Daily Mashriq

طالبان سے بچ کر بھاگ نکلنے والے افغان پناہ گزین کی کہانی.

طالبان سے بچ کر بھاگ نکلنے والے افغان پناہ گزین کی کہانی.

فرانسز آموس کی کشادہ آنکھیں، گول گال اور پھر اس پر مسکراہٹ سامنے کے چمکتے سفید دانت بھی ظاہر کر دیتی ہے۔ آموس صرف آٹھ ماہ کا ہے اور وہ دوست بنانے کے معاملے میں اپنے والد سے بھی آگے ہیں۔

ایک گرم سنیچر کی سہ پہر میں اور میرا بیٹا انڈونیشیا کے شہر باٹام کے ایک ہوٹل کے تالاب میں نہا رہے تھے۔

تالاب کے سرے پر کالے بالوں والے ایک شخص نے میرے بیٹے کے سامنے والے دانتوں کو غور سے دیکھا۔ اس نے ہاتھ ملایا اور مسکرا دیا۔ اس نے پھر سوال پوچھا کہ آپ کہاں سے ہیں؟

جیسے جیسے سورج غروب ہو رہا تھا اور آسمان نارنجی رنگ کا ہو رہا تھا، وہ افغان مجھے اپنی کہانی سنا رہا تھا۔ یہ کہانی موت کے خطرات، طالبان کا طیارہ اغوا کرنے اور سالہا سال پیش آنے والے اغوا کے پراسرار واقعات سے بھری ہوئی تھی۔

بہت سے پناہ گزینوں کی ایسی ہی یا اس سے بھی بدتر داستانیں ہیں، لیکن یہ داستان اس افغان پناہ گزین کی تھی اور یہ انڈونیشیا کے ہوٹل کے تالاب میں ایک اتفاقی ملاقات تھی۔

شمس، حسینی عرفان کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ وہ اب 21 برس کے ہیں اور افغانستان کے غزنی صوبے میں ہندو کش کے پہاڑی سلسلے کے نذدیک واقع شہر ’سنگِ ماشا‘ میں رہ رہے ہیں۔

شمس کے دو چھوٹے بھائی اور ایک بہن بھی ہیں اور ان کا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے۔ ان کے والد جوتے بناتے تھے اور اپنے کچے مکان کے ساتھ چھوٹی سی زمین گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے کھیتی باڑی کرتے تھے۔

شمس کو 2001 سے پہلے کا افغانستان صحیح طرح یاد تو نہیں، لیکن انھیں معلوم ہے کہ وہ کیسا تھا۔ 2001 میں امریکی حملے سے پہلے وہ بہت چھوٹے تھے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس وقت سکول بند تھے اور لوگوں کو تعلیم تک رسائی نہیں تھی۔

شمس ہزارہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں جو افغانستان میں بسنے والی تیسری بڑی قوم ہے۔ ہزارہ شیعہ مسلمان ہوتے ہیں اور وہ شکل و صورت میں دوسرے افغانوں سے مختلف نظر آتے ہیں۔

یہ برادری کئی دہائیوں سے ظلم و ستم کا نشانہ بنتی آ رہی ہے۔

سنہ 2001 کے بعد صور تحال میں بہتری آئی ہے۔ ظاہر ہے، حالات جتنے خراب تھے، ان کا مزید بگڑنا مشکل ہی تھا۔

شمس کے مطابق ہزارہ برادری نے ہمیشہ تعلیم کی حمایت کی اور وہ علم اور روشنی کے حمایتی ہیں۔ ’لوگوں نے سکول اور یونیورسٹی جانا شروع کر دیا۔‘

شمس کے سکول میں ہفتے میں ایک گھنٹہ انگریزی کی کلاس بھی ہوتی تھی۔ جب وہ 12 سال کے تھے تو انھیں ان کے چچا اور دیگر رشتہ داروں نے ایک نجی سینٹر ٹیوشن سینٹر بھیج دیا۔ جب انھوں نے 15 برس کی عمر میں اپنے سے بڑی جماعت کا امتحان پاس کیا تو سینٹر کے ڈائریکٹر نے انھیں ملازمت کی آفر کر دی۔

نئی ملازمت میں شمس کی ذمہ داریوں میں پرائمری کلاسز کے بچوں کو پڑھانا اور کابل جا کر بچوں کے لیے بکس، پیپر اور دیگر اشیا خرید کر لانا شامل تھا۔ تنخواہ کوئی زیادہ تو نہیں لیکن شمس کو پیسوں کی ضرورت تھی۔ ان کے والدین کا انتقال ہو چکا تھا اور شمس کم عمری میں ہی اپنے خاندان کے سربراہ بن گئے تھے۔

’جب میں اپنی چھوٹی بہن اور بھائیوں کو دیکھتا تو مجھے خیال آتا تھا کہ مجھے ان کی زندگی بدلنے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہے۔ اس کے لیے مجھے جو بھی کرنا پڑا میں نے کیا۔‘

یہ 10 اکتوبر 2014 کی بات ہے جب شمس کابل جانے کے لیے ایک بس میں سوار ہوئے تاکہ وہ انگلش سینٹر کے لیے چیزیں لے کر آئیں۔ اس دن کے بعد سے وہ اپنے خاندان سے نہیں ملے۔

طالبان کو 2001 میں حکومت سے ضرور بے دخل کر دیا گیا تھا لیکن وہ کہیں دور نہیں گئے۔ سنگِ ماشا میں طالبان نے انگریزی سینٹر کے عملے اور طلبہ کو نشانہ بنایا۔

شمس کا کہنا ہے کہ طالبان سمجھتے ہیں کہ انگریزی کافروں کی زبان ہے۔

انگلش سینٹر کو طالبان اور مقامی ملاؤں کی طرف سے دھمکی آمیز خطوط بھی موصول ہوئے۔ قریب کی مسجد میں کچھ مولوی حضرات تو بحث کرنے بھی آئے۔

ان کے بقول یہ انگلش سیکھنے کا مرکز نہیں بلکہ لوگوں کو گمراہ کرنے کی جگہ ہے۔

ملاؤں کے لیے تو انگلش پڑھانے کے علاوہ لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک ہی چھت کے نیچے پڑھانے کا گناہ زیادہ بڑا تھا۔

شمس بتاتے ہیں: ’ہم ڈرے ہوئے تھے، لیکن کئی دہائیوں سے ناخواندگی کو شکار لوگوں کی مدد کی بھوک کسی بھی خطرے سے زیادہ تھی۔‘

دسمبر کے مہینے میں ایک سرد بدھ والے دن شمس کابل جانے والی بس پر سوار ہو گئے۔

سینٹر میں ملازمت کے دوران یہ شمس کا کابل کا تیسرا سفر تھا، لیکن وہ ہر بار جاتے ہوئے ڈرتے تھے۔

کابل شمس کے گھر سے 274 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ راستے میں کارا باغ نامی جگہ سے بھی گزر ہوتا ہے جسے شمس ’ذبح خانہ‘ قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ طالبان نے اس ہائی وے پر ہزارہ کیمونٹی کے کئی ہزار افراد کو ہلاک یا اغوا کیا۔

تین گھنٹے بعد بس کاراباغ پہنچی تو شمس کا ڈر سچ ثابت ہو گیا۔ مسلح طالبان نے بس کو روک دیا۔ انھوں نے شمس کو نیچے اترنے کا حکم دیا۔

جب وہ باہر نکلے تو طالبان نے شمس کو تھپڑ مارے اور ان پر غصے سے چیخے چلائے۔

ہاتھوں میں گن تان کر اور نظریں شمس پر رکھ کر طالبان نے پہلا سوال ہی یہ پوچھا ’انگلش پڑھانے والا استاد کہاں ہے، کیا آپ ہیں وہ استاد؟‘

شمس جب انکار کرتا تو وہ ہر دفعہ اس کو تھپڑ مارتے۔ وہ غم سے نڈھال تھا۔ شمس کی گالوں پر آنسو ٹپک رہے تھے۔ انھیں جیسے چپ لگ چکی تھی۔ انھیں یہ یقین ہو چلا تھا کہ اب وہ مارے جائیں گے۔

ڈر ان کے جسم کے ہر حصے میں سرائیت کر چکا تھا۔

پھر ایک خاتون نے بس سے اتر کر نیچے آئیں اور شمس کی جان بچائی۔

خاتون چلاتی ہوئی بولی رک جاؤ، یہ وہ شخص نہیں ہے جس کی آپ کو تلاش ہے، یہ میرا بیٹا ہے۔

شمس اس خاتون کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے لیکن اس نے کچھ بھی نہیں کہا۔ طالبان نے شمس کو دیکھا۔ وہ بس 15 برس کے تھے اور ان کا حلیہ استادوں جیسا نہیں لگ رہا تھا۔

شمس بچ نکلے۔ لیکن اس پر کوئی جشن بھی نہیں منایا جا سکا۔ اب وہ خوش بھی نہیں تھے۔ شمس کا کہنا ہے کہ وہ اندر سے ٹوٹ چکے تھے۔

جب وہ کابل پہنچے تو انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ دوبارہ اس ذبح خانے کا رخ نہیں کریں گے اور یوں شمس نے دوبارہ سنگِ میل کا رخ نہیں کیا۔

کابل کے ایک ہوٹل میں شمس نے ایک ایسے ڈرائیور سے رابطہ کیا جو اکثر شمس کے ضلع سے لوگوں کو کابل لے کر آتا ہے۔ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ شمس جیسی کہانی بڑی عام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ کابل پہنچ کر پھر کبھی واپس نہیں لوٹتے۔

شمس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی زندگی بچانا چاہتے ہیں۔ ڈرائیور نے اس کے لیے ایک سمگلر کا انتظام کیا جو اس سلسلے میں اس کی مدد کر سکتا تھا۔

جکارتہ پہنچ کر سمگلر نے شمس کو بتایا کہ وہ اپنے آپ کو اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسانی حقو (یو این ایچ سی آر) کے ساتھ اپنی رجسٹریشن کروا لے۔ شمس کو انڈونیشیا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ وہ کبھی افغانستان سے باہر نکلا ہی نہیں تھا۔ لیکن اب یہاں گھر کے مقابلے میں سب کچھ اچھا تھا۔

شمس نے اپنے چچا کو فون کیا جو ایک چھوٹا سا کسان ہے۔ وہ سمگلر کو قسطوں میں 5000 ڈالر دینے پر آمادہ ہو گیا۔ اس نے ایک ہفتے انتظار کیا۔ تب شمس اپنے نئے پاسپورٹ کے ساتھ دہلی سے ہوتا ہوا کوالالمپور پہنچا۔ پھر یہاں سے وہ انڈونیشیا پہنچ گیا۔

دیگر افغان پناہ گزینوں کے مقابلے میں یہ ایک بہت جلد جان بچانے والا سفر تھا۔ جو افغانستان سے یورپ کا سفر کرتے ہیں وہ بہت طویل اور مشکل ہوتا ہے۔ اگرچہ شمس کا سفر بہت جلدی طے ہوا لیکن یہ بھی اتنا آسان اور محفوظ نہیں تھا۔

جب وہ ملیشیا کے ساحل پر پہنچا تو اسے امید تھی کہ اب وہ فیری پر سمندری سفر طے کرے گا۔ اس کے بجائے وہ ایک لکڑی والی کشتی پر سوار ہوا جس پر پہلے سے ہی کئی فیملیز، نوجوان جوڑے اور کم عمر لڑکے سوار تھے۔

کشتی کے ایک کونے سے پانی اندر آرہا تھا۔ یہ ایک ماہ میں دوسری بار ایسا موقع تھا کہ شمس کو لگا کہ وہ مرنے والا ہے اور اس بار آبنائے ملاکا میں یہ ہونے جارہا تھا۔

انڈونیشیا میں شمس کا ٹھکانہ

ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی ایسی جگہ تو نہیں تھی جہاں زندگی کا خاتمہ ہو جائے۔ شمس کا کہنا تھا کہ میں نے افغان جنگ میں محفوظ رہا، طالبان سے بچا اور اب میں پانی میں ڈوبنے میں جارہا ہوں۔

شمس کا کہنا تھا کہ ان کے ذہن میں غلط خیالات آرہے تھے جیسے ’میرے خاندان کا کیا ہوگا؟ میرے خوابوں کا کیا بنے گا؟ اور یہی خیالات کشتی میں سوار دوسرے لوگوں کے ذہنوں میں آرہے تھے۔‘

شمس کے مطابق ’میں ان کے چہروں پر دیکھ رہا تھا اور سب کچھ عیاں تھا۔ وہ سب ایک خوف کی کیفیت سے دوچار تھے۔‘

بہرکیف انھوں نے کشی پر سفر جاری رکھا اور وہ انڈونیشیا کے علاقے میڈن پہنچے اور پھر جکارتہ جو کہ وہاں سے 1900 کلومیٹر دوری پر تھا۔ گاڑی میں چھ لوگ سوار تھے اور انھیں فقط رات میں باہر نکلنے کی اجازت تھی۔ وہ دن میں رفع حاجات کے لیے بھی باہر نہیں نکل سکتے تھے۔

خوراک کے بنا تین دن گزارنے کے بعد وہ دارالحکومت پہنچے۔

شمس نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزینوں کا دفتر ڈھونڈ لیا اور وہ وہاں گئے۔

انھوں نے سوچا کہ یہ نئی زندگی کا آغاز ہے۔

ایسا تھا لیکن اس طرح نہیں جیسا انھوں نے سوچا تھا۔

شسمس کا خیال تھا کہ یو این ایچ سی آر والے اس کی کہانی سنیں گے اور اسے رہنے کا ٹھکانہ دے دیں گے۔ لیکن بجائے اس کے انھوں نے شمس کا اندراج کیا اور اسے کہا آپ دفتر سے چلے جائیں۔

انھوں نے شمس کو کہا کہ تم جیسے بہت سے لوگ ہیں۔ اپنا نمبر دے جاؤ۔ باہر جاؤ اپنے دوستوں سے بات کرو۔

لیکن شمس کہتے ہیں کہ میرا کوئی دوست نہیں تھا میں انڈونیشیا میں کسی کو نہیں جانتا تھا۔

دو راتیں گلی میں گزارنے کے بعد شمس کی ملاقات افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایک ہزارہ لڑکے سے ہوئی۔

انھوں نے اسے بتایا کہ وہاں جکارتہ کے قریب حراستی سینٹر ہیں لیکن وہ بھرے ہوئے۔ انھوں نے شمس سے کہا کہ اسے مناڈو جانا چاہیے۔

یہ علاقہ جکارتہ سے جہاز کے ذریعے ساڑھے تین گھنٹوں کی مسافت پر تھا۔ لیکن وہاں حراستی سینٹر میں جگہ تھی۔ ہزارہ لڑکے کو ایک ایسی خاتون کا بھی علم تھا جو سفر کی سہولت کے لیے انتظامات کر سکتی تھی۔

شمس قید خانے میں نہیں جانا چاہتا تھا۔ لیکن کون چاہتا ہے۔ مگر شمس کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا۔

جکارتہ کی گلیاں تاریک تھیں۔ وہاں نہ خوراک تھی نہ پانی نہ ہی امید۔

اس کے پلاس فلائیٹ کے لیے پیسے نہیں تھے۔ مگر شمس نے خاتون سے منت کی تو وہ مان گئیں۔ جب وہ ماناڈو پہنچے تو امیگریشن آفس گئے اور رہائش کے لیے درخواست کی۔

لیکن یہاں بھی یو این ایچ سی آر کے دفتر والا معاملا ہوا اور انھیں نکل جانے کو کہا گیا۔

ایک اور رات گلی میں گزارنے کے بعد امیگریشن کے عملے نے شمس کو ویٹنگ روم کے طور پر استعمال ہونے والا گھر دیا اور یہ سہولت تب تک تھی جب تک حراستی مرکز میں ان کے لیے جگہ بن جاتی۔

