Daily Mashriq

ہم کبھی نہ چھوڑیں گے بات برملا کہنا

ہم کبھی نہ چھوڑیں گے بات برملا کہنا

سیاسی حالات کس راہ پر گامزن ہیں اس پر اگر منیر نیازی کے ایک مشہور شعر میں (ان کی روح سے معذرت کے ساتھ تھوڑی سی ترمیم کرکے دیکھا جائے تو شاید صورتحال کی وضاحت میں آسانی ہو کہ
اک اور’’ دھرنے‘‘ کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
میں ایک’’دھرنے‘‘ کے پار اترا تو میں نے دیکھا
دھرنوں کی سیاست نے اس ملک کا کیا حال کردیا ہے اب اس پر زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ سب کچھ نہایت واضح ہو کر دکھائی دے رہا ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کو ان دنوں جن حالات کا سامنا ہے اس پر مختلف ٹی وی چینلز نہ صرف تبصرے اور تجزئیے پیش کر رہے ہیں بلکہ متواتر کوریج سے پوری صورتحال دکھا کر جڑواں شہروں کے عوام کی بے بسی بھی ملک کے کونے کونے تک پہنچا رہے ہیں۔ جس وقت یہ کالم تحریر کیا جا رہا ہے صورتحال میں کوئی تبدیلی تو کیا ہونی ہے عوام کی مشکلات میں اضافے کی خبریں ہی آرہی ہیں جبکہ وفاقی حکومت کے ذمہ دار وزراء نے تنگ آکر دھرنے والوں کو’’آخری وارننگ ‘‘ بھی دے دی ہے اور الزام لگایا ہے کہ دین کے نام پر جو لوگ آئے انہوں نے وعدہ خلافی کی اور پر امن احتجاج کے بجائے راستے روکے۔ حکومت اور عوام کے صبر سے نہ کھیلا جائے۔غرض یہ کہ صورتحال خاصی پیچیدگی اختیار کرتی جا رہی ہے۔ تاہم منیر نیازی کے جس شعر میں رد و بدل کرکے کالم میں شامل کیاگیا ہے اس کا کارن صرف اسلام آباد کادھرنا نہیں ہے بلکہ بدھ کے اخبار مشرق میں شائع ہونے والی ایک اور خبر ہے جس کے مطابق وزیراعلیٰ کے پارلیمانی سیکرٹری جاوید نسیم کی وہ دھمکی ہے جس میں ڈیرہ اسماعیل خان کے واقعے پر جو ایک لڑکی کو بے حجاب کرکے گائوں میں گھمانے سے متعلق ہے‘ سپریم کورٹ سے از خود نوٹس لے کر واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرانے کے مطالبے پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی دھمکی دی ہے کہ اگر ان کا مطالبہ تسلیم نہ کیاگیا تو وہ وزیر اعلیٰ ہائوس کے سامنے دھرنا دیں گے۔
بات دھرنوں کی ہو رہی ہے اور ہر دھرنے والے اپنے مطالبات منوانے کے لئے احتجاج کے ہنگام یہ دعویٰ ضرور کرتے ہیں کہ انہیں آئین نے احتجاج کا حق دیا ہے‘ ضرور دیا ہے اور اس بات سے انکار قطعاً نہیں کیا جاسکتا تاہم اگر آئین نے کسی شخص‘ طبقے‘ گروہ یا سیاسی جماعت کو اپنے مطالبات منوانے کے لئے احتجاج کرنے کا حق دیا ہے تو اسی آئین نے کچھ پابندیاں بھی لگا رکھی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ احتجاج کے موقع پر ایسا کوئی کام نہ کیا جائے جس کی وجہ سے خلق خدا کو کوئی تکلیف پہنچے یعنی جو حق کوئی شخص اپنے لئے آئین کے دائرے کے اندر رہ کر مانگتا ہے تو اسے وہی حق اپنے جیسے دوسرے انسانوں کو بھی دینا پڑے گا۔ دھرنے 2014ء کے ہوں یا اس سے پہلے پیپلز پارٹی کے دور میں علامہ طاہر القادری کے کینٹینر میں بیٹھ کر اسلام آباد کو عذاب میں مبتلا کرنے والا دھرنا‘ پھر عمران خان کے اسلام آباد کو لاک ڈائون کرنے کا اقدام ہو یا پھر موجودہ دھرنا جس کی وجہ سے جڑواں شہروں کے عوام کو درپیش شدید مشکلات‘ اسی کراچی میں ماضی میں ایم کیو ایم کی جانب سے لا تعداد بار شہر کو بند کرنے کے اقدام ہوں جبکہ پشاور میں بھی عمومی طور پر جس کا جب جی چاہے سورے پل کے سنگم پر احتجاج کرتے ہوئے پورے شہر کو لاک ڈائون کردیا جاتا ہے اور اب سورے پل سے معاملہ قدرے دور گورنر ہائوس اور عجائب گھر کے درمیان سڑک کو بلاک کرکے بھی پورے شہر کو بدترین ٹریفک جام سے دو چار کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح دیگر شہروں میں بھی اکثر ایسی ہی صورتحال پیدا کردی جاتی ہے جس کے نتیجے میں تمام تر افتاد عام لوگوں پر پڑتی ہے یعنی ایک طبقہ اگر اپنے لئے احتجاج کا حق مانگتا ہے تو اس سے عوام کے آئینی حقوق جس بری طرح پامال ہوتے ہیں ان کے بارے میں بھی کیا کبھی کسی نے سوچا ہے ۔ دوسرے طبقات کو تو رکھئے ایک طرف کہ وہ اپنی اس قسم کی حرکتوں کے لئے کئی طرح کی تاویلات دے سکتے ہیں ‘ اپنے موقف کو درست قرار دے سکتے ہیں تاہم اگر خلق خدا کو عذاب سے دو چار کرنے والے ان لوگوں سے جو خود کو سب سے زیادہ دین کا فرمانبردار قرار دیتے ہیں اور اسی ناتے مخلوق خدا کے حقوق کے بارے میں عام لوگوں سے کہیں زیادہ علم رکھتے ہیں پوچھا جائے کہ کیا عام لوگوں کو عذاب سے دوچار کرنا عین اسلام ہے تو ان کے پاس اس کا کیا جواب ہوگا۔ گزشتہ چند دنوں کے د وران یعنی جب سے ملک کے دارالحکومت کو لاک ڈائون کرتے ہوئے راولپنڈی کے شہریوں کو عذاب میں مبتلا کیا گیا ہے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر جو اطلاعات سامنے آرہی ہیں ان کے مطابق لوگوں کو آمد و رفت میں مشکلات کی وجہ سے دفاتر اور کام کے دیگر اداروں میں پہنچنا مشکل سے مشکل تر ہونے کے ساتھ ساتھ طلباء و طالبات کو تعلیمی اداروں میں آنا جانا بھی ممکن نہیں رہا جبکہ مریضوں کو ہسپتال تک پہنچانا بھی مسئلہ بن چکا ہے۔ اسی طرح اگر پشاور میں جاوید نسیم نے بھی دھرنا دے دیا تو یہاں کیا صورتحال ہوگی اس لئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس معاملے کا نوٹس لے کر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہر شہر میں احتجاج کرنے والوں کے لئے مخصوص مقامات کا تعین کروانے کا حکم دیں تاکہ عام شہریوں کو عذاب سے چھٹکارا ملے۔
ہم کبھی نہ چھوڑیں گے بات برملا کہنا
ہاں نہیں شعار اپنا درد کو دوا کہنا

اداریہ