تحریک انصاف کا مطالبہ درست نہیں

تحریک انصاف کا مطالبہ درست نہیں

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے قبل از وقت الیکشن کا مطالبہ اور اس ضمن میں دیگر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ قول وفعل کا ایسا تضاد ہے جسے سمجھنا مشکل نہیں اگر اس طرح کی کوئی پارٹی پالیسی تھی تو وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا اس ضمن میں مناسب فورم میں موقف تینوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے ہم آہنگ کیوں رہا۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی تحریک انصاف سے تعلق کی مضبوطی اور پارٹی پالیسی پر کار بند رہنا شکوک و شبہات سے بالاتر ہے۔ علاوہ ازیں تحریک انصاف اگر واقعی قبل از وقت انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے اور دیگر سیاسی جماعتیں اگر اس سے اتفاق نہ بھی کریں تو کیا تحریک انصاف قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہو کر دبائو بڑھانے کا حربہ استعمال کرے گی فی الوقت تو ایسا نظر نہیں آتا بلکہ مخالفین کی اس پھبتی کو برداشت کیاجا رہا ہے کہ جو لوگ مستعفی ہو کر اسمبلیوں میں واپس آجائیں ان کے اس قسم کے دعوئوں اور تاثر کا کیسے یقین کیا جائے یا پھر مخالفن کی زبان میں کہ پہلے ویر اعلیٰ پرویز خٹک سے تو رائے لیں اس قسم کی رائے کو مخالفین کی رائے قرار دے کر صرف نظر کی تو گنجائش ہے لیکن ان سوالات میں موجود وزن کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس امر کا درست اندازہ لگانا مشکل ہو رہا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اس قسم کا مطالبہ کسی دبائو کے طور پر کر رہی ہے یا پھر وہ اس ضمن میں سنجیدہ ہے۔ اگر اس میں سنجیدگی کا عنصر موجود ہے تو پھر اس سے پی ٹی آئی کو حاصل کیا ہوگا کیا اس طرح سے ریپڈ بس منصوبہ ادھورا نہیں رہ جائے گا جو پی ٹی آئی کی حکومت کے دفتر کا شاندار ورق کہلانے جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں جو منصوبے جاری ہیں ان کی عدم تکمیل سے کیا لوگ تحریک انصاف سے نالاں نہیں ہوں گے۔ کوئی سیاسی جماعت آخر کیوں وقت سے پہلے انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کرے گی وہ خود بھی اپنا مینڈیٹ قربان کرنے اور دوسروں کے مینڈیٹ کی مدت پوری نہ ہونے کی خواہاں کیوں ہوگی۔ تحریک انصاف کی قیادت کو سینٹ میں مسلم لیگ کو غلبہ حاصل کرنے کے موقع کو نا ممکن بنانے کے لئے کوئی بھی قیمت ادا کرنے پر تیار ہونے کی بجائے آئندہ انتخابات کے بروقت انعقاد اور اس میں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی تیاری کرنی چاہئے۔ مثبت امر یہ ہے کہ تحریک انصاف اس مطالبے کے لئے دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی سعی کرنے والی ہے۔ اس دوران اس کو اس امر کا احساس ہونا یقینی ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت قبل از وقت انتخابات کے حق میں نہیں اور دستور کے مطابق جس سیاسی جماعت کا جو حق ہے وہ اسے ملنا چاہئے اور اسے ملنے دینا چاہئے تاکہ مینڈیٹ چھین لئے جانے کی روایت کااعادہ نہ ہو۔
اضافی کنکشن‘ گیس کی لوڈشیڈنگ کی بڑی وجہ
سردی ابھی آئی نہیں اور موسم سرما کی پہلی بارش کے ساتھ پشاور کے کئی علاقوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ کا شروع ہونا معمول بن گیا ہے۔ کینٹ‘ حیات آباد اور گلبہار سمیت پورے شہر میں یا تو صارفین کو گیس کے کم پریشر کی مشکل کا سامنا ہے یا پھر گیس سرے سے آتی ہی نہیں صبح و شام کے اوقات میں گیس کا مسئلہ زیادہ گمبھیر ہو رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ سیاسی بنیادوں پر گیس کنکشنز کی فراہمی قرار دیا جارہا ہے یہ دیکھے بغیر کہ مقررہ پریشر اور موجودہ قطر کی پائپ اور لائنوں میں توسیع کی گنجائش کتنی تھی اور کتنے کنکشنز کی گنجائش موجود ہے۔ وفاقی اور مرکزی د ونوں حکومتوں کے قائدین کو اس امر کا تو کوئی احساس نہیں کہ ان کا سیاسی بنیادوں پر گیس کنکنشز دینے سے پہلے سے موجود صارفین کو گیس کی فراہمی اور پریشر پر کیا اثر پڑے گا۔ ان کے اس عاجلانہ اقدام کے باعث پہلے سے موجود صارفین کو بھی اب گیس پریشر کی کمی کی مشکلات کا سامنا ہے اور جن کو نئے کنکشنز دئیے گئے ہیں ان کی ضرورت بھی پوری نہیں ہو رہی ہے۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک سوئی ناردرن گیس کمپنی کے مقامی سربراہ کو ان کی اعلیٰ خدمات پر شیلڈ دینے اور ان کی تعریف میں رطب اللسان ہونے کا حق تو رکھتے ہیں مگر وہ اس موقع پر اگر ان سے طلب و رسد کے بنیادی اصول بارے بھی استفسار کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ اسی طرح وزیر اعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام کو بھی اس امر کا جائزہ لینا چاہئے کہ سیاسی مقاصد کے تحت ان کے اقدامات سے عوام پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اسی طرح کی صورتحال رہی تو لوگوں کے پاس عدالت جا کر ایک مرتبہ پھر گیس کنکشنز کے خلاف سٹے آرڈر لینے کے علاوہ کوئی چارہ کار باقی نہیں رہے گا۔متعلقہ حکام کے لئے بہتر یہ ہوگا کہ وہ سیاسی عناصر کی خوش آمد کرکے ایک انار سو بیمار کے مصداق کام کرنے کی بجائے مواقع پیدا کرکے اس کے مطابق کنکنشز کی فراہمی کریں تاکہ عوام کو بجلی کے بعد گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اداریہ