہم محفوظ زندگی گزار رہے ہیں اگر ہم جیل کی چاردیواری سے باہر نکال دئیے گئے تو ہماری جان کے دشمن ہمیں زندہ نہ چھوڑیں گے۔ ان کی یہ بات ہمیں عجیب لگ کر بھی عجیب نہ لگی کیونکہ جیل سے باہر زندگی گزارنے والوں میں ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں جو گلے میں پستول لٹکائے یا بندوق بردار سیکورٹی گارڈ کے بغیر اپنے گھر یا حجرے کی چار دیواری سے نکل کر چند قدم چلنے سے خوف کھاتے ہیں ۔ حال ہی کی بات ہے مولانا فضل الرحمان سے مبینہ طور پر سیکورٹی کی سہولت واپس لے لی گئی تو ہم نے انہیں جبہ و دستار پہنے با شرع سفید ریش مگر جدید تر آتشیں اسلحہ بردار علمائے کرام کے حصار میں کھنچوائی گئی ایک تصویر میں دیکھا جو پریس اور میڈیا میں وائرل ہوکر زبان حال سے کہہ رہی تھی کہ یوں رہا جا سکتا ہے زندہ سلامت جیل کی دیواروں سے باہر۔ باہر والے تو چور چور چور کا شور ڈال کر چھوٹے موٹے چور کو پکڑے جانے کے خوف سے بھاگ جانے پر مجبور کردیتے ہیں۔ اور بہت بڑا چور چوری اس لئے کرتا ہے کہ وہ جیل یاترا کرکے زیرو سے ہیرو بن سکے۔ چھوٹے موٹے چور کا ضمانت پر باہر نکلنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ لیکن بڑا چور چھ مہینے کی ضمانت پر جیل کی دیواروں سے نکل کر چوروں چکاروں کی اس دنیا میں اپنی سیاست چمکانے آسکتا ہے۔ میں نے باہر کی دنیا کو چوروں چکاروں کی دنیا کہہ دیا۔ کیونکہ جدھر دیکھتا ہوں مجھے وزیر اعظم پاکستان کی طرح اپنے سوا سب چور نظر آرہے ہیں ،کوئی آٹا چور ہے تو کوئی دال چور کوئی ناجائز منافع خوری کررہا ہے تو کوئی ذخیرہ اندوزی کے دھندے میں ملوث ہے۔ رشوت سفارش اقرباء پروری، ملاوٹ، کمزوروں کے حقوق پر ڈاکہ، قبضہ گروپ، منشیات کا دھندہ اور اس کی پشت پناہی، میں نے تو یہ سارا دھندہ وہاں بھی زور و شور سے چلتا دیکھا جو توہین عدالت کی ڈھال کے پیچھے اپنی دکانیں چلا رہے ہیں ۔ ہائے آہ کہ قانون کی حفاظت کرنے والے بھی چوروں کی حفاظت پر مامور نظر آرہے ہیں کہ اس کے بغیر ان کا جینا محال ہے۔ مجھے اپنے سر پر اٹھائے چوری کے گنج گراں مایہ کی آواز سنتا ہوں جو مجھے’’تم بھی تو چور ہو ‘‘کا طعنہ دے رہا ہے لیکن گنجے کو خدا ناخن نہ دے کے مصداق مجھے آج کی طرح اپنا سر کھجانے کا اختیارکب تھا جو ایسی بات کرسکتا۔ عمران خان کے ہاتھ میں چابک ہے وہ ریاست کے چلتے گھوڑے کو چابک مار کر اچھا نہیں کر رہے، ان کے سر پر بال ہیں وہ پھر بھی سر کھجانے سے باز نہیں آرہے ، ارے بھائی اس دیس میں چوری کرنا کوئی عیب نہیں کہ یہاں چوروں کے ہاتھ نہیں کاٹے جاتے ، یہاں تو بہت بڑے چور کی سند حاصل کرنے والے کو دلہا بنا کر اور اس کی قیمتی گاڑی پر منوں اور ٹنوں کے حساب سے گل پاشی کرکے جیل پہنچایا جاتا ہے۔ اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ جتنی آسائش اسے جیل کے اندر میسر ہے وہ چور مچائے شور بھری دنیا میں میسر نہیں۔ بڑے پروٹوکول کے ساتھ گیا تھا سنٹرل جیل کی سیر کرنے مگر دوسری بار جرم ناکردہ کی پاداش میں ہتھکڑی پہنا کر پہنچایا گیااس کہانی کو سنانے کا قرض بشرط زندگی میرے ذمہ واجب الادا ہے ۔ اور اب کی بارجو سچ کہنے کی پاداش میں جیل کی ہوا کھانی پڑی تو جانے کیا سلوک روا رکھا جائے گا آپ کے ذوق مطالعہ کی تواضع کرنے کے جرم ، یہ میں آپ سے پوچھتا ہوں ۔

سننے والے مرا قصہ تجھے کیا لگتا ہے

چور دروازہ کہانی کا کھلا لگتا ہے

متعلقہ خبریں