Daily Mashriq

مذہب اور سیاست' عجیب کہانی

مذہب اور سیاست' عجیب کہانی

خود مذہب اور انسانی زندگی پر اور ان کے درمیان تعلق پر طول طویل بحثیں ہوتی رہی ہیں اور اسی بناء پر مذہب کی داستان طویل ہونے کے علاوہ دلچسپ بھی ہے۔ آسمانی یا الہامی مذاہب الگ ہیں اور غیرالہامی الگ۔ لیکن پھر ان کے درمیان بھی اشتراک کے باوجود بہت بنیادی اختلافات رونما ہوتی رہی ہیں۔ یہودیت' مسیحیت اور اسلام' الٰہی والہامی مذاہب ہونے کے باوجود بیک وقت مشترکات اور اختلافات رکھتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ تب سامنے آئی جب مغرب نے فطری علوم (نیچرل سائنس) میں دسترس حاصل کرلی۔ اسی زمانے میں (1882ئ) میں فریڈرک نطشے نے اعلان کیا کہ فطری علوم کی روشنی کے بعد مذہب کے بارے میں لوگوں کے رجحان میں واضح تبدیلی آجائے گی۔ ان کے اس موقف کو مغرب میں سائنسی وصنعتی ترقی کے بعد کئی لحاظ سے بہت پذیرائی حاصل ہوئی اور مذہب پرستوں کیخلاف پروٹسٹنٹ کے نام سے ایک ایسا مکتبہ فکر وجود میں آیا اور قیصر (بادشاہ/ریاست وحکومت) اور چرچ وپادری کے درمیان اختیارات ومعاملات کو اس انداز سے تقسیم کیا کہ مذہب اور ریاست وسیاست کے درمیان براہ راست تعلق باقی نہ رہا۔ اس کے نتیجے میں جہاں مغرب میں جمہوری نظام سیاست پروان چڑھا وہاں بہت شدت کیساتھ مذہب بیزاری بھی وجود میں آئی۔ مغرب کے فلاسفہ اور سکالرز کی اکثریت نے مذہبی روایات سے انکار پر مبنی نظریات کو فلسفیانہ دلائل کیساتھ آگے بڑھایا جس کو فی زمانہ برطانیہ کے پروفیسر رچرڈ ڈاکنز' سام ہیرس' کرسٹوفر ہیچنز اور دیگر دانشور بڑی شد ومد کیساتھ پیش کر رہے ہیں لیکن عجیب ودلچسپ بات یہ ہے کہ 70ء کے عشرے میں دنیا میں مذہب اور مذہبی روایات وعقائد کی بنیاد پر سیاسیات کا احیاء اس انداز سے ہوا کہ امریکہ جیسے ملک میں جیری فالویل جیسے پادریوں اور مبلغین نے غیرمعمولی شدت کیساتھ ''سیکولر ہیومن ازم کی مخالفت کی۔ اسرائیل تو بعض لوگوں کی رائے میں وجود میں آیا ہی صیہونیت کے نظرئیے پر تھا اور اس عشرے میں صیہونیت جس شدت سے اُبھری اس کے اثرات اس وقت اہل فلسطین پر شدید مظالم کی صورت میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح 1979ء میں ایران میں لبرل رضا شاہ کی حکومت کا تختہ کٹر مذہب پرستوں کے ہاتھوں اُلٹا ہوا۔ پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی اسلامائزیشن کی لہریں بھی اسی دور کی یادگار ہیں۔ یہ تمام واقعات اس بات کی گواہی کیلئے کافی ہیں کہ مذہب تب اور اب اور مستقبل میں انسانوں کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا جبکہ متذکرہ بالا تین ملحد اور ان کے ساتھی وہمنوا ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ انسانی شعور میں پیوست مذہبی عقائد وروایات کو بیخ وبن سے اکھاڑا جائے۔ ان کے نزدیک مذہب انسانوں اور اقوام کے درمیان تفریق' اختلافات اور نزاع پیدا کرنے اور جنگوں کا سبب ہے۔ مذہب کے کہنہ عقائد ورسوم غیرسائنسی' غیرعقلی اور غیرمنطقی ہیں۔ یہ محض سادہ لوح اور کم فہم افراد کیلئے اچھی پناہ گاہ فراہم کرتا ہے۔ یہ عورتوں کے حقوق کو غصب کرتا ہے اور بچوں کے فطری اذہان وقلوب کو تبدیل کرتا ہے لیکن دنیا میں مذہبی سرگرمیوں کے حوالے سے جو صورتحال ہے اور جو سنجیدہ مباحث اور تحریکیں اُٹھی ہیں وہ ان ملحدوں اور اسی قبیل کے دیگر افراد کے نظریات الحاد کو سختی کیساتھ رد کرتی ہیں اور ان کی شدید غلط فہمی اور خام خیالی کو آشکار کرتی ہیں کیونکہ مذہب اتنا قدیم ہے جتنا خود انسان لیکن آج دنیا مذہب کے حوالے سے دو واضح گروہوں میں تقسیم ہے۔ ایک وہ لوگ ہیں جو مذہب کو قدیم مانتے ہوئے اسے حضرت آدم سے خاتم النبیینۖ تک مکمل مان کر قیامت تک کیلئے ضروری اور زندگی کا لازمی حصہ قرار دیتے ہیں اور یہ مسلمان' اہل ایمان اور خاتم النبیینۖ کے پیروکار کہلاتے ہیں جبکہ دوسرے گروہ میں مسلمانوں کی طرح دو گروپس ہیں۔ ایک ملحدوں کی جماعت جو سائنسی اور فطری علوم کے سبب مذہب کی ضرورت سے انکاری ہے اور دوسری جماعت وہ ہے جو مذہب کو مانتے تو ہیں لیکن ریاستی امور میں اس کے عمل دخل کو قانونی وآئینی طور پر ختم کیا ہے۔ مسلمان ممالک میں بھی اس حوالے سے عجیب صورتحال اور مخمصہ ہے جو گزشتہ ایک صدی سے جاری ہے۔ اسلامی ممالک میں کم وبیش سارے ممالک کی استعماری قوتوں سے آزادی میں مذہب کا فیصلہ کن کردار رہا ہے یہاں تک کہ پاکستان تو ''پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ سعودی عرب میں آل سعود کی حکومت کے قیام میں شیخ عبدالوہاب بخدی جو ایک کٹر عالم دین اور اپنے زمانے کے مصلح تھے کا بڑا کردار تھا لیکن اس وقت کسی بھی اسلامی ملک میں مذہب کا وہ کردار نظر نہیں آتا جو قرآن وسنت کا تقاضا ہے بلکہ ریاستی سطح پر آمریت اور جمہوریت دونوں کے جواز کیلئے بوقت ضرورت مذہب کا کھل کر استعمال ہوتا ہے۔بعض اوقات تو ایسے بھی ہوا ہے کہ مذہب پرستوں کے درمیان نقطۂ نظر اور مکتب فکر کے اختلافات کے باعث بڑا ملی نقصان ہوا ہے جسے ترکی میں اردوان جیسے مذہبی انسان اور گولین کے درمیان پاکستان میں مدینہ کی ریاست کے طرزحکومت چلانے کے علمبرداروں اور اس کیخلاف آزادی مارچ چلانے والوں کے درمیان ہو رہا ہے جس میں عوام اور اُمت کے بڑے نقصان کا خطرہ درپیش ہے اسلئے شاید اب ضرورت اس بات کی درپیش ہے کہ اسلامی ملکوں میں آئینی اور قانونی حوالوں سے اس اہم موضوع پر ٹھوس اور سنجیدہ کام کیا جائے یعنی ریاست میں مذہب کے عمل دخل کی حدود کا تعین کیا جائے ورنہ اس قسم کے معاملات اسلامی ملکوں کی سلامتی اور بالخصوص اندرونی امن وامور کو زلزلوں کے شکار کرتے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں