Daily Mashriq

ڈالر اور ڈاکٹر آپے سے باہر

ڈالر اور ڈاکٹر آپے سے باہر

پانچ سال خیبر پختونخوا میں حکومت کرنے کے بعد اب وفاق میں براجمان تحریک انصاف موٹروے بنانے سے زیادہ لوگوں کو صحت کی سہولیات دینے کا دعویٰ کرتی رہی ہے جنگلہ بس کی مخالفت کرتے کرتے بالاخر بی آرٹی بنانے کی ٹھان لی ، نہ تو ان سے یہ بی آرٹی ہی بن پا رہی ہے اور نہ ہی صحت کے شعبہ میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی لائی جاسکی، ایم ٹی آئی بنا کردرجنوں کے حساب سے پیراشوٹرزبھرتی کرکے بھی صحت کا قبلہ ان سے درست نہیں ہوپایاآئے روز ڈاکٹروں سے الجھائو رہتاہے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا تو دور کی بات ایک دوسرے کو سننے کو بھی روا نہیں بلکہ اب تو بات ہاتھاپائی سے آگے نکل کر تشددپر آگئی ہے۔کل تک تحریک انصاف کے لئے لڑنے والے نوجوان ڈاکٹر اب خود تحریک انصاف سے لڑرہے ہیں۔ تحریک اور انصاف کی اس لڑائی میں غریب عوام پس کر رہ گئے ہیں ۔علاج معالجہ تو پہلے بھی عوام کی پہنچ سے دور تھا اب مذید دور ہونے جارہا ہے۔ ملک عزیز کے غریب عوام پرائیویٹ کلینک کی بھاری بھرکم فیس نہ بھر سکنے کی صورت میں سرکاری ہسپتال میں جاکر بھرتی ہوجاتے ہیں۔لیکن ٹھہریئے سرکاری ہسپتال میںکون سا علاج ہورہا ہے بلکہ یہاں کی حالت بھی بہت پتلی ہے ۔پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال ہویاخیبر ٹیچنگ)شیرپائو(ہسپتال اور پشاور کے پوش علاقہ میں اربوں روپوں کے خرچ سے چلنے والا حیات آباد میڈیکل کمپلیکس سب کاحال ایک جیسا ہے جتنے بھی ماہر ڈاکٹر یاسپیشلسٹ ڈاکٹرہیں وہ اپنے دیگر کاموںمیں مصروف ہوتے ہیں ان کو اپنے پرائیویٹ کلینک کا زیادہ غم ہوتا ہے جبکہ سرکاری ہسپتال میں ان کی جگہ ان کے جونیئر بلکہ کئی دفعہ سٹوڈنٹس ٹی ایم او ان کی کرسی پر براجمان ہوکر مریضوں کی جان سے کھیل رہے ہوتے ہیں۔ پشاور کے سادہ لوح یا نواحی علاقوں سے آئے ہوئے بے چارے مریضوں کو توپتہ بھی نہیں ہورہا ہوتا کہ ان کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جارہاہے یہ سٹوڈنٹس پہلے ان کے ساتھ تجربے کرتے ہیںاور جب مرض زیادہ بڑھ جاتا ہے تو انہیں اپنے استاد محترم کے پرائیویٹ کلینک کی راہ دکھلاتے ہیں۔وہاں بھی ٹائوٹوں نے ڈیرے ڈالے ہیں پروفیسرڈاکٹر بھاری فیس لے کر اور کئی مہنگے ٹیسٹ کرنے کے بعد انہیں سرکاری ہسپتال میںہی داخل کروادیتے ہیں ۔ جنرل پرویزمشرف کے دورحکومت میں جب عبوری حکومت بنی تھی تب کے صوبائی وزیر صحت اورگورنرنے مل کر قانون نافذکیا تھا کہ سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے تمام سپیشلسٹ ڈاکٹروں کو پرائیویٹ کلینک کرنے سے بحکم سرکار منع کردیا گیا تھا اس پر ان نام نہاد مسیحائوںنے وہ انت مچائی کہ مریض تو بے چارے رل ہی گئے ان میں سے پشاور کے تمام سرکاری ہسپتالوں کے بڑے اور مشہور ڈاکٹروں نے سرکاری نوکری کو لات مارکر پرائیویٹ کلینک کا رخ کیا اور پہلے چاندی کماتے تھے اب سونا کمانے لگے۔پھرـ’’ جمہوری حکومتیں‘‘ آئیںاور پرائیویٹ کلینک کا دوبارہ سے اجازت نامہ مل گیا اور اب حالات پھر وہی ہیں۔ اگر تھوڑا آگے چلا جائے تو پشاور کے تینوں بڑے سرکاری ہسپتالوں پر سالانہ اربوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں ادویات اور مشینوں پر لیکن ادویات تو قسمت والوں کو ملتی ہیں اور اکثر پرچی ہاتھ میں لئے ساراسارا دن ایک دفتر سے دوسرے دفتر کے چکر ہی کاٹتے رہتے ہیں۔کچھ یہی حال ٹیسٹوںکا بھی ہے اور آئے روز میڈیکل کی مشینوں کی خرابی کا رونا رویا جاتا ہے اور ہسپتال میں مشین کے ہوتے ہوئے بھی باہرسے ٹیسٹ کروانے کا کہا جاتا ہے اس بارے میںبھی کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کے باہر اتنی زیادہ لبارٹریوںوالے ہسپتال کے عملہ سے ملے ہوتے ہیں اور جان بوجھ کر ہسپتال کی مشینوں کو یا تو خراب کیا جاتا ہے یا پھر یوں ہی ظاہر کیا جاتاہے یہاںآنے والے مریضوں کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ لبارٹری والوں نے اندر اپنے ٹائوٹ چھوڑے ہوئے ہیں جو انہیں گھیر گھار کراپنی لیبارٹری سے ٹیسٹ کروانے پر مجبور کرتے ہیں۔پشاورکے باسی تو اس بات سے بھی حیران ہیں کہ اتنے بڑے سرکاری ہسپتال کے باہر کئی درجن میڈیکل سٹوروں اور لیبارٹریوں کا کیا مطلب ہے ۔جب علاج ہسپتال سے کروانا ہے اور ہسپتال کے اندر ہر قسم کی سہولت مفت میسر ہے تو کوئی باہر کی غیرمعیاری اور غیرمستند لیبارٹریوںسے ٹیسٹ کیوں کروائے گا۔پشاورکے بڑے بجٹ کے بڑے سرکاری ہسپتال کم اورگھوڑوں کے اصطبل زیادہ لگتے ہیں۔یہاں علاج کے لئے آنے والا ٹھیک تو نہیں ہوتا البتہ کئی اور بیماریاں ساتھ لے کر جاتاہے۔سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ اب ان سرکاری ہسپتالوں میں بھی فیسیں بڑھا دی گئی ہیں اور اب بیس روپے کی پرچی پر کام نہیں چلے گا بلکہ جیب بھر کر آنا پڑے گا اوپر سے ڈاکٹرجو آپے سے باہر ہیں ان کو حکومت ہی کنٹرول کرسکتی ہے لیکن حکومت کس کس کو کنٹرول کرے ،

(باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں