Daily Mashriq

کیا یہ معاملہ اتنا ہی ہے؟؟

کیا یہ معاملہ اتنا ہی ہے؟؟

یہ ایک بہت ہی جذباتی مسئلہ ہے شاید ہم میں سے اکثریت اس حوالے سے بات بھی نہیں کر رہی۔ وہ لوگ جو راولپنڈی اسلام آباد میں رہ رہے ہیں‘ ٹریفک کے ہنگام میں الجھ کر کئی کئی گھنٹوں کی تاخیر سے اپنے گھروں کو پہنچ رہے ہیں وہ شدید الجھن کا شکار ہیں لیکن کیا معاملہ اس قدر سادہ اور سامنے کا ہے کہ یہ الجھن اہم ہو جائے۔ ہم بار بار یہ سوال کرتے ہیں اور پھر خاموش ہو جاتے ہیں کیونکہ جہاں آقائے دو جہاں حضرت محمدؐ کی ہستی کی بات آجائے مسلمانوں کے جذبات بے قابو ہونے لگتے ہیں۔ اس وقت اسلام آباد اور راولپنڈی میں جو کچھ ہو رہا ہے لوگ اسی لئے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ رہے لیکن اب اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ایک حکمنامہ جاری ہوا ہے اور پولیس کو صبح دس بجے تک کا وقت دے دیاگیا ہے۔ آپ لوگ جس وقت یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے اس وقت تک بے شمار وقت گزر چکا ہوگا۔ حالات و واقعات نے کچھ کی کچھ صورت اختیار کرلی ہوگی۔ یہ خوف بھی ذہنوں میں موجود ہے کہ اپنے عقائد میں پختہ لوگ جان کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے اور میں نے یہ بھی سنا ہے کہ انہی میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنا کفن ساتھ لے کر آئے ہیں۔ ناموس رسالتؐ پر قربان ہوجانا ہر مسلمان اپنے لئے باعث فخر سمجھتا ہے۔ یہ اس کے لئے مسلمانی کی معراج ہے کہ وہ اپنے نبی‘ اپنے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نام پر اپنی جان وار دے۔
ہمیں سے کئی لوگ ایسے ہیں جو اس ساری صورتحال میں کوئی سیاسی رنگ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں شاید معاملات کی اصل حقیقت سیاست کی مٹی میں سے ہی پھوٹتی دکھائی دیتی ہے۔ اس میں بھی دو مختلف آراء کے لوگ ہیں۔ ایک وہ ہیں جن کا خیال ہے کہ توہین رسالت کے حوالے سے یہ جذباتی لوگ کسی کے کہنے پر یوں اٹھ آئے ہیں اور در پردہ مقاصد میں کسی ایک کی سیاسی حمایت کے لئے راہ ہموار کرنا ہے۔ کبھی ایک جانب سے ایجنسیوں کا نام سنائی دیتا ہے۔ فوج کی جانب بھی انگلی اٹھتی ہے اور میاں شہباز شریف کے زاہد حامد کے حوالے سے حالیہ بیان سے بھی کئی جانب سے ہوتی ان باتوں کو تقویت ملتی ہے۔ لیکن یہ ساری باتیں صرف باتیں ہیں ان کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی ثبوت میرے پاس موجود نہیں۔ پھر میرے جیسے لوگ معاملات میں پیچیدگیاں دیکھنے کی اہلیت تو شاید رکھتے ہوں لیکن بہت سے معاملات ایسے بھی ہیں جن کے حوالے سے ایک عام سا مسلمان بھی معاملات کو صرف ایک حوالے کے علاوہ دیکھنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔
توہین رسالتؐ کے قانون کامعاملہ کوئی آج کا مسئلہ نہیں اس میں بین الاقوامی قوتوں کی موجودگی اور ان کی توجہ بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات اقدس سے محبت اور عقیدت جس قدر ہمارے عقیدے ‘ ہمارے تشخص کی بنیاد ہے اس سے ہمارے دشمن ہم سے زیادہ واقف ہیں اور وہ بار بار اس اساس کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح کسی نہ کسی حد تک اس بات کو زک پہنچائی جاسکے۔
