Daily Mashriq

میاں نواز شریف کی علالت پر سیاسی بیانیے کی جیت!

میاں نواز شریف کی علالت پر سیاسی بیانیے کی جیت!

26اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم صادر کیا ' عدالت نے قرار دیا کہ میاں نواز شریف اپنی مرضی کے ڈاکٹر اور ہسپتال سے علاج کرا سکتے ہیں۔ چند روز کے علاج کے باوجود میاں نواز شریف کے پلیٹ لیٹس میں خطرناک حد تک کمی کے باعث ان کی طبیعت نہ سنبھل سکی تو شریف فیملی نے بیرون ملک علاج کرانے کے لیے حکومت سے رابطہ کیا کیونکہ میاں نواز شریف کا نام ای سی ایل میں ہونے کے باعث وہ بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے تھے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے شروع شروع میں مؤقف اپنایا کہ وہ میاں نواز شریف کو انسانی ہمدردی کی بنا پر ریلیف دے رہے ہیں لیکن جب ای سی ایل سے نام نکالنے کا مرحلہ آیا تو پی ٹی آئی حکومت کی وفاقی کابینہ کے اجلا س میں متعدد ارکان کی طرف سے اس بات کی مخالفت کی گئی کہ اگر حکومت نے نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دی تو ہم اپنے سیاسی بیانیے سے پیچھے ہٹ جائیں گے ' سو طے یہ پایا کہ میاں نواز شریف 7ارب کا شورٹی بانڈ جمع کروا کر بیرون ملک جا سکتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے اس کی مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی طرف سے شورٹی بانڈ کی شرط غیر قانونی ہے ' اس لیے یہ شرط ہمیں منظور نہیںہے۔ میاں شہباز شریف نے مزید کہا کہ اگر ہم سات ارب روپے کے شورٹی بانڈ جمع کرا دیتے ہیں تو میاں نواز شریف کے علاج کے لیے بیرون ملک چلے جانے کے بعد حکومت عوام کو یہ کہہ سکتی ہے کہ ہم نے میاں نواز شریف سے رقم ریکور کر لی ہے۔ میاں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنا خالصتاً حکومت کی صوابدید تھی جسے حکومت چاہتی تو احس طریقے سے حل کر سکتی تھی اور انسانی بنیادوںپر نواز شریف کو ریلیف دے کر کریڈٹ بھی حاصل کیا جا سکتا تھا لیکن پی ٹی آئی کی حکومت اور مسلم لیگ ن دونوں جماعتیں اپنے سیاسی بیانیے پر ڈٹ گئیں اور معاملہ ایک بار پھر لاہور ہائی کورٹ میں چلا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے طویل بحث و مباحثہ کے بعد وفاقی حکومت کے وکیل کی اس استدعا کو مسترد کر دیا کہ نواز شریف سے بیرون ملک جانے سے پہلے کوئی گارنٹی لی جائے' لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے نواز شریف کی بیرون ملک جانے کے لیے وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی طرف سے انڈیمنٹی بانڈ کے ساتھ مشروط اجازت کے خلاف شہباز شریف کی درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لی ہے' عدالت نے قرار دیا ہے کہ بیرون ملک علاج کے دوران چار ہفتوں سے زیادہ کی مدت میں توسیع کی صورت میں متعلقہ حکام کو درخواست دینا ہو گی۔ تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے اگرچہ لاہور ہائی کورٹ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر زور دیا ہے لیکن سینئر قانون دان اور پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر بابر اعوان نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہمیں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ قبول ہے اور ہم اس کے خلاف سپریم کورٹ نہیں جائیں گے۔ تحریک انصاف کا لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نہ جانے کا فیصلہ قابل ستائش ہے کیونکہ حکومت نے میاں نواز شریف کو انسانی بنیادوں پر ریلیف دینے کا جو امیج بنایا ہے وہ مخالفت سے ختم ہونے کا خدشہ تھا۔ اس ضمن میں اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کا بیان تحریک انصاف کے جذباتی رہنماؤں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ''کاش! نواز شریف کو اجازت دینے کا فیصلہ خود حکومت کر لیتی' حکومت نے اس معاملہ پر دو محاذوں پر کھیل کر اپنے ہی دعوؤں کی مخالفت کی ہے۔'' ہم سمجھتے ہیں میاں نواز شریف کو علاج کی غرض سے باہر جانے میں سہولت دینے کے حکومتی فیصلے کی تحسین کی جانی چاہیے لیکن حکومت کو اپنے سیاسی بیانیے کی بقا پر تمام توانائیاں صرف کرنے کی بجائے کارکردگی بہتر بنانے پر زور دینا چاہیے کیونکہ سیاسی بیانیہ تو حالات کی گرد میںدب کر رہ جاتا ہے جب کہ بہتر کارکردگی اور عوامی مسائل کو حل کرنے کی حکومتی کوششوںکو ہمیشہ سراہا جاتا ہے،تحریک انصاف کی حکومت کیلئے غورطلب پہلو یہ ہونا چاہئے کہ وہ کارکردگی کے اعتبار سے کہاں کھڑی ہے؟

متعلقہ خبریں