Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت عمرو بن شاس اسلمی ( جوکہ اہل حدیبیہ میں سے تھے) فرماتے ہیں: میں ایک مرتبہ حضرت علی کے ہمراہ یمن کی طرف گیا' اس سفر کے دوران انہوں نے میرے ساتھ کوئی خاص توجہ والا معاملہ نہیں کیا جس سے میرے دل میں ان کے بارے میں کچھ بات سی آگئی۔ چنانچہ جب میں واپس آیا تو میں نے مسجد میں بیٹھ کر اپنی اس شکایت کو ظاہر کردیا' حتیٰ کہ یہ بات رسول اقدسۖ تک پہنچ گئی پھر جب میں ایک صبح کو مسجد میں گیا اور آپۖ وہاں اس وقت کچھ صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے آپۖ نے جب مجھے دیکھا تو مجھ پر اپنی نظریں جما کر مجھے بغور دیکھا' یہاں تک کہ جب ہم لوگ آپۖ کے پاس آکر بیٹھ گئے تو آپۖ نے فرمایا کہ اے عمرو! بخدا تم نے مجھے اذیت پہنچائی ہے۔

میں نے عرض کیا: حضور! میں اس بات سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں آپ کو کوئی تکلیف دوں( یعنی میں آپ کو تکلیف دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا)۔ آپۖ نے فرمایا: '' ہاں! جس نے علی کو اذیت دی ' درحقیقت اس نے مجھے اذیت دی''۔ ( المستدرک علی الصحیحین131/3:' رقم 4615' و خصائص امیر المومنین علی بن ابی طالب' ص111:)

حق تعالیٰ نے حضرت علی کو قرآن و سنت کا وسیع علم عطا فرمایا تھا۔ آپ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کاموں کا گہرا علم رکھتے تھے۔ (ینظر: اسمی الطالب' ص228:) حضرت معاویہ فرماتے ہیں کہ آپ کے ہر پہلو سے علم پھوٹتا تھا اور ہر جانب سے حکمت بولتی تھی۔ (حیاة الصحابہ 55/1:)

بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ آپ سے علمی رہنمائی لیا کرتے تھے حتیٰ کہ حضرت عمر کا قول مشہور ہے: لولاعلی الھلک عمر'' یعنی اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔''ایک دفعہ حضرت علی نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: قرآن کے بارے میں جو چاہو پوچھ لو' بخدا! قرآن کریم میں کوئی بھی ایسی آیت نہیں ہے جس کے بارے میں یہ معلوم نہ ہو کہ یہ رات کو نازل ہوئی ہے یا دن کو' (ہموار) راستے میں چلتے ہوئے نازل ہوئی ہے یا اس وقت جب آپۖ کسی پہاڑی پر تھے۔ (الجد الحثیث فی بیان مالیس بحدیث ص 186:) مراد یہ ہے کہ حضرت علی علوم قرآن کے اتنے بڑے عالم تھے کہ آیات کا مطلب معلوم ہونے کے ساتھ ساتھ ان کا شان نزول تک جانتے تھے۔

حضرت علی اس لحاظ سے بھی بہت قابل تعریف ہیں کہ انہوں نے سلطنت و حکومت ہونے کے باوجود دنیا سے بے رغبتی اختیار کئے رکھی۔ ایک دفعہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی مجلس میں ''زاہد'' (یعنی دنیا سے بے رغبت) لوگوں کا تذکرہ چھڑ گیا۔ کسی نے کہا کہ فلاں شخص بڑا زاہد گزرا ہے اور کسی نے ایک بڑے زاہد کا تذکرہ کیا۔ اس طرح مختلف زاہدین کے بارے میں لوگوں کی آراء و اقوال سامنے آتے رہے۔ یہ سب کچھ سن کر حضرت عمر بن العزیز نے فرمایا: '' دنیا میں سب سے بڑے زاہد علی بن ابی طالب تھے۔''

(البدایةوالنھایة)

متعلقہ خبریں