شمس وہاں 16 دن تک رہے۔

اس گھر میں سات بیڈرومز تھے جن میں سے ہر ایک میں 14 یا 15 افراد سوتے تھے۔ ایک ٹوائلٹ اور ایک شاور تھا لیکن دونوں کے لیے پانی کافی نہیں تھا۔

شمس کا کہنا ہے ’وہاں پانی اور کھانا تھا لیکن یہ بنیادی تھا، چاول، آلو، کبھی کبھار مرغی کا ونگ۔ 16 ماہ سے مجھے کوئی سبزی یاد نہیں آئی۔‘

لیکن سبزیوں کی کمی سے بھی بدتر آزادی کی کمی تھی۔

ایک پناہ گزین کی حیثیت سے وہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتا تھا، کام نہیں کرسکتا تھا اور سفر نہیں کرسکتا تھا۔ وہ گھر میں پھنس گیا تھا۔ انڈونیشیا میں پھنس گیا اور وہ طالبان بندوق برداروں کی اپنی یادوں میں پھنس گیا۔

وہ یاد کرتا ہے ’ایسا لگا جیسے کسی نے اس خوف کو میرے دماغ میں، میرے پورے جسم میں داخل کر دیا ہے۔ یہ مجھے ہر وقت پریشان کر رہا تھا۔ میں اپنے سر کو اپنے ہاتھوں سے پیٹ رہا تھا۔‘

پھر سنہ 2016 میں اس کو اچھی خبر ملی کہ اسے بند کیا جا رہا تھا۔

پونٹیانک میں حراستی مرکز، انڈونیشیا کے دوسری طرف مناڈو میں مکان تک، ایک جیل کی طرح تھا، جس میں اونچی باڑ، خاردار تاروں اور ٹپکتی چھت تھی۔ تو یہ اچھی خبر کیوں تھی؟

کیونکہ پونتیاک میں اس کی مہاجرین کی حیثیت سے کی جانے والی درخواست پر غور کیا جائے گا۔ ’پناہ گزین‘ ’پناہ کے متلاشی‘ سے ایک قدم بڑھا ہوا ہے کیونکہ یہ تیسرے ممالک میں منتقل ہونے کی اجازت دیتا ہے چاہے اس کے امکانات بھی کم ہی ہوں۔

لیکن وہاں امید تھی، یہ ایک لمبی، نہ ختم ہونے والی سرنگ تھی جس کے آخر میں چمکتی ہوئی روشنی تھی۔

شمس کا کہنا ہے ’یہاں تک کہ مجرم بھی، ان کی قید کے لیے ایک خاص مدت موجود ہے ’لیکن مہاجرین کے لیے اس طرح کی کوئی تاریخ نہیں تھی۔ ہمیں انتظار کرنا پڑا اور انتظار کرنا تھا۔‘

شمس نے مثبت ہونے کی کوشش کی۔ اس نے قیدیوں کو انگریزی کی تعلیم دی، مترجم کی حیثیت سے کام کیا اور بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجر (IOM) کے زیر اہتمام ایک بنیادی مشاورت کورس مکمل کیا۔

سنہ 2017 میں اسے پناہ گزینوں کا درجہ ملا اور بالآخر 27 جولائی سنہ 2018 کو حراستی مرکز سے رہا کر دیا گیا کیونکہ انڈونیشیا کی حکومت نے ملک بھر میں ان سینٹروں کو بند کرنا شروع کر دیا۔

یو این ایچ سی آر انفرادی معاملات پر کوئی تبصرہ نہیں کرتا ہے لیکن اس نے کہا ہے کہ دسمبر سنہ 2016 سے قبل انڈونیشیا میں پناہ گزینوں کی تقریبا 30 فیصد آبادی نظربند تھی، چونکہ انڈونیشیا کے صدر کی طرف سے ایک قانون نافذ ہوا ہے، بیشتر افراد کو ان مراکز سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔

شمس کا نیا گھر باتم میں ’کمیونٹی ہاؤسنگ‘ تھا۔ یہ آئی او ایم کے لیے پسندیدہ ماڈل ہے جو انڈونیشیا میں ایسی 80 سہولیات کی حمایت کرتا ہے جہاں 8،200 سے زیادہ افراد رہتے ہیں۔

آئی او ایم نے بی بی سی کو بتایا ’جیسا کہ شمس نے نوٹ کیا، انڈونیشی امیگریشن حراستی مراکز میں رہائش کے حالات انتہائی بنیادی ہیں۔‘

’آئی او ایم کا رول ان سہولیات میں نظربند پناہ گزینوں، ان کی صحت اور خوراک سمیت معیار زندگی کو بہتر بناتے ہوئے ان کی مدد کرنا ہے جبکہ انڈونیشیا کے حکام سے قیدیوں کو رہائش میں منتقل کرنے کے لیے حمایت کرنا ہے۔‘

اپنی برادری کی رہائش گاہ میں شمس انگریزی سبق کے ساتھ ساتھ، وہ پر امن احتجاج میں شریک ہوئے، انھوں نے تیسرے ممالک خصوصاً آسٹریلیا سے مطالبہ کیا کہ وہ انڈونیشیا سے زیادہ مہاجرین کو قبول کریں۔

اس کام کے ذریعے، جس کی سوشل میڈیا پر تشہیر کی گئی، اس نے فیس بک پر ایک آسٹریلوی خاتون سے ملاقات کی جو مہاجر وکیل کی حیثیت سے کام کرتی تھی۔ جب وہ اپنے کام کے سلسلے میں باتم پہنچی تو اس نے شمس کو اپنے ہوٹل میں پول استعمال کرنے کی دعوت دی۔

اور اسی وجہ سے شمس حسینی 21 سالہ افغان مہاجر، انگریزی کا استاد، طالبان سے زندہ بچ جانے والا، فرانسس آموز کو مسکراہٹ دینے کا قابل تھا، جو کہ گول رخسار، منھ میں ایک دانت اور آٹھ ماہ قبل جنوبی لندن میں پیدا ہوا تھا۔

تو یہ شمس کی کہانی ہے (پول میں ریلیز ہوئی، مزید تفصیلات کے ساتھ فون پر) لیکن یہ 21 ویں صدی کی کہانی بھی ہے۔ کیونکہ وہ لاکھوں بے گھر افراد میں سے ایک ہے جو اس کے حاشیے پر زندہ بچ گیا ہے۔

شمس کا باتم میں نیا گھر پونتیاک یا ماناڈو سے بہتر ہے اور وہ اس کے لیے شکر گذار ہے لیکن اس کے پاس ابھی بھی آٹھ بجے کا کرفیو ہے۔ آئی او ایم سے ملنے والے ماہانہ $ 99 پر زندہ رہتا ہے۔ سفر نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے یہ زندہ رہنا نہیں ہے۔ یہ بچنا ہے۔

وہ انسان دوست وکیل بننے، اپنے کنبے کو دوبارہ دیکھنے کا خواب دیکھتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ان کی صورت حال خراب تر ہوتی جا رہی ہے لیکن وہ اس وقت تک مدد نہیں کرسکتا جب تک وہ انڈونیشیا سے باہر آباد نہیں ہو جاتا۔

شمس کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک جو مجھے قبول کرے گا، میں جاؤں گا، کوئی حرج نہیں۔ اس وقت تک یہ انتظار جاری ہے، پانچ طویل اور تنہا سال۔

لیکن کاراباغ میں بس پر سوار پراسرار خاتون کی بدولت وہ اب بھی یہاں موجود ہے اور وہ اب بھی پر امید ہے۔

’اس عورت جس نے میری جان بچائی، تہے دل سے آپ کا شکریہ۔‘

شمس ان کا اختتام یوں کرتاہے ’میں آپ کی مہربانی کو کبھی نہیں بھولوں گا۔ مجھے امید ہے کہ کسی دن میں آپ کو اس کا بدلہ دے سکتا ہوں۔‘

متعلقہ خبریں