Daily Mashriq


مشترکہ مفادات کونسل کے صائب فیصلے

مشترکہ مفادات کونسل کے صائب فیصلے

مشترکہ مفادات کونسل ایک آئینی ادارہ ہے۔1973 ء کے آئین کی روسے اس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ پاکستان ایک وفاق ہے۔صوبوں اور وفاق کے مابین مسائل کو اس آئینی ادارے کے ذریعے حل کیا جاتا ہے۔ 2017 ء میں چھٹی مردم شماری کے اعداد وشمار پرصوبہ سندھ کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ۔تقریباً 20سال کے بعد مردم شماری کے نتیجے میں اعداد وشمار میں کافی فرق نظر آیا۔جس کو شک کی نظروں سے دیکھا جانے لگا۔مردم شماری کے نتیجے میں نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت پیش آئی۔جب تک حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست جاری نہیں کی جاتی تو انتخابات نہیں ہوسکتے۔اس لئے یہ مسئلہ شدت اختیار کیا گیا اور صوبوں کے مطالبے پر یہ مسئلہ زور پکڑ گیا ۔حکومت نے معاملے کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے عقل و دانش کا فیصلہ کرتے ہوئے مسئلے کو مشترکہ مفادات کونسل کی میز پر رکھ دیا۔مشترکہ مفادات کونسل میں چاروں صوبوں کے اپنے اپنے نمائندے موجود ہوتے ہیں۔اس لئے جو بھی فیصلہ ہوتا ہے اتفاق رائے سے کیا جاتا ہے۔اس لئے حکومت نے صوبوں کے مطالبات کو منظور کرتے ہوئے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلایا ۔پیر کے روز وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا۔جس میں صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف ،صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ،صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ خان زہری ،صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک ، وزیر داخلہ احسن اقبال ،وزیر صوبائی رابطہ ریاض حسین پیر زادہ اور وزیر قانون زاہد حامد نے شرکت کی۔صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اپنے صوبے کے تحفظات کے بارے میں کونسل کو آگاہ کیا ۔کونسل نے نہایت ہی مثبت انداز میں اُن کے مطالبات کو سنا اور کافی بحث و مباحثے کے بعد اس پر اتفاق ہوا کہ ساری مردم شماری کو دوبارہ نہیں کیا جاسکتا۔البتہ ایک فیصد مردم شماری کو اُن کی خواہش کے مطابق دوبارہ کیا جاسکتا ہے۔2017 ء میں کل ایک لاکھ پچاس ہزار بلاکس میں مردم شماری کی گئی تھی۔ایک فی صد کا مطالبہ ماننے کا مقصد یہ ہے کہ اس حساب سے 1680بلاکس میں دوبارہ مردم شماری کی جائیگی۔اس فیصلے سے صوبہ سندھ کے نمائندے نے اتفاق کیا اور یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہوا۔جس سے حلقہ بندیوں کی تقسیم میں آسانی ہو جائے گی اور انتخابات میں تاخیر کے خطرات ٹل جائینگے۔اس اجلاس میں کافی فیصلے کئے گئے ۔لیکن سب سے اہم فیصلہ پیپلز پارٹی کی جانب سے اُن کے مطالبات ماننے کے بعد پارلیمنٹ میں نئی حلقہ بندیوں کیلئے آئینی بل 2017 ء کی حمایت ہے۔جس سے سارا عمل بروقت مکمل ہونے کا ضامن ہو سکتا ہے۔پنجاب جو سب سے بڑی آبادی والا صوبہ ہے۔2017 ء میں ہونے والی چھٹی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی از سر نو حلقہ بندیوں سے تعداد میں کمی آئی ہے۔لیکن پنجاب کی طرف سے مردم شماری کے عبوری نتائج کو من و عن قبول کیا ہے۔البتہ سندھ اور خاص طور پر کراچی سے مردم شماری پر اُنگلیاں اُٹھائی جارہی ہیں۔ جبکہ سندھ میں 25لاکھ غیر ملکی باشندوں کی رہائش رکھنے کی خبر بھی ہے۔ظاہر ہے کہ مردم شماری کے نتیجے میں حلقہ بندیوں میں رد وبدل ضروری تھا۔اگر قومی اسمبلی میں پیش کردہ بل پر اتفاق رائے نہ ہو تا تو 2018 ء کے انتخابات کا بروقت انعقاد تھا۔گو کہ سیاسی پارٹیاں انتخابات کے بروقت انعقاد پر متفق ہیں۔لیکن اُس کیلئے انتظامات نئی حلقہ بندیوں اور مردم شماری کے حتمی نتائج کی فہرست کا جاری ہونا بھی ضروری ہے۔اب جبکہ نئی حلقہ بندیوں کے معاملہ پر ساری سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہو چکا ہے اور نئی حلقہ بندیوں کا اعلان جاری کردیاگیا۔جس سے یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ 2018 ء کے انتخابات کا انعقاد وقت پر ہوگا۔مشترکہ مفادات کونسل کے ان فیصلوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ صوبوں کے مابین اگر افہام و تفہیم سے فیصلے کئے جائیںاور وفاق سارے صوبوں کو ساتھ لے کر چلے اور ہر وفاقی اکائی کو برابر کا موقع دے کر اُس کے تحفظات کا ازالہ کرے تو آپس کی غلط فہمیاں خوش اسلوبی سے دور کی جاسکتی ہیں۔اس ملک کی تمام کڑیوں کو ملا کر تبمضبوط کیاجا سکتا ہے جب ہر ایک کو برابر کا موقع اور حصہ دیا جائے۔اسی طرح سے سیاسی لیڈروں کے قد وکاٹھ میں اضافہ ہوگا۔جب مثبت رویے اختیار کرتے ہوئے تعمیری انداز میں ملک کی بہتری اور یگانت کا سوچا جائے۔صوبوں کے دیگر مسائل کو بھی اگر مشترکہ طور پر اسی پلیٹ فارم سے حل کرنے کی کوشش کی جائے تو بہتر نتائج نکل سکتے ہیں۔مردم شماری ،پانی کی تقسیم ،خیبر پختونخوا کے بجلی کے منافع میں حصہ کی ادائیگی،نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ، قبائلی علاقوں کا انضمام ،کالا باغ ڈیم یہ ایسے حل طلب مسائل ہیں جن کا بروقت حل ہونا نہایت ہی ضروری ہے۔ 

متعلقہ خبریں