Daily Mashriq

قیدیوں کے حقوق اور حکومتی رویہ

قیدیوں کے حقوق اور حکومتی رویہ

وزیر اعظم عمران خان نے میاں نواز شریف کو علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت دے کر دانشمندی کا ثبوت دیا تھا مگر نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے جس تاخیر سے کام لیا گیا اور اس کے عوض جن ضمانتی بانڈز کی شرط رکھی گئی وہ ایک ذمہ دار حکومت کے لیے نامعقول رویہ تھا۔ ہمارے ہاں جب سابق وزیر اعظم کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی خبروں کا ہر طرف شور تھاانہی دنوں اقوام متحدہ کے وفد نے مصر کی موجودہ حکومت کو سابق صدر محمد مرسی کی موت کا ذمہ دارٹھہرایا تھا۔ وفد کے مطابق مرسی کو نہایت کسمپرسی کے عالم میں قید رکھا گیا تھا اور ان کی بیماری پر ذرہ بھی توجہ نہیںدی گئی تھی۔ اسلام آباد کے پاس قاہرہ جیسی شرمندگی سے بچنے کا اچھا موقع ہے۔

پی ٹی آئی کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان میں جیل میں موت کا شکار ہونے والا سیاسی لیڈر مزید بڑا رہنما بن جاتا ہے اوروہ اپنی مرقد سے اپنی جماعت کے لیے کم از کم ایک الیکشن جیت ہی لیتا ہے۔ معلوم کرنا ہوگا کہ کیا حکومت کو اقوام متحدہ کی جانب سے جیل کے قیدیوں کے علاج معالجے کے لیے وضع کردہ معیارات اور قوانین کا بتایا گیا تھا یا نہیں جن کا اطلاق اس کیس میں بخوبی ہوتا ہے۔ ان قواعد کا نام نیلسن مینڈیلا کے نام پر مینڈیلا رولز رکھا گیا ہے۔ ان رولز میں قواعد نمبر 24 تا 35صرف جیل انتظامیہ کے قید مریضوں کے علاج اور انہیں بروقت ہسپتال داخل کرانے کے حوالے سے ذمہ داریوں کا تعین کرتا ہے۔قاعدہ نمبر چوبیس کے مطابق جیل میں قید مریض کی صحت کا خیال رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں انہیں وہی سہولیات میسر ہونے چاہئیں جو معاشرے کے دیگر لوگوں کو حاصل ہیں ۔یہی سہولت نیب کے زیر حراست ملزموں کو بھی حاصل ہونی چاہیے۔ کچھ باشعور شہری یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا عام قیدیوں کو بھی علاج معالجے کی وہ سہولیات میسر آسکتی ہیں جو اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کوحاصل ہیں؟یہ سوال اسلام آباد ہائی کورٹ نے میاں نواز شریف کو ضمانت پر رہا کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے بھی اُٹھایا تھا اور ساتھ ہی ساتھ عدالت نے پاکستان بھر کے جیلوں میںبیمار قیدیوں کی حالت سے متعلق رپورٹ بھی طلب کی تھی۔ یہ معاملہ کسی بھی طور سرد خانے کی نظر نہیں ہونا چاہیے۔

پچھلی حکومتوںنے جیل قوانین پر نظر ثانی کرتے ہوئے قیدیوں کوحاصل علاج معالجے کی سہولیات میں کافی اضافہ کیا تھا۔ مثال کے طور پر قاعدہ نمبر 18کے تحت مریض کوجیل داخل ہونے کے فوراً بعد طبی چیک اپ کو لازمی قرار دیا گیا اور رول19 اور20کے مطابق قیدی کے نا قابل بیان زخموںکا بھی ریکارڈ لینے اور جج کو اس بارے میںآگاہ کرنے کا پابند کرتا ہے۔ اسی طرح قاعدہ نمبر146 بوڑھے اور شدید بیمار قیدیوں کی رہائی کا بھی جواز فراہم کرتا ہے جبکہ اس قانون کا باب32 جیلرصاحبان کی بیمار قیدیوں کی اسپتال منتقلی اور ذہنی طور پر مفلوج قیدیوں کی خصوصی نگہداشت کے متعلق ذمہ داریوں کابھی تعین کرتا ہے۔ کیا ان تمام قواعد پر ان کی اصل روح کے مطابق عمل کیاجاتا ہے؟ یہ ممکن ہے کہ ان ضوابط کا کسی حد تک خیال رکھا جاتا ہومگر ان پر کلی طور پر عملداری نظر نہیں آتی۔ آج کوئی بھی جیلر کسی بیمار قیدی کو اس کی بیماری یا معذوری کی بنیاد پر رہا کرنے کی جرات نہیں رکھتا۔ ابھی اگلے دن بلوچستان پولیس کے آئی جی نے یہ انکشاف کیا کہ صوبے کی جیلوں میں کم از کم ساٹھ ایسے مریض ہیں جو اب تک اپنی رحم کی اپیلوں پرفیصلوں کی منتظر ہیں اور انہوں نے عمر قید کے برابر قید بھی کاٹ لی ہے۔ ان میں سے اکثر ذہنی یا جسمانی طور پر بیمار ہیں اور ان کی فوری رہائی کی ضرورت ہے۔ مگر یہاں ایوان صدر کی جانب سے کوئی ہمدردی دکھائی جاتی ہے نہ ہی جیل اہلکاروں کی جانب سے کوئی رحمدلی پر مبنی رویہ ان کی داد رسی کرتا ہے۔ منڈیلا قواعد پرعملداری کے لیے حکمران بھی کوئی خاص توجہ نہیں دیتے کہ شاید یہ اس بنیادی شرط سے نا آشنا ہیں جن پر یہ قواعد منتج ہیں اور وہ یہ کہ تمام مجرم، قیدی ہونے کے باوجود بطور انسان اپنے تمام حقوق محفوظ رکھتے ہیں ۔ اور انہیں ایک انسان کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

رول نمبر ایک کے مطابق تمام قیدیوں کے ساتھ انسان ہونے کے ناتے احترام سے برتاؤکیا جانا چاہیے کہ وہ قیدی ہو کر بھی اپنی بنیادی حرمت اور توقیر کے حامل ہوتے ہیں۔اس رول کے مطابق کسی بھی قیدی کو غیر انسانی اور ظالمانا طرز پر تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا اورنہ ہی انہیں کوئی ہتک آمیز سزا دی جا سکتی ہے۔ مزید برآں کسی بھی صورتحال یا حالات کو اس طرح کے کسی بھی عمل کے جواز کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ رول تمام قیدیوں کی ایسے اقدامات سے حفاظت یقینی بناتا ہے اور ان سمیت تمام جیل اہلکاروں اور ملاقاتیوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کے علاوہ رول پانچ میں تو قیدی اور ایک عام ، آزاد شہری کی زندگی میں فرق کو بھی کم سے کم کرنے تک کا حکم ملتا ہے ۔

مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ تمام باتیں پاکستانی اذہان کے لیے بالکل اجنبی ہیں۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمیں دہائیوں سے ایسے حکمرانوں کا سامنا ہے جو متشدد اور ظالمانہ رویوں کے حامل تھے۔ ہم ایسی متشدد طرز سیاست کی شکنجے میں ہیں جہاں دلیل کی جگہ ہتک اور ذلت معمول بن چکا ہے۔ یہاں میاں نواز شریف کو قید اور مولانا فضل الرحمن کو دھرنے کے باعث ذلت آمیز ناموں سے پکارا جانے لگتا ہے اور ان کا نام لیتے ہوئے کسی طرح کی عزت اور احترام کا پاس نہیں رکھاجاتا ۔

پاکستان کے حکمرانوں کے لیے مینڈیلا قواعد شاید کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور نہ ہی انہیں ان کے درست طور اطلاق میں کوئی دلچسپی ہے۔ مگر ہماری جیلوں میں قیدیوں سے ایسے ذلت آمیز اورظالمانہ رویوں اور زیر حراست تشدد کی بنیادی وجہ ہماری اشرافیہ کی وہ تکبرانا ذہنیت ہے جوانہیں تمام انسانوں کی برابر حیثیت اور عزت و احترام کے حق کو قبول کرنے سے روکتی ہے۔

(بشکریہ ڈان، ترجمہ : خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں