Daily Mashriq


یہ ان کہی نہیں

یہ ان کہی نہیں

پاک سرزمین پا رٹی کے سربراہ مصطفی کما ل کے اس اکتشاف کے بعد کہ ان کا اور فاروق ستار کا ملا پ رینجر ز کے ہیڈکو ارٹر میں کر ایا گیا تھا ، یا ر لو گو ں نے اس پر بغلیں بجا نا شروع کر دی ہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں جو کہا کر تے تھے وہ ازخود عیا ں ہو گیا ، اسٹیبلشمنٹ کے کر دار کا تو اس وقت ہی انکشاف ہو چکا تھاجب قائد اعظمؒنے پا کستان کے سابق صدر ایو ب خان کو مشرقی پاکستان کا بریگیڈئیر ہیڈکوارٹر بنا کر مشرقی پاکستان بھیجاتھا ان کے تقرر نا مہ پر درج کیا گیا تھا کہ اس افسر پر نظر رکھی جا ئے کیوں کہ یہ افسر سیا ست میں گہر ی دلچسپی رکھتا ہے ۔ گویا اسٹیبلشمنٹ شروع دن سے سیا سی رجحا ن رکھتی چلی آرہی ہے ، بعد ازاں اس کے خد خال راولپنڈی ساز ش کیس سے عیا ں ہو چلے تھے ، جن طور طریقوں سے ایوب خان کے ما رشل لاء لاگو کرنے سے پہلے سول حکومتیں ٹوٹتی بنتی رہی ہیں وہ سب عیا ں ہے۔ اگر پاکستان کی تاریخ کا جا ئزہ لیا جائے تو ان ستر سالوں میں طویل حکمر انی دور اسٹیبلشمنٹ کے آمر و ں کا ہے جن کی پشت پناہی عدلیہ کے ذریعے ہو ئی جسٹس منیر کا جو کر دار رہا کہ انہوں نے جمہو ری حکومت برطرف کرنے اور قومی اسمبلی توڑنے کے حق میں نظریہ ضرورت ایجا د کر کے فیصلہ دے کر پاکستان کے استحکا م کو لر زا دیا جس کے جھٹکے ابھی تک محسوس ہو رہے ہیں اگر وہ سابق چیف جسٹس افتخار چودھر ی جیسا کر دار ادا کر جا تے تو یہ دن پاکستان کے عوام کو آج نہ بھگتنا پڑتے۔ افتخار چودھر ی کے بارے میں آج جو اچھا برا سوچا جا رہا ہے وہ بحث طلب بھی ہے اور الگ سے کہا نی بھی ہے مگر ایک بات قرطاس ابیض پر ہے کہ سابق چیف جسٹس نے ایک فوجی آمر کے آگے سر نہیں جھکا یا ، حالانکہ اسی عدالت نے آئین کو تو ڑنے مو ڑنے کا پر وانہ ازخود پرویزمشرف کو تھمایا تھا ۔ اب یہ کہا جا تا ہے کہ جب بجلی عدلیہ پر گری تو تما م آئینی و قانو نی راستے یاد آگئے۔ کوئی بات نہیں اگر صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آئے تو وہ بھولا نہیں کہلا تا۔ وکلا ء نے افتخار چودھری کی برطر فی پر مثالی کر دار ادا کیا وہ بھی تاریخ کا سنہر ی با ب بن گیا ہے اور افتخار چودھری کا ڈٹ جانا بھی آئندہ نسلوں کے لیے مثال قائم کر گیا ہے۔

اب پنجا ب کے وزیرقانو ن رانا ثنا ء اللہ فر ما تے ہیںکہ مصطفی کما ل اور فارق ستا ر نے اسٹیبلشمنٹ کی حقیقت بیان کر دی ہے۔ کیا ایوب خان کی کہانی اسٹیبلشمنٹ کی کہا نی نہیں تھی ، کیا پہلے سکند ر مر زا ااور پھر ایوب خان کی وزارت میں بھٹومر حوم کا شامل ہونا اسٹیبلشمنٹ کی کہا نی نہ تھی ۔ جنرل پیرزادہ ، جنرل عمر ، جنرل حسن گل اور جنرل یحیٰ کے ساتھ دھما ل بھٹو نے مل کر کیے تھے وہ کس کا قصہ تھا۔ جنرل یحییٰ خان نے جس انداز سے ایوب خان سے اقتدار ہتھیایا وہ کس کا افسانہ تھا۔ اب جو مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلا س سے تقریبا ًاٹہتر ارکا ن اسمبلی غیر حاضر رہے بعد میں سولہ ارکان اجلا س میں شریک ہوئے وہ بھی منت ترلوں کے بعد یہ غیر حاضری کس کی مر ہون منت ہے رانا صاحب ہی بتا سکتے ہیں البتہ لا ل حویلی کے شیخو کی پیش گوئیاں سچ ہوتی نظر آرہی ہیں۔ اتنی بڑی ارکا ن پارلیمنٹ مسلم لیگ ن کی غیر حا ضر ی لال حویلی کے لا لو کی سچائیوں کی صداقت کی طرف جا رہی ہیں کہ مسلم لیگ ن کے لیے خطر یکی گھنٹی بجا دی گئی ہے۔ اب مسلم لیگ ن کا سینٹ میں بھاری اکثریت حاصل کرنا خواب بن جا ئے گا کیوں کہ جو کچھ بھی ہونا ہے وہ سینٹ کے انتخابات سے پہلے ہو کر رہے گا ۔بل منظوری کے موقع پر جو مسلم لیگ ن کے ارکا ن غیر حاضر رہے وہ تو اپنی جگہ تاہم کئی سینئر ارکان اسمبلی جن میں سابق وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی ، اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ او رجمعیت العلمائے اسلا م کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی غیر حاضر رہے ، ویسے غیر حاضررہنے والو ں میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمر ان خان بھی شامل تھے مگر ان کا ذکر اس لیے اہم نہیں ہے کہ وہ اسمبلی میں تو نظر ہی نہیں آتے سڑکو ں پر سیا سی مٹر گشت کرتے پھر تے ہیں۔ شاید ان کے دل میں سمایاں ہو ا ہے کہ وہ اسمبلی میں وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا نے ہی تام جھا م سے جائیں گے۔

دیکھیں ان کے دل میں ایسی جو خواہش اسٹیبلش ہو ئی ہے کبھی بر آتی ہے یا نہیں۔ رانا ثنا ء اللہ تو ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کر تے رہتے ہیں۔ اب تو وہ یہ کہنے لگے ہیں کہ ثابت ہو گیا ہے کہ عمر ان خان اسٹیبلشمنٹ کا مہر ہ ہے۔ بہت دیر سے ثابت ہواہے حالانکہ عمر ان خان نے تو تین سال پہلے ہی امپائر کی انگلی کا ذکر کر کے انکشاف خود کر دیا تھا ۔ اسٹیبلشمنٹ کے اور بھی مہر ے ہیں خود نو از شریف کے بارے میںبھی لوگ یہ رائے رکھتے ہیں کہ ان کو سیا ست میں سابق آئی ایس آئی چیف جنرل غلا م جیلانی لائے اور پنجا ب کے خزانے کا قلمدان ان کے سپر د کردیا تھا اب رانا ثناء اللہ خان فرما تے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے زیر سایہ بننے والی جماعتیں زیادہ دیر نہیں چلتیں ۔ مگر مسلم لیگ ن تو دھڑے سے چل رہی ہے۔ یہ بھی جنرل ضیا ء الحق کی مر ہنو ن منت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جنرل پر ویز مشرف کے ایک آئینی اور قانو نی حکومت پر شب خون ما رنے سے کٹ گئی اور ایسااعزاز مسلم لیگ ق کو ملا ، اگر مسلم لیگ ق کا حشر دیکھا جا ئے تو رانا ثنا ء اللہ کی با ت جچتی ہے تاہم یا د رہے کہ ری پبلکن پا رٹی بھی انہی کی دین تھی مگر وہ بھی بے آواز چھکڑا ثابت ہوئی۔ اس کانا م بھی دنیا سے تو مٹ گیا مگر تاریخ میں اب بھی محدب عدسہ کے ذریعے تلا ش کیا جا تا ہے ۔

ما ضی میں ایسی کھٹ پٹ ، الٹ پلٹ کے تجربے بہت ہو چکے ہیں مگر اس کا فائدہ ملک یا قوم کو کبھی نہیں پہنچا ۔ اس لیے اکثر وبیشتر آوازیںاٹھتی رہتی ہیں کہ اداروں کو اپنے دائر ہ کا ر میں رہنا چاہیے ، ادارو ں سے ٹکر انا نہیں چاہیے ، پہلی بات تو درست ہے تما م اداروں کو اپنے دائرہ کا ر کا پابند ہونا چاہیے ، دوسری بات سے کلی اتفاق نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ اداروں سے ٹکرانے کی بات غلط ہے بلکہ یہ مو ٹو ہونا چاہیے کہ ادارے ٹکر نہ لیںجو ان کے فرائض ہیںاسی جانب اپنا دھیان رکھیں۔ یہ ہی ملک کے مفادکا تقاضا ہے۔

متعلقہ خبریں