Daily Mashriq

مہنگائی کو تسلیم کرنااحسن امر ، سدباب کیا جائے

مہنگائی کو تسلیم کرنااحسن امر ، سدباب کیا جائے

حکومتی سطح پر پہلی دفعہ یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ واقعی مہنگائی ہے' اور سابقہ حکومتوں کے اچھے اقدامات کا اعتراف بھی کیا جا رہا ہے' اس حوالے سے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ کاروباری اصلاحات میں بہتری پچھلی حکومتی پالیسیاں جاری رکھنے سے ہوئی ہے' مشیر خزانہ کا دعویٰ ہے کہ معیشت کی بحالی کے لیے حکومت کی کوششوںکے مثبت اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں اور برآمدات میںبھی اضافہ ہوا ہے' آئی ایم ایف نے بھی معاشی استحکام کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ حکومتی سطح پر سابقہ ادوار اور سابقہ حکومتوں کی کارکردگی کو سراہا جانا مستحسن امر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومتی سطح پر ادراک کیا جا رہا ہے کہ سابقہ ادوار میں بھی ملک و قوم کی ترقی کے لیے کوششیں کی جاتی رہی ہیں لیکن جس تواتر کے ساتھ مشیر تجارت اور مشیر خزانہ معیشت میں بہتری کی نوید سنا رہے ہیں' ان دعوؤں میں صداقت نظر نہیں آتی کیونکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں' کاروباری طبقہ کے ساتھ ساتھ ملک کے ادنیٰ شہری کے لیے موجودہ معاشی حالات انتہائی ناسازگار ہیں۔ کاروباری طبقہ اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور ہے' جب کہ تنخوا ہ دار طبقہ کی صورتحال انتہائی دگرگوں ہے' مہنگائی میں اضافہ کی وجہ سے تنخواہ دارطبقہ کے لیے گزارہ مشکل ہو گیا ہے کیونکہ تنخواہیں وہی پرانی ہیں جب کہ مہنگائی میں دو سو فیصدتک اضافہ ہوا ہے' ملازم پیشہ طبقہ آج سے دو سال پہلے 25,30ہزار روپے میں اپنے گھر کا نظام با آسانی چلا رہا تھا، آج اس کے لیے 25,30ہزار روپے ناکافی ہو گئے ہیں' لیکن یہ بات مشیر تجارت یا مشیر خزانہ سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کسی زمانے میں غریب شہری اور مزدور کی اجرت سامنے رکھ کر بجٹ تشکیل دیا جاتا تھا تاکہ دو وقت کی روٹی اور سر ڈھانپنے میں کسی کو مسئلہ درپیش نہ ہو لیکن بجٹ کے سلسلے میںاب الفاظ کی ہیر پھیر سے کام چلایا جاتا ہے اور ریاستی سطح پر اس بات کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ غریب شہری اپنے گھر کا بجٹ کیسے بناتا ہے۔ حکومتی سطح پر ایسے اقدامات کیوں نہیں اُٹھائے جا رہے کہ جس سے مہنگائی کم ہو اور غریب کے لیے دو وقت کی روٹی کے حصول میں کوئی دشواری نہ ہو؟

گوادر فری زون کا احسن اقدام

گوادر پورٹ کی جغرافیائی حیثیت کے ساتھ ساتھ یہ واحد بندرگاہ ہے جو قدرتی طور پر گہرے پانی کی بندر گاہ ہے جس میں بیک وقت متعدد بحری جہاز لنگر انداز ہو سکتے ہیں ' کہا جا رہا ہے کہ سی پیک کی تکمیل کے ساتھ ہی گوادر بندرگاہ پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن جائے گی' بندرگاہ کو فعال بنانے کے لیے چونکہ خطیر سرمایہ کی ضرورت پیش آتی ہے اور سرمایہ کی کمی کے باعث ہی پاکستان گوادر پورٹ کو فعال کرنے میں تاخیر کاشکار رہا لیکن چین کی طرف سے سی پیک کی صورت میں نہ صرف یہ کہ پورے ملک میں شاہراہیں ' اکنامک زونز بنائے جا رہے ہیں بلکہ بہت جلد گوادر پورٹ بھی فعال ہو کر دنیا کی توجہ کا مرکز بن جائے گا۔ گوادر پورٹ کی اہمیت کے پیش نظر پاکستان اور چین کی طرف سے اہم اقدام سامنے آیا ہے ' پاکستان نے گوادر فری زون میں چینی صنعتی یونٹس کی تعمیر کے لیے ملک میں بننے والے سامان کو آئندہ 23برس تک سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ پاکستان کے اس اقدام کی تحسین کی جانی چاہیے کیونکہ یہ عمل سرمایہ کاروں کے لیے دلچسپی کا باعث بنے گا' یہ فری زون صرف چین کے لیے ہی نہیں ہو گا بلکہ اس فری زون میں استعمال ہونے والا وہ سامان جو پاکستان میں مقامی طور پر تیار کیا جاتا ہے کو آئندہ 23برس تک ٹیکس سے مستثنیٰ کیا جائے گا۔ سرمایہ کاروں کو چھوٹ دینے کا فائدہ یہ ہو گا کہ بیرونی سرمایہ کار اس سے مستفید ہونے کے لیے گوادر کا رخ کریں گے ' چین چونکہ بڑی مارکیٹ ہے اس لیے چین کی تمام تر برآمدات گوادر سے ہو ں گی ' اس ضمن میں ضروری ہے کہ پاکستان اپنی برآمدات میں اضافہ اور کوالٹی کو بہتر بنائے تاکہ ہمارا کاروباری طبقہ عالمی منڈی کا مقابلہ کر سکے۔

بھارت کی ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف کارروائی

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے روا رکھے جانے والے مظالم اور مبینہ کرفیو کو 104سے زیادہ ایام ہوچکے ہیں ' اس دوران بھارت نے اپنا مکروہ چہرہ چھپانے کی حتیٰ المقدور کوشش کی ہے' انٹرنیٹ اور ذرائع ابلاغ کے دیگر ذرائع بند کرنے سمیت میڈیا پر ہر طرح کی پابندی ہے' اب بھارت نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی ہیں کیونکہ بھارت یہ بات جانتا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوںکو بے نقاب کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف اگر کریک ڈاؤن نہ کیا گیا تو اس کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آ جائے گا۔ مودی حکومت نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے تنظیم کے نئے دہلی اور بنگلور میں واقع دفاتر پر چھاپے مارے اور عملے کو ہراساںکرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی اگرچہ اخلاقی' سفارتی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے لیکن مسئلہ کشمیر چونکہ خالصتاً سیاسی مسئلہ ہے جو سیاسی انداز سے ہی حل ہونا چاہیے، اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہو' اس مقصد کے لیے لازمی ہے کہ بھارت اہل کشمیر پر جو مظالم ڈھا رہا ہے اسے دنیا کے سامنے پیش کیا جائے ۔اس سلسلے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل چونکہ بین الاقوامی تنظیم ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوںپر کام کر رہی ہے اس لیے عالمی دنیا کو چاہیے کہ وہ بھارت کی جانب سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لے اور کشمیر میں اقوام متحدہ کا غیر جانبدار مبصر روانہ کرکے وہاں کے حالات دنیا کے سامنے پیش کیے جائیں۔

متعلقہ خبریں