Daily Mashriq

معا لجین کی ہڑتال‘ ملک و قوم بے حال

معا لجین کی ہڑتال‘ ملک و قوم بے حال

یہ بات تو کم و بیش ہر ذی شعور کو معلوم ہے کہ ڈاکٹر مسیحائے قوم کی حیثیت سے معاشرے کے ذہین ترین اور معزز ترین افراد ہوتے ہیں۔ اور یہی لوگ قوم کے جینئس اور ٹاپ کریم (عبقری اور نابغہ) کہلاتے ہیں۔ لیکن گزشتہ کئی برسوں سے وطن عزیز کے ہر صوبے میں اور پھر پورے ملک میں جب یہ حضرات اپنی کسی محکمانہ ترقی یا دیگر بعض ٹیکنیکل امور کے سبب ٹک سے ہڑتال کرلیتے ہیں اور دور د راز سے ہسپتالوں میں آئے مریض اور ان کے تیمار د ار ذلیل و خوار ہوتے ہوئے تڑپ رہے ہوتے ہیں تو آخر انسان سوچنے لگتا ہے کہ جب کسی معاشرے کے ذہین ترین لوگوں کے سینے میں دل دھڑکنا بند کردیتا ہے تو دیگر شعبوں کا کیا حال ہوگا۔معاشرے کو ڈاکٹروں سے بھاری فیسوں‘ ہسپتالوں کے بجائے پرائیویٹ کلینکوں کو بھرپور وقت اور توجہ دینے‘ ایک ماہر ڈاکٹر روزانہ کم از کم ایک سو پچاس مریضوں کو دیکھنے (معلوم نہیں کہ وہ ایک مریض کا معائنہ کرنے میں کتنے منٹ لگاتا ہوگا) اور د وائیوں کی کمپنیوں اور لیبارٹریوں سے کمیشن کے حصول اور اس طرح کے دیگر بہت سارے اخلاقی امور اور ڈاکٹروں کے ہاتھوں ان ہونی ہونے کے واقعات کو پس پشت ڈالتے ہوئے بہر حال لوگ آج بھی طوعاً و کرھاً ڈاکٹروں کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ پچھلے دنوں کے ٹی ایچ میں جو واقعہ ہوا اس کی تفصیلات میں جائے بغیر بحیثیت مجموعی حکومت‘ اطباء (ڈاکٹرز) اور معاشرے کے اخلاقی زوال کابولتا ثبوت ہے۔ پاکستان میں اس وت سرکاری محکموں کے ملازمین اور (افسران بالا) کا بالخصوص بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب نوکری اپنی مرضی کے مطابق اور کسی ضابطہ و قانون کو تسلیم کئے بغیر کرنے کے نشئیوں کی طرح عادی ہو چکے ہیں جبکہ عمران خان بے چارے کی کوشش ہے کہ اس ملک میں بھی کہیں تو کوئی سٹم بھی کام کرنا شروع کردے تاکہ حکومت اور معاشرے کے کل پرزے صحیح طور پر کام کر سکیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے روایات سے ہٹ کر جب کوئی قانون لایا جاتا ہے یا فرد جو سٹیٹس کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے اس کے خلاف اداروں میں موجود مافیا ایکا کرکے ناکام بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے۔ہر واقعے کی پشت پر کچھ حالات و واقعات ہوتے ہیں۔ ڈاکٹرز برادری کے حوالے سے موجودہ پر تشدد لہرکے پیچھے بھی لگتا ہے کہ کچھ افراد اور ان کے مفادات کا گہرا اثر ہے۔ اور دوسری طرف بعض افراد ایسے ہیں کہ جن کی انتہائی کوشش ہے کہ ہر کام ضابطہ و قانون کے مطابق ہو۔ ہمارے اداروں میں ایک بڑی مصیبت یہ ہے کہ بعض لوگ جو میرٹ اور اہلیت کے برعکس خاص افراد ہونے کے سبب اچھے عہدے پالیتے ہیں اور گزرتی عمر کے ساتھ سینئر بھی کہلانے لگتے ہیں لیکن اپنے عہدے اور سینیارٹی کے تقاضوں کو پورا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے اور معاملات بگڑنے لگتے ہیں کیونکہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ مچھلی سر کی طرف سے سڑنے لگتی ہے۔ پورا شعبہ بگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے۔ تب سربراہ مملکت بامر مجبوری آئوٹ آف د بکس فیصلے کرتا ہے۔ پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں کا گزشتہ دو ادوار میں جو حال رہا ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے عدالت سے علاج کے لئے ڈیڑھ ہفتہ مہلت حاصل کی لیکن پورے ملک میں شریف میڈیکل کمپلیکس کے علاوہ کوئی ایسا ہسپتال نہ تھا جہاں آپ کا تسلی بخش معائنہ کرایا جاسکتا۔ عمران خان کا گناہ یہ ہے کہ وہ وطن عزیز میں تعلیم اور صحت کے ادارں کو ترجیحی بنیادوں پر ٹھیک کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس اہم کام کی انجام دہی کے لئے روایات سے ہٹ کر کچھ فیصلے بھی کرتے ہیں اور یہی بات بہت سارے روایت پسندوں کو اچھی نہیں لگتی اور پھر حیلے بہانے اور مواقع تلاش کرکے حکومت اور نئے نظام کے خلاف غبار دل نکالنے کے لئے جو بھی بس میں آئے کر گزرتے ہیں۔ اس قسم کے واقعات کے پیچھے سیاست اور سیاسی جماعتوں کے بعض افراد کابھی اچھا بھلا ہاتھ ہوتا ہے۔ڈاکٹروں کے موجودہ واقعات کی پشت پر سنا ہے کہ کے ایم سی کے اصول پسند ڈین کی اصول پسندی کا بھی کردار ہے۔ اختلاف ہر کسی کے ساتھ ممکن ہے لیکن یہ بات شاید مخالفین بھی تسلیم کریں گے کہ ڈاکٹر نور الایمان ضابطہ و اصول کے پابند اور کام سے کام رکھنے والے انسان ہیں۔ انسان ہونے کے ناتے ان سے غلطیوں کا اصدار ممکن ہے لیکن کے ایم سی میں شاید ہی ایسا ڈین جو بذات خود گیٹ پر کھڑا ہو کر سٹاف و طلباء کے وقت پر آنے کا مشاہدہ کرتا ہو گزرا ہو اور اس کی ایک اور بڑی عجیب عادت یہ ہے کہ اہلیت اور کوائف کے مکمل ہوئے بغیر وہ کسی کو پروموشن لینے نہیں دیتا ‘ حالانکہ یار دوست اسے سمجھاتے بھی ہیں کہ پاکستان میں اتنا بے لچک ہونا کامیابی کا گر نہیں۔ لیکن بس اس کے خمیر میں یہ چیز ایسی رچ بس گئی ہے کہ

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش

میں زہر ہلا ہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

پختون معاشرے میں گھر آئے مہمانوں کی ہر حال میں خاطر و مدارت ہوتی ہے۔ اختلافات کے اظہار کے اور سو طریقے ہوسکتے ہیں۔ لیکن اپنے بڑوں پر وزیر صحت کی موجودگی میں ٹماٹر پھینکنا روایت شکنی کے علاوہ حکومت کی رٹ کو بھی چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن دوسری طرف اس بات پر ڈاکٹر پر ہاتھ اٹھانا اور زخمی کرنا یقینا قانون اور اخلاقیات کی شدید خلاف ورزی ہے۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں