آئی ایس کے پی' خطے کو لاحق ایک اور بڑا خطرہ

آئی ایس کے پی' خطے کو لاحق ایک اور بڑا خطرہ

افغانستان میں القاعدہ کا خاتمہ ہورہا ہے جس کی جگہ اب اسلامک سٹیٹ آف خراسان پراونس (آئی ایس کے پی) لے رہی ہے۔ آئی ایس کے پی نے افغانستان میں اپنی موجودگی کا احساس دلانا شروع کر دیا ہے اور اب بہت سے دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری آئی ایس کے پی لے رہی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان چھوڑنے والے بہت سے گروہ بھی اس وقت آئی ایس کے پی میں شامل ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان میں امن کو لاحق خطرات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور افغان اتحادی حکومت کیلئے امن قائم کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ تحریک طالبان افغانستان (افغان طالبان)، جماعت الاحرار، طارق گیدڑ گروپ اور لشکرِ اسلام جیسی تنظیموں کی موجودگی میں بھی آئی ایس کے پی بہت سے جنگجوئوں اور جنگجو گروہوں کو اپنی جانب راغب کرنے میں کامیاب رہی ہے جس کی وجوہات معلوم کرنا نہایت ضروری ہے۔ کیا وجہ ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ سے بیرونی طاقتوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا باعث بنتارہا ہے؟ پچھلے چند مہینوں میں اسلامک سٹیٹ آف خراسان پراونس نے افغانستان میں اپنی جڑیں مضبوط کی ہیں اور جماعت الاحرار، ایل جے اے اور جیش العدل جیسی تنظیموں سے تعلقات بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ جماعت الاحرار کی جانب سے ان جنگجوئوں کو محفوظ راستہ فراہم کئے جانے کے علاوہ دونوں تنظیموں کے درمیان ممکنہ انضمام کے حوالے سے بھی مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک ان مذاکرات کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا کیونکہ دونوں تنظیمیں ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کے برعکس ابھی تک اسلامک سٹیٹ آف خراسان پراونس کو گروہ بندیوں کا سامنا نہیں ہے لیکن مستقبل قریب میں اس تنظیم کے باجوڑی، سواتی، اورکزئی اور ازبک گروہ امیر کے عہدے کے لئے ایک دوسرے سے دست وگریباں ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان گروہوں میں تنظیم کے دیگر اہم عہدوں کے لئے بھی جنگ چھڑنے کا امکان موجود ہے۔ ملا عمر کی موت اور ان کے بعد ملا منصور کی قیادت اور دس مہینوں بعد موت کی وجہ سے افغان طالبان کو ایک بہت بڑا دھچکہ لگا تھا۔ ملا عمر کے بعد ملا منصور کو جلد بازی میں قیادت سونپنے سے طالبان کے درمیان پھوٹ پڑ گئی تھی جس میں سے ایک گروہ ملا یعقوب (ملا عمر کے بیٹے ) اور ایک گروہ ملا اختر منصور کی حمایت کر رہا تھا جبکہ ان دونوں گروہوں سے ناراض طالبان نے اسلامک سٹیٹ آف خراسان پراونس جیسی نئی تنظیموں میں شمولیت اختیار کرنا شروع کردی تھی۔ اسلامک سٹیٹ آف خراسان پراونس کو افغانستان کے اضلاع نازین، اچن، کوٹ، دیہہ بالا، سپین گھر اور ننگرہار میں ایک 'فعال خلافت' قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس گروہ کی افغانستان کے علاقوں نورستان، کنڑاور ننگرہار میں موجودگی کی وجہ سے دیر، چترال، مہمند اور خیبر ایجنسی جیسے پاکستانی علاقوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ جماعت الاحرار، لشکرِ جھنگوی العالمی اورجیش الاسلام کی مد د سے اسلامک سٹیٹ آف خراسان پراونس ایک نئے فرقہ وارانہ اتحاد کی بنیاد بھی رکھ سکتی ہے۔ اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے متعلقہ اداروں اور اتھارٹیز کو اسلامک سٹیٹ آف خراسان پراونس، جماعت الاحرار اور لشکرِ جھنگوی العالمی کے درمیان رابطوں کے خاتمے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ اگر اسلامک سٹیٹ آف خراسان پراونس افغانستان میں اپنا قبضہ مضبوط کر لیتی ہے تو خیبر اور کرم ایجنسی جیسے پاکستانی علاقوں میں بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ابتدائی طور پر آئی ایس کے پی افغانستان کے شمالی حصوں میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اگر یہ تنظیم قندوز پر اپنا قبضہ جمانے میں کامیاب ہوگئی تو اس سے خطے میں چین کے مفادات کو سخت نقصان پہنچے گا۔ دوسری جانب لشکرِاسلامی بھی آئی ایس کے پی کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں مصروف ہے لیکن اسے اپنے ایک کمانڈر ظاہر قدیر کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے کیونکہ مذکورہ کمانڈر افغان حکومت کے ساتھ تعلقات کو خراب نہیں کرنا چاہتے۔ آئی ایس کے پی کیلئے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ قلیل المیعاد کمانڈ ہے کیونکہ ایک سال سے کم عرصے میں یہ تنظیم اپنے دو امیروں سے محروم ہوچکی ہے۔ اگرچہ آئی ایس کے پی داعش کی مرکزی کمانڈ سے رابطے میں ہے لیکن انتظامی امور میں خودمختار تنظیم نظر آتی ہے۔ آئی ایس کے پی کو افغانستان میں اپنے قدم جمانے کیلