Daily Mashriq


اسمبلی یا بازیچہ اطفال

اسمبلی یا بازیچہ اطفال

خیبر پختونخوا اسمبلی میں اس وقت کے صوبائی وزیر اور موجودہ رکن خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے اڑھائی سال بعد محکمہ بلدیات سے متعلق ایک استفسار کا جواب ملنے پر محکمہ بلدیات اور اسمبلی سیکریٹریٹ کا استہزائیہ شکریہ ادا کرتے ہوئے سوال واپس لینا ایک ایسا اقدام ہے جس پر سیاستدانوں اور خاص طور پر پی ٹی آئی کے قائد کے لب ولہجے میں تبصرہ کرنا ممکن نہیں۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کو ایوان کم اور بازیچہ اطفال زیادہ بنانے میںاس کے کسٹوڈین سے لے کر حکومتی بنچوں کے اراکین تک کسی نے بھی کسر نہیں چھوڑی۔ سپیکر اسد قیصر کا حقدار کو محروم کرکے جونیئر کو سیکرٹری مقرر کرنے کے عمل کو سروس ٹریبونل پہلے ہی غیر قانونی قرار دے چکا ہے۔ اسی طرح ایک سیٹورڈ کو اسمبلی سیکریٹریٹ میں اعلیٰ عہدے پر کھپانے کی بازگشت بھی رہی، محکمہ بلدیات کا تو باوا آدم ہی نرالہ ہے۔ اس طرح کے انتظام کاری میں اڑھائی سال بعد ہی سوال کاجواب ملنا کونسے اچھنبے کی بات ہے۔ صرف یہی نہیں حکومتی اراکین اور وزراء کا اسمبلی اجلاس میں بیٹھنے کی زحمت نہ کرنا بھی اسمبلی کی وقعت کو پامال کرنے کے مترادف ہے جس پر قائد حزب اختلاف کا سیخ پا ہونا فطری امر تھا۔ یہ اس طرح کی صورتحال اور اقدامات ہی ہوتے ہیں جو حکومت کی کارکردگی اور شفافیت کی خلاف ورزی اور خلاف میرٹ کام کرنے کے تاثر کا باعث بنتے ہیں جس کے نتیجے میں عوامی رائے کسی حکومت کے بارے میں منفی ہونے لگتی ہے۔ اسی آئینی ادارے کے سربراہ کو کئی بار عہدے کا وقار ملحوظ خاطر رکھنے کے مشورے دئیے جا چکے ہیں مگر صدا بصحرا ہی ثابت ہوئے۔

سمگلنگ کی روک تھام' احسن اقدام

سمگلنگ پر پابندی کے فیصلے پرعملدرآمد کے خلاف معذور افراد کا پریس کلب کے باہر مظاہرہ اس لئے بلا جواز ہے کہ قانون میں کسی بھی شخص کے لئے سمگلنگ کا راستہ اختیار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں البتہ ان کی جسمانی حالت دیکھ کر ان سے ہمدردی ضرور ہوتی ہے۔ جسمانی طور پر خواتین اور معذور افراد کو سمگلر 'کیرئیر' کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ٹرائی سائیکل پر لادا ہوا سامان ان کا نہیں ہوتا بلکہ بڑے بڑے سمگلروں کا ہوتا ہے۔ گنڈے مار کہلائے جانے والے یہ افراد جس رفتار سے موٹر سائیکل چلاتے ہیں اس سے حادثات کا ہونا معمول ہے۔ اگر نہ بھی ہو تو ان کے پاس سے گزرنے پر لمحہ بھر کو دل دہل ضرور جاتا ہے۔ اس کے باوجود اب تک ان کے ساتھ نرمی کیوں برتی گئی اس کاجواب متعلقہ حکام ہی دے سکتے ہیں۔ ہمارے تئیں یونیورسٹی روڈ کی سڑک اب اس قابل نہیں کہ اس کو اس طرح کے عناصر کے لئے کھلا چھوڑ دیا جائے وہاں کی صورتحال اب اس امر کا متقاضی ہے کہ کمرشل گاڑیوں کا صبح اور شام کے وقت رش کے باعث داخلہ ممنوع قرار دیا جائے تاکہ ٹریفک جام اور دھول اڑنے کی بدترین صورتحال کا خاتمہ ہو۔ حکومت کو سمگلنگ کے کاروبار سے وابستہ خواتین اور معذور افراد کے لئے متبادل روزگار اور وظیفے کا ضرور بندوبست کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فاقوں کی نوبت نہ آئے۔

اخراجات بھاری کارکردگی صفر

ڈبلیو ایس ایس پی سالانہ کتنا کچرا اُٹھاتی ہے اور کتنے ٹن کوڑا کرکٹ ادھر ہی چھوڑ دیتی ہے اور اس کو سالانہ سرکاری خزانے سے کتنی بھاری رقم دی جاتی ہے یہ تفصیل گزشتہ روز کے شمارے میں سامنے آچکی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس قدر بھاری رقم کی وصولی کے باوجود غیر مطمئن کارکردگی کے باعث حیات آباد اور بعض دیگر علاقوں کو اس سے واپس لے کر پی ڈی اے کے حوالے کر دیا گیا مگر اس کے باوجود ٹنوں کچرا گلیوں اور سڑکوں پر پڑا رہتا ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو آنے والی حکومت اس کمپنی کو بوریا بستر سمیٹنے ہی کا کہے گی۔ اگر اتنے بھاری اخراجات کے باوجود بھی کارکردگی کا عالم یہ ہو تو پھر اس بساط کو لپیٹ ہی دینا بہتر ہوگا۔

متعلقہ خبریں