Daily Mashriq

کرتارپورراہداری کے بانی

کرتارپورراہداری کے بانی

کرتارپورکوریڈور جسے ''کرتارپور لانگہ'' بھی کہا جاتا ہے، کے بانی ایک سکھ جٹ بھبیشن سنگھ گورائیہ ہیں، جن کا گائوں گورداسپور ضلع کے سرحدی علاقے میں علدول پور گورائیہ کے نام سے آباد ہے۔ بھبیشن سنگھ گورائیہ بھارتی پنجاب میں بی ایس گورائیہ کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں اور صحافت کی دنیا سے بھی ان کا تعلق ہے، اخبارات میں وقتاً فوقتاً لکھتے بھی رہتے ہیں۔ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی خاص فضا بنائی جاتی ہے اور سرکاری اور غیر سرکاری افراد اس فضا کو مسلسل قائم رکھتے آئے ہیں۔ عوام کو یک طرفہ پروپیگنڈے سے مسلمانوں اور پھر نتیجتاً پاکستان کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے۔ ہر قسم کے میڈیا اور بقیہ تمام ذرائع کو مسلسل استعمال کیا جاتا ہے۔ جوانی میں وہ بھی مسلمانوں سے نفرت کی آگ دل و دماغ میں رکھتے تھے اور اس کی وجہ بھی یہی زہریلا پروپیگنڈہ تھا ۔ وہ مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک دن ایک افواہ ان کے گائوں میں پھیلتی ہے کہ ایک دور دراز علاقے میں پندرہ افراد مرگئے ہیں، اور ان کے مرنے کی وجہ امرود کھانا تھا جن کو مسلمانوں نے زہر کے ٹیکے لگائے ہوئے تھے۔ اب عوام ایسی باتوں پر یقین کرنے کے سوا کیا کرسکتے ہیں، کیونکہ ہر کوئی تو اس علاقے میں جاکر اس افواہ کی حقیقت جاننے کی کوشش نہیں کرسکتا۔ پھر کسی دوسرے دن یہ افواہ پھیلتی ہے کہ پاکستان کے سرگودھا شہر میں 25 ہندوئوں اور سکھوں کو قتل کردیا گیا ہے۔ اب بھارت میں کسی کو کیا پتا کہ سرگودھا میں ہندو آبادی ہے اور نہ ہی کوئی سکھ آبادی ہے۔ ایسے پروپیگنڈے کا توڑ یا تو انڈیا کے مسلمان کرسکتے تھے یا پھر خود پاکستانی میڈیا۔ اب بھارتی پنجاب میں تو خال خال ہی مسلمان ہیں، اور وہ بھی بیچارے بہت غریب۔ جبکہ پاکستان کے میڈیا کو وہاں بلاک کیا ہوا ہے۔ چنانچہ بی ایس گورائیہ بھی اسی قسم کی نفرت ذہن میں لے کر جوان ہوئے تھے۔

1994ء میں وہ سوشل سیکورٹی میں منیجر تھے اور ان کی عمر اس وقت 42 سال تھی۔ کسی دوست نے انہیں اپنے ساتھ پاکستان میں سکھ جتھے کے ساتھ جانے پر آمادہ کیا، اور یوں وہ پاکستان آگئے۔ اس دورہ پاکستان میں بی ایس گورائیہ کا ذہن مسلمانوں اور پاکستانیوں کی محبت نے بالکل صاف اور شفاف کردیا۔ وہ بے پناہ پیار اور محبت یہاں سے لے کر واپس ہندوستان گئے۔ لیکن ایسا صرف بی ایس گورائیہ کے ساتھ ہی نہیں ہوا تھا، ہندوستان کے وہ تمام باشندے جو پاکستان کا دورہ ڈرتے ڈرتے کرتے ہیں، پاکستان اور مسلمانوں کے دوست بن کر یہاں سے جاتے ہیں۔

بی ایس گورائیہ نے پاکستان میں دیکھا کہ کرتارپور کا گوردوارہ ہندوستانی سرحد سے صرف ساڑھے تین میل دور ہے اور سکھوں کو پنجاب سے پہلے دہلی، پاکستانی ویزے کے لیے جانا پڑتا ہے، اور پھر واہگہ کے راستے 150 میل کے قریب سفر کرکے نارووال شہر سے شکر گڑھ کی طرف جانا پڑتا ہے، جب کہ کرتارپور کے سامنے سے سرحد کو پار کرنے دیا جائے تو ہندوستانی پنجاب سے کرتارپور صاحب آنے کے لیے پیدل بھی تیس منٹ سے زیادہ نہیں لگتے۔ واپس بھارتی پنجاب جاکر انہوں نے اسی کوریڈور کے بارے میں سوچ بچار شروع کردی۔ لیکن ان کے راستے میں دو بڑی رکاوٹیں تھیں۔ ایک تو یہ کہ وہ سرکاری ملازم تھے، اور دوسرا یہ کہ ایسے کاموں کے لیے معاشی وسائل اور وقت ان کے پاس نہیں تھا۔ انہوں نے صحافت کا ایک ڈپلومہ کر رکھا تھا، لہٰذا انہوں نے سب سے پہلے پنجاب کی سیاست پر لکھنا شروع کردیا۔

کرتار پور کے کوریڈور کے لیے اب گورائیہ پورے طور پر یکسو ہوگئے تھے، انہوں نے اپنی بیوی کے نام پر ایک میگزین نکالنا شروع کیا جس کا نام ''پنجاب مانیٹر'' تھا۔ یہ رسالہ 1997ء میں شروع کردیا گیا تھا۔کرتار پور کوریڈور کی مہم اب گورائیہ کے اکیلے کے بس میں نہیں تھی۔ گورائیہ نے محسوس کیا کہ کلدیپ سنگھ کو اس پراجیکٹ کی طرف لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے جالندھر جاکر اس سے ملاقات کی۔ شروع میں کلدیب سنگھ شش و پنج کا شکار تھا۔ لیکن پھر اس نے اپنے ساتھیوں سمیت اس طرف کام شروع کردیا۔ کلدیب سنگھ وڈالہ اور اس کے ساتھیوں کی اس تحریک میں شمولیت گورائیہ کے لیے بہت مفید اور اسے عوام تک پہنچانے میں بہت اہم ثابت ہوئی۔ کلدیپ سنگھ کے ساتھ ایک پوری ٹیم اس مہم کا حصہ بن گئی۔اس طرح 28 فروری 2001ء کو پہلا اکٹھ دھاریوال میں ہوا۔ 13 اپریل 2001ء کو بیساکھی کے موقع پر ان تمام لوگوں نے کرتارپور گوردوارہ کے سامنے بھارتی سرحد پر درشن کرنے کے لیے اکٹھ کیا اور اپنے رب سے دعا (ارداس) کی کہ اے ہمارے رب پاکستان میں موجود ہمارے 450 سے زیادہ گوردوارے جو ہم سے بچھڑ گئے ہیں، اپنی رحمت اور کرپا سے ہمیں ان کے کھلے درش عطا کر۔آنے والا وقت اس خیال کو ثابت کرے گا کہ کرتارپور کا راستہ پاکستان کے لیے بے پناہ مالی اور معاشی مفادات لے کر آئے گا۔ ہندوستان کی حکومت طویل عرصے سے اس مسئلے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے تھی، جس کا مطلب سکھوں کو ناراض نہ کرنا تھا۔ لیکن سکھ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے، کیونکہ پاکستان تو 2000ء کے بعد سے ہی اس بات پر راضی تھا۔اس فیصلے سے ہندوستانی عوام میں پاکستان کے خلاف پیدا کی گئی نفرت میں کمی آئی ہے وقت کے ساتھ ساتھ اس نفرت میں مزید کمی آئے گی،یقینایہ پاکستان کی بہت بڑی جیت ہے۔

متعلقہ خبریں