Daily Mashriq

پلان اے سے زید تک

پلان اے سے زید تک

مولانا فضل الرحمان نے تیرہ دن بعد اسلام آباد میں اپنا دھرنا سمیٹ کر قافلوں کو رخت سفر باندھنے کا حکم دیا تو ملک میں ایک سکون اور اطمینان کی لہر سی دوڑ گئی ۔تاہم مولانا نے پلان اے کی ناکامی کے بعد پلان بی اور اس کے بعد پلان سی کا اعلان کیا ۔پلان بی کے تحت ملک کی اہم شاہرائوں پر دھرنے دینے کے علاوہ ٹریفک جام کی جانے لگی ہے ۔اس کے بعد پلان سی کیا ہوگا ؟ اور پلانوں کا یہ سلسلہ کہا ں جا کر رکے گا؟یہ بات تاحال معلوم نہیں ۔نتیجہ کچھ بھی ہو مولانا نے عمران حکومت کو توے پر بٹھائے رکھنا ہے گویا کہ حکومت کو اب چین نہیں لینے دینا ۔یہ وہ پہلو ہے جس میں عمران خان کی حکومت کے لئے نہ سہی مگر ان کی سیاست کے لئے حیات نو کا پیغام ہے۔ مولانا نے اپنا دھرنا پرامن انداز سے سمیٹ کر عملیت پسندی کا ثبوت دیا ۔انہوں نے تقریروں میں اپنی گرمی ٔ گفتار جا ری رکھی اور حکومت پر تابڑ توڑ حملے کئے مگر حیرت انگیز حد تک حکومت نے عمومی طور پر اپنے اعصاب قابو میں رکھے اور خود وزیر اعظم عمران خان نے اس مرحلے پر تلخ نوائی کی بجائے خاموشی کو ہی ترجیح دی۔حزب اختلاف کی دوبڑی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے دل مولانا کے کنٹینر پر دھڑکتے تو رہے مگر انہوںنے عملی طور پر خود کو کنٹینر سے ایک فاصلے پر رکھا اور مولانا کے ساتھ غیر جماعتی دوستوں میں صرف محمود خان اچکزئی اور مولانا شاہ احمد نورانی کے صاحبزادے انس نورانی ہی نظر آتے رہے۔ایک ثقہ رائے یہ تھی کہ دھرنا دوبڑی جماعتوں نے حکومت پر دبائو بڑھانے کے لئے منظم کیا ہے ۔

