Daily Mashriq


جناب نواز شریف کے شکوے

جناب نواز شریف کے شکوے

جناب نواز شریف کہتے ہیں ملک میں انصاف کا دوہرا معیار ہے ہمارے ساتھ ایک طرح کا برتائو جبکہ عمران خان کے ساتھ دوسری طرح کا۔ یہ بھی کہا ایک عدالتی مفرور تین سال تک دندناتا پھرتا رہا کسی نے گرفتار نہیں کیا۔ ( ان کا اشارہ عمران خان کی طرف تھا) کیا جان کی امان ملے تو سابق وزیر اعظم سے پوچھ لیا جائے کہ بندہ پرور جن تین سالوں کے دوران ایک عدالتی مفرور دندناتا پھرا حکومت کس کی تھی اور اب بھی حکومت کس کی؟ کسی نے حکومت کو ملکی قوانین پر عمل کرنے سے روکا تھا‘ روکا تھا تو وہ کون ہے۔ شخص یا ادارہ؟ نام لیجئے کہانیاں مت سنائیے۔ یہ بحث نہیں کہ ان پر مقدمات (نواز شریف پر) درست ہیں یا غلط البتہ مکرر ان کی خدمت میں عرض ہے کہ جس نظام انصاف اور جن عدالتوں پر وہ اور ان کی صاحبزادی گرج برس رہے ہیں یہ عالی جناب کا ہی انتخاب ہے۔ آگے بڑھنے سے قبل عرض کروں کہ کل قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا ’’ انصاف دینے والوں نے آئین بنانے والوں کے ساتھ نا انصافی کی‘‘۔ کیا جگر پیٹنے میں کوئی کسر رہ گئی ہے اب۔ جناب نواز شریف جن حالات کا شکار ہیں یہ خود ان کے پیدا کردہ ہیں۔ ان کی ساری سیاسی زندگی کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب کے کسی ورق کو الٹنے کی ضرورت نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ خود کو قانون سے ماوراء سمجھتے ہیں۔ ان کے انداز حکمرانی کو دیکھ لیجئے۔ ہمیشہ بادشاہوں کے بادشاہ کا سا انداز اپنایا۔ انہیں زعم ہے کہ ان کے سوا ہر شخص دوغلے پن کا شکار ہے۔ ایک پل میں اسٹیبلشمنٹ سے لڑنے کا عندیہ دیتے ہیں دوسرے پل میں چند پیاروں کے ذریعے پچھلے دروازے سے مذاکرات بھی کرتے ہیں۔ جس جمہور اور جمہوریت کی وہ بات کرتے ہیں دونوں کی ان کے ذاتی دور میں کوئی حیثیت تھی نا اب ہے۔ طبقاتی نظام کے مجاوروں کا المیہ یہی ہے کہ وہ خود کو نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ دیکھا جائے تو ان سے سپریم کورٹ نے جو رعایت کی وہ ستر سال میں کس شخص کو نہیں ملی یہاں تک کہ 1973ء کے دستور کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کو بھی نہیں۔

