Daily Mashriq


چہار فریقی گروپ کا اجلاس' ایک مرتبہ پھر صفر سے آغاز

چہار فریقی گروپ کا اجلاس' ایک مرتبہ پھر صفر سے آغاز

چہار فریقی تعاون گروپ (کیو سی جی) کے تحت افغان امن مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مسقط میں پاکستان، چین، امریکا اور افغانستان کے نمائندوں کا اجلاس ایک مرتبہ پھر افغانستان کے مسئلے کے حل کی طرف سنجیدگی ظاہر کرتی ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق اجلاس ایک علامتی اجتماع تھا جس کا مقصد 4ممالک کے فورم کے طریقہ کار کو وضح کرنا تھا جو گذشتہ ایک سال سے تعطل کا شکار تھا۔واضح رہے کہ کیو سی جی کے عمل کے چھٹے سیشن کے حوالے سے ہونے والی ملاقات کے بعد اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، یہ مذاکرات افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور کی گذشتہ سال مئی میں ڈرون حملے کے دوران جاں بحق ہونے کے بعد ملتوی ہوگئے تھے۔یاد رہے کہ کیو سی جی کے اہم مقاصد میں سے ایک مقصدافغان حکومت اور جنگجوئوں کو مذاکرات کی میز پر لانا بھی ہے جبکہ طالبان پہلے ہی یہ اعلان کرچکے ہیں کہ وہ مسقط میں ہونے والے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ایک بیان میں افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ چہار فریقی اجلاس کے دوران کابل اور اسلام آباد کے تعلقات بہتر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اس اجلاس میں زیر غور آئیں گے اور نتائج کے بارے میں آگاہ کردیا جائے گا۔ افغان میڈیا نے وزیر خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے کہا کہ کابل یہ امید کرتا ہے کہ ماضی میں ہونے والے وعدوں کو پورا کرنے اور امن کے لیے روڈ میپ دینے کے لیے مخصوص مقاصد وضع کیے جائیں گے۔واشنگٹن میں موجود سفارتی مبصرین کا کہنا تھا کہ امریکا مذکورہ مذاکرات میں طالبان کو شامل کرنا چاہتا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ نشاندہی بھی کی کہ مذاکراتی عمل میں طالبان کی غیر موجودگی کسی پیش رفت تک رسائی کے امکانات کو کم کردے گی، تاہم جنوبی ایشیا کے سینئر سفارت کاروں نے زور دیا کہ مذاکرات اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ پاکستان کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے، جیسا کہ 21 اگست کی تقریر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام لگایا تھا۔ہم سمجھتے ہیں کہ قبل ازیں بھی مختلف فورمز پر متعدد بار مذاکرات ہو چکے ہیں۔ مشاورت بھی بہت ہوئی ہے لیکن بات گھوم پھر کر مذاکرات کے خاتمے اور معطلی پر ختم ہوتی رہی ہے، اس لئے کسی نئی سلسلہ جنبانی سے کسی اُمید کے برآنے کی توقع قبل از وقت ہوگی۔ ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے کسی امید کا بھی اس وقت تک اظہار نہیں کیاجاسکتا جب تک کوئی ٹھوس صورتحال سامنے نہ آئے۔ بہر حال اس کے باوجود پاکستان' چین' امریکہ اور افغانستان کے نمائندوں کا اکٹھ ایک مثبت اشارہ ہے جس سے مسئلے کے حل کی طرف سنجیدہ غور و خوض کا عندیہ ضرور ملتا ہے۔ ان ممالک کی مشاورت کے علاوہ روس' ایران اور بھارت جیسے ممالک کو بھی اگر کسی مرحلے پر اعتماد میں لیا جائے تو شاید زیادہ بہتر ہو مگر فی الوقت وہ منزل دور دکھائی دیتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چہارم فریقی مذاکرات میں جب تک طالبان کے نمائندوں کی شرکت کا مرحلہ نہ آئے تب تک یہ یکطرفہ مشاورت ہی کے زمرے میں شمار ہوگا کیونکہ معاملے کے اصل فریق محولہ چار ممالک نہیں بلکہ افغان طالبان ہیں جن کی مرضی و منشا اور رضا مندی کے بغیر اگر اس مسئلے کا کوئی حل نکلنا ممکن ہوتا تو اب تک وہ صورتحال سامنے آچکی ہوگی۔ مری میں افغان طالبان سے مذاکرات کو کابل نے کیوں سبو تاژ کیا اور اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ان مذاکرات کو بھی ایسے حالات پیدا کرکے لاحاصل نہ کیا جائے گا۔ مذاکرات کو اعتماد کی فضا میں آگے بڑھانے کے لئے ان تمام معاملات کو یقینی بنانا ہوگا۔ ہمارے تئیں چونکہ یہ معاملہ افغانستان کا داخلی مسئلہ ہے اس لئے یہ افغان حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے داخلی قوتوں کو اس قدر اعتماد دلانے کی کوشش کرے کہ وہ ان سے رابطے آگے بڑھانے پر آمادہ ہوں۔ اس ضمن میں امریکہ افغان حکومت کی مدد کرسکتا ہے جبکہ چین اور پاکستان کاکردار ثالث اور ضامن کا بن سکتا ہے۔ امریکہ ایک جانب افغانستان میں سابق افغان صدر حامد کرزئی کے بقول داعش کو اسلحہ دے کر مضبوط بنا رہا ہے اور دوسری جانب افغان مسئلے کے حل کا خواہاں ہے۔ بیک وقت یہ دونوں صورتیں ممکن نہیں۔ حال ہی میں رہائی پانے والے غیر ملکی جوڑے کا بیان 'کہ انہوں نے دوران حراست پانچ سالوں کے اندر کوئی افغان اور امریکی فوجی نہیں دیکھا' صورتحال کو سمجھنے کے لئے کافی ہے ، اس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغانستان میں ایسا علاقہ موجود ہے جہاں طالبان ہی کاراج ہے۔ خود امریکی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ چالیس فیصد حصے پر طالبان کا قبضہ ہے۔ کیا اس صورت میں ساٹھ فیصد اور چالیس فیصد کے تناسب سے معاملت کرنے کی راہ ہموار نہیں کرنی چاہئے۔ کیا ایسا نہ کرکے کوئی پیشرفت ممکن ہوگا۔ ہمارے تئیں اس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ مسقط مذاکرات ہوں یا دوحہ یا پھر مری فرق صرف موخر الذکر میں طالبان کی نمائندگی ہونے اور اول الذکر میں ایسا نہ ہونا ہے جس کا مطلب یہ لیا جاسکتا ہے کہ طالبان کے جو گروپ پہلے مذاکراتی عمل میں بیٹھنے پر آمادہ تھے، بداعتمادی اب اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ اس پر بھی آمادہ نہیں۔ جب تک معروضی صورتحال اور حقائق کے ادراک کے ساتھ مذاکرات اور معاملت کی سعی نہیں ہوتی اور معاملے کے اصل فریقوں کے درمیان سلسلہ جنبانی شروع نہیں ہوتی۔ محولہ اجلاس ومشاورت اور اقدامات کا نتیجہ خیز ہونا ممکن نہیں۔

متعلقہ خبریں