مجھے تاریخیں درست یاد نہیں رہتیں لیکن اگر میں غلطی نہیں کر رہی تو 1994ء میں اقبال حیدر جب وفاقی وزیر قانون تھے اس وقت بھی ایسی ایک کوشش ہوئی تھی۔ اقبال حیدر اپنے بیانات کے حوالے سے کمال شخصیت رکھتے تھے۔ مجھے یاد ہے میری کالم نویسی کے ابتدائی سالوں کی بات ہے اقبال حیدر نے ساری کائنات کو موسیقی کی لے پر رقصاں بھی قرار دے دیا تھا۔ انہی دنوں میں اقبال حیدر نے آئیر لینڈ کے ایک دورے میں یہ بیان دیا تھا کہ کابینہ توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کے لئے تیار ہے یا شاید منظوری دے چکی ہے۔ اگر میں من و عن بیان درج نہ کرسکوں تو پہلے سے معافی چاہتی ہوں کیونکہ اتنے سالوں بعد باتیں بالکل درست یاد رہنا ممکن نہیں۔ بہر حال اس بیان میں کچھ ذکر اس بات کا تھا کہ اس ترمیم کے نتیجے میں توہین رسالت کے جرم کو ناقابل دست اندازی پولیس بنا دیا جانا تھا۔ اس ترمیم کے نتیجے میں توہین رسالت کا مقدمہ ثابت نہ کرسکنے والے مدعی کو دس سال قید کی سزا بھی سنائی جاسکتی تھی۔ اس ساری صورتحال پر خاصا شور و غوغا بھی اٹھا تھا اور بعد میں آئین کی دفعہ295سی ت پ کی ترمیم کے حوالے سے بھی خاصا شور و غل رہا۔ یہ الگ بات ہے کہ لوگوں کے بروقت احتجاج اور شدید رد عمل کے باعث ترمیم نہ کی جاسکی۔ لیکن بات یہیں تک محدود نہیں تھی صرف اسی حد تک کوششیں نہیں کی جاتی رہیں۔ ایک افواہ تو میاں نواز شریف کے ہی حوالے سے اس حد تک بھی گردش میں رہی کہ میاں صاحب ایک زمانے میں اس قانون میں کچھ ترامیم کے حوالے سے کوشش کرتے رہے لیکن کابینہ نے مان کر نہ دیا۔ میاں صاحب کا خیال تھا کہ شاید اس طرح ملک کے قرضے معاف کرانے کی کوشش بھی کی جاسکتی ہے۔ اس بات میں کس قدر سچائی ہے میں نہیں جانتی لیکن اب تو بے شمار باتیں سننے میں آرہی ہیں جن کے حوالے سے اب درست اور غلط کی تحقیق کرنا بھی ممکن نہیں۔ یہ معاملات اتنے سادہ نہیں اور یہ بھی جان لینا ضروری ہے کہ توہین رسالت کے معاملے کو انکار رسالت کے ساتھ منسلک کرکے معاملے کو الجھانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ یہ درست ہے کہ دین میں جبر نہیں لیکن توہین رسالت کے حوالے سے کعب بن اشرف کا واقعہ زیر غور رہتا ہے اور اس کے ذریعے سزا کا تعین بھی کیاجاتا ہے۔ اسلام فرد کے حق کو تسلیم کرتا ہے ‘ غیر مسلم کے حق کو تسلیم کرتا ہے لیکن توہین رسالت کی اجازت کسی کو نہیں دیتا اور اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ اپنی سمت درست کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ معاملہ تو جانے کیا صورت اختیار کرے لیکن کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ ایک وزیر کی وزارت زیادہ اہم ہے یا اپنی بنیاد کی حفاظت‘ جب یہ بات طے ہو جائے تو باقی معاملات از خود درست ہوجائیں گے۔

اداریہ