ٹھنڈے دل سے وہ اپنے دو پچھلے اور حالیہ دور اقتدار کا تجزیہ کرکے دیکھ لیں۔ ان کے ساتھ وہ سلوک نہیں ہوا جو محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہوا تھا( ویسا سلوک ہونا بھی نہیں چاہئے)آخر وہ کب تک اس حقیقت سے منہ موڑتے رہیں گے۔ انہوں نے اپنے سمدھی اسحاق ڈار کے ذریعے منی لانڈرنگ کی۔سن دو ہزار کے دسمبر میں جب وہ معافی کے عوض 10سالہ معاہدہ جلا وطنی لے کر خاندان کے ہمراہ ملک چھوڑ رہے تھے تو معافی نامے کے عوض ان پر قائم بہت سارے مقدمات ختم ہوئے۔ کیا یہ بھی غلط ہے کہ انہوں نے اتفاق فونڈری پر قرضے کے عوض لاہور ماڈل ٹائون والی جائیداد سرنڈر کی مگر قرضہ ادا کئے بغیر2008ء میں اس کا قبضہ لیا لیکن نیشنل بنک سے اس قرضے کی ادائیگی کا این او سی 2014ء میں لیا؟ چند اور مثالیں اور گھٹالے بطور حوالہ پیش کئے جاسکتے ہیں مگر کچھ لیگی دوستوں کا شکوہ ہے کہ آپ نون لیگ سے انصاف نہیں کرتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود نو ن لیگ نے بھی کبھی کسی سے انصاف نہیں کیا۔ میاں صاحب اور ان کی صاحبزادی تو آج شاہوں والے پروٹوکول کے ساتھ عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں ان کے پچھلے اور پہلے ادوار میں محترمہ بے نظیر بھٹو بچوں کی انگلیاں تھامے شہر شہر کی احتساب عدالتوں میں دھکے کھاتی تھیں۔ چشم فلک نے یہ بھی دیکھا کہ 9 بجے صبح محترمہ بے نظیر بھٹو اسلام آباد میں پیش ہوئیں اور 3بجے دوپہر کراچی کی احتساب عدالت میں ۔ میاں صاحب بھولے بادشاہ ہیں ان کا معافی نامہ معاہدہ جلا وطنی دونوں حلال ہیں کیونکہ ان کا تعلق لاہور سے ہے۔ وہ پنجابی ہیںعدالتوں اور اداروں کو جو جی میں آئے کہتے رہیں کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

صاف سیدھی بات یہ ہے کہ شکوہ تو چھوٹے صوبوں اور چھوٹی اقوام کو کرنا چاہئے خصوصاً سندھیوں کو جنہوں نے اپنے صوبے کے تین وزیر اعظم تابوت میں وصول کئے۔ جونیجو صاحب بھی نیم تابوت والی حالت میں لوٹے تھے۔ مان لیتے ہیں میاں صاحب نے رتی برابر بھی کرپشن نہیں کی سارے مقدمات جھوٹے ہیں مگر وہ اپنے سمدھی اسحاق ڈار کے بیان حلفی کو کہاں لے جائیں گے۔ یہ ایسا بد قسمت ملک ہے کہ اس کے لیڈر نواز شریف نے پورا جاتی امراء سرکاری خرچے پر تعمیر کیا اور حاجی روح اللہ بنے پھرتے ہیں۔ کرپشن کی تازہ مثال یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ذاتی رہائش گاہ ماڈل ٹائون میں ہے اور اسی گھر کو وزیر اعلیٰ ہائوس کا 9 سال سے درجہ حاصل ہے لیکن اب جاتی امراء کو وزیر اعلیٰ ہائوس قرار دے دیاگیا ہے۔ محض تحفظ و سیکورٹی اور سرکاری مراعات کے لئے یعنی جو لوگ ایک چوکیدار کی تنخواہ پلے سے دینے کے لئے تیار نہیں وہ ہمیں امانت و دیانت کے بھاشن دیتے ہیں۔ نواز شریف اپنی ہی بحال کروائی عدلیہ سے اس وقت تو خوش تھے جب فیصلے دوسروں کے خلاف آتے تھے۔ اب وہ ہر بات میں کیڑے نکالتے ہیں۔ ان کے بیٹے برطانوی شہری ہیں محفوظ اثاثے بیرون ملک ہیں یہاں تو وہ صرف حکومت کرنے آتے ہیں۔ اس معاملے میں ہمارے دوست عمران خان بھی ان جیسے ہیں ان کے بچے بھی برطانوی شہری ہیں۔ خیر عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ میاں صاحب نے جو بویا وہی کاٹ رہے ہیں شکوے اور رونا بنتا نہیں ان کا۔

متعلقہ خبریں