مولانا حسب اعلان پندرہ لاکھ تو کیا اس کا نصف بھی اسلام آباد میں جمع کرنے میں کامیاب نہ ہوئے ۔جس کے بعد پلان اے کی کامیابی مشکوک ہوگئی تھی ۔مولانا اپنا دھرنا حکومت سے کسی مفاہمت اور معاہدے کے بغیر منتقل کر بیٹھے جس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست وحکومت کے ساتھ وہ کسی معاہدے اور پیماں میںبندھے نہیں ۔یہ اعتماداور مکالمے کا ایک خلاء ہے اور اس خلاء کو کوئی بھی طاقت پر کرسکتی ہے ۔اس سے یہ بھی لگتا ہے کہ حکومت اور جے یو آئی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے ہیں ۔دھرنے میں ایک مرحلہ ایسا آیا کہ جب مولانا کے عمومی رویے کے برعکس ان کے لب ولہجے میں تشدد کی خواہش جھلکنے لگی تھی اور وہ لاشیں اُٹھانے اور خون بہانے کی باتیں کرنے لگے تھے یوں ان کی سیاست روایتی عملیت پسندی کے دائرے سے نکلتی ہوئی محسوس ہونے لگی تھی۔جس سے ماضی کے تلخ اور خونیں واقعات ذہنوں میں گردش کرنے اور نگاہوں میں گھومنے لگے تھے ۔جن میں مولانا صوفی محمد کی تحریک ،اکبر بگٹی اور لال مسجد جیسے واقعات جنہیںحادثات کہا جائے تو غلط نہ ہوگا شامل تھے۔ خود جے یو آئی کے راہنما اور معروف وکیل کامران مرتضیٰ ایک ٹی وی انٹرویو میں ازراہ تفنن کہتے ہوئے پائے گئے کہ جب چوہدری برادران ثالثی کے لئے سرگرم ہوئے تو ہمیں لال مسجد اور اکبر بگٹی کیس یاد آئے کہ خداخیر کرے ہمارا کیا ہونے والا ہے ؟۔اس ملک کے دو عشرے لاشیں اُٹھاتے گزر گئے۔اب مولانا کا پلان بی سڑکیں اور شاہراہیں روکنے سے متعلق ہے ۔اس میں بھی تشدد کے خدشات موجود ہیں ۔کوئی تیسرا ہاتھ کسی بھی احتجاج میں اپنا رنگ دکھا کر ملک میں تصادم کی فضا پیدا کر سکتا ہے ۔اچھا ہو کہ مولانا فضل الرحمان پلان اے سے زیڈ تک ہر سیاسی حکمت عملی کو پرامن جدوجہد تک محدود رکھیں ۔یہی سیاست کے میدان کا اصول اور تقاضا ہوتاہے ۔دنیا کی کوئی طاقت ایک سیاسی کارکن سے پرامن جدوجہد کا حق نہیں چھین سکتی۔مولانا فضل الرحمان کے موقف کی بنیاد انتخابی دھاندلی ہے ۔پاکستان کی تاریخ کاکون سا الیکشن ہے جسے کسی شفاف اور غیر جانبدار کہا گیا ہو۔ستر کے جس الیکشن کو شفاف کہا گیا اس پر بھی جنرل شیر علی کا الیکشن ہونے کی پھبتی کسی جاتی رہی ۔اٹھاسی کے انتخابات میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے حکومت بنائی مگر وہ شکوہ کناں رہیں کہ ان کی کامیابی کو محدود رکھنے کے لئے ہئیت مقتدر ہ نے شریف خاندان کی حمایت کی ۔اس کے بعد ہر الیکشن پر ہارنے والی جماعت نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ۔نوے کی دہائی کے ایک الیکشن پر شیخ رشید نے یہ جگت ماری تھی کہ انتخابات کو ریگ مال پھیر کر شفاف بنایا گیا ہے ۔ میاں نوازشریف کے بھاری مینڈیٹ کو بے نظیر بھٹو نے ایک لمحے کو قبول نہیں کیا ۔گزشتہ سے پیوستہ الیکشن میں مسلم لیگ ن جیتی تو آصف زرداری نے کہا کہ گو کہ ہمیں انتخابات کے نتائج سے شکایت ہے مگرہم جمہوریت کی خاطر نتائج کو قبول کر رہے ہیں۔انہوں نے احتجاجاََ قبول کرنے کی اصطلاح ایجاد کی تھی ۔ سیاسی جدوجہد جب امن کے پیمانے سے چھلک پڑے تو یہ امن وامان کا مسئلہ بن جاتی ہے اور پھر ریاست کے تیور بھی بدل جاتے ہیں بلکہ تیوری چڑھ جاتی ہے ۔ریاست کو مخالفین کو نشان عبرت بنانے کا موقع میسر آتا ہے ۔حکومت پر تنقید اور مخالفت ہر سیاسی قوت کی طرح مولانا کا حق بھی ہے اور مثبت تنقیدحکمرانوں کو راہ رست پر رکھنے میں اہم کر دار ادا کرتی ہے ۔مثبت تنقید حکومتوں کو عوام دوست رویہ اپنانے اور عوام دوست پالیسیاں اپنانے پر مجبور کرتی ہے۔ جمہوریت اور انقلاب میں فرق یہی ہے کہ جمہوریت پرامن اور غیر خونی ہوتی ہے اور انقلاب ایک بپھرے ہوئے طوفان کی طرح سب کچھ بہا لے جانے کا نام ہے ۔ اے سے زیڈ تک کسی بھی پلان کے جمہوری ہونے کا معیار اور پیمانہ یہی ہے کہ وہ کلی طور پرامن کے دائروں میں گردش کرتا چلاجاتا ہے ۔

متعلقہ خبریں