Daily Mashriq

تعلیم مہنگی نہیں ' ناممکن ہونے جارہی ہے

تعلیم مہنگی نہیں ' ناممکن ہونے جارہی ہے

وطن عزیز میں موجودہ یا گزشتہ ہر حکومت کا یہ موٹو رہا ہے کہ پاکستان کی عوام نابلد رہے تعلیم تو پہلے تھی ہی کم کم اب اس کا معیار بھی گرتے گرتے زمین بوس ہوگیا ہے تعلیم کا معیار تو بڑھا نہیں لیکن تعلیمی ادارے ضرور بڑھ گئے اور ان کا کام صرف اور صرف نوٹ کمانا ہے ۔لے دے کر ہائر ایجوکیشن کمیشن تھا اب اسے بھی تہس نہس کرکے تعلیم کے معیار کو کنٹرول کرنے والے ادارہ کو ہی سرے سے ختم کردیا جارہا ہے۔ لیکن اگر یہ کنٹرول ختم نہ کیا گیا تو پھر جعلی ڈگریاں کہاں سے آئیں گی ۔یہ ایک قسم کی لانگ ٹرم پالیسی ہے حالانکہ سیاست دانوں کے مخالفین کہتے ہیں کہ یہ ہمیشہ ناک کے نیچے ہی سوچتے ہیں۔انہوں نے کبھی آنے والی نسلوں کے لئے نہیں سوچا مگر اب اگر دیکھا جائے تو سیاست دان ''اپنی '' آنے والی نسلوں کے لئے سوچ رہے ہیںتاکہ ان کو جعلی ڈگری لینے میں کسی قسم کی مشکل نہ ہواور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ان کے بچوں کو سکول جانے کی زحمت نہ اُٹھانا پڑے۔یہ ان کے لئے فخر کی بات ہے کہ ان کے بچے سکول و کالج جائے بغیر ڈگری لے لیں۔ ہمیں اس بات پر زرا بھی فخر نہیں کہ ہم بھی کبھی سکول میںپڑھتے تھے کیونکہ ہمارے ملک میں سکول جائے بغیر اور امتحان دیئے بغیرڈگریاں مل جاتی ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جعلی ڈگری والا کسی کا بھی حق مار کر سرکاری عہدہ بھی حاصل کرسکتا ہے۔ سرکاری بھی اور عوامی و سیاسی عہدے بھی اس کی راہ میں سرتسلیم خم کھڑے ہوتے ہیں۔ہم نے تعلیم اس لئے بھی حاصل کی کیونکہ ہم اس زمانے میں بچے تھے بچوں کو اس طرح کے انوکھے حل کہاں سوجھتے ہیں بچے تو صرف والدین کی امیدوں پر پورااترنے کے لئے کوشاں ہوتے ہیں اوراس ساری جدوجہد کے دور میں والدین انہیں یہ شعر سناتے رہتے ہیں۔

کھیلوگے کودوگے تو ہوگے خراب

پڑھوگے لکھو گے تو بنو گے نواب

مگر یہاں تو الٹا ہی چل رہاہے خراب کوئی اور ہو رہا ہے اور'' نواب'' کوئی اور بنا بیٹھا ہے۔ جس ملک میں انصاف بک رہا ہو وہاں ڈگریوں کی خرید و فروخت کوئی اچھنبے یا تعجب کی بات نہیںہونی چاہیئے ۔ہم بات کررہے تھے اپنے سکول جانے کی ' سال بھر سکول میں ایک ہی کلاس میں پڑھنے کے بعد ہر سال نتیجہ بھی نکلاکرتا تھااور تقریباًا سی مہینے میں ہمارے بھی سالانہ امتحانات کے بعد نتیجے نکلتے تھے۔سارے سکول کا رزلٹ ایک ہی دن ہوا کرتا تھا اور پورے کا پورا سکول پھولوں کی مہک سے معطر ہوجاتا اور پاس ہونے والے بچوں اور ان کے اساتذہ پر پھولوں کی اتنی پتیاں نچھاور کی جاتیں کہ سکول کسی نئی نویلی دلہن کا سیج لگتا تھا۔ یہاں یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ ہم صرف پھولوں کے شہر پشاور کی بات نہیں کررہے بلکہ پورے ملک میں اس موسم میں پھول کھلتے ہیں لہٰذہ پھولوں کو نچھاور کرنے کا رواج بھی سارے وطن میں آج تک رائج ہے۔چونکہ یہ بہار کا موسم ہوتا ہے اس پر یہ سماں بندھا ہوتو پھر پاس ہونے کی خوشیوں کے ساتھ ساتھ کئی اور خوشیاں بھی مل جاتیں تھیںاور خوشی سے جھومتے ہوئے ہم اپنے گھر والوں کو اپنے پاس ہونے کی خوش خبری سناتے تھے ہاں کبھی کبھار کلاس میں پوزیشن لینے کی بھی نوبت آہی جاتی تھی۔ آج کل تو پوزیشنیں لینے والوں کے ساتھ بھی ہمارے ملک میں کچھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا۔حکومتیں کبھی کبھی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف کوئی نہ کوئی سکیم شروع کردیتی ہے جیسے کہ ہر بچہ کو سکول بھیجنے جیسے منصوبے، اس کے جواب میں ملک کے عوام نے اپنے بچوں کو سکولوں کو بھیجوانا شروع کر دیا۔ ہر غریب شخص نے اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کے سکول کی کتابیں 'کاپیاں 'پینسلیں اور سکول بیگ خریدے۔ لیکن اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی مشکلات ختم نہ ہوئیں۔ہرماہ سکول اور وین کی فیسیں الگ سے دینی پڑتی ہیں۔اب پھر بچے تو پاس ہوگئے ہیں اور خیر سے اگلی کلاس میں بھی جارہے ہیں اب بچوں کا امتحان ختم ہوتا ہے لیکن بے چارے والدین کا کڑا امتحان اب شروع ہوجاتا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میںجہاں آٹا چینی دال چاول کے بھائو آسمان سے باتیں کررہے ہیں، سوائے انسانی جان کے سب کچھ مہنگا ہوگیا ہے۔ ہماری حکومتیں 'ان میں وفاقی اور صوبائی دونوں شامل ہیں' اس معاملہ سے ایسے پہلوتہی کررہی ہیں جیسے تعلیم ان کا مسئلہ تو ہے ہی نہیں۔ جی ہاں ہم مانتے ہیں کہ مذکورہ حکومتیں غریب آدمی کی باقی کس چیز کا خیال کررہی ہے۔بجلی کی کمی ہے تو ان کی بلا سے۔آٹا چینی دال چاول عام آدمی کو میسر نہیں تو ان کو احساس کہاں ۔نہ جانے یہ ہمارے سیاسی رہنماء ایوانوں اور اقتدار کی کرسیوں میں پہنچ کر عوام کو کیوں بھول جاتے ہیں ۔ گزشتہ چند ماہ سے والدین (بہت کم تعداد میں ہی سہی) اپنی سی کوشش کررہے ہیں وہ بار بار عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹارہے ہیں کبھی ایک صوبہ تو کبھی دوسرے صوبہ کے ہائی کورٹس کے چکر کاٹ رہے ہیں فیصلہ تو ہو جاتا ہے لیکن ایسا مبہم کہ نہ ہی والدین کو سمجھ آتی ہے اور نہ ہی سکولوں کو لہٰذہ وہ اسی چیز کا فائدہ اٹھاکر والدین سے مسلسل پیسے بٹورتے جارہے ہیں کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا ہی فضول ہے اور والدین کو اپنی مدد آپ کے تحت ہی کچھ کرنا پڑے گا ورنہ غریب آدمی کے لئے تعلیم حاصل کرنا محض ایک خواب ہی رہ جائے گا۔

متعلقہ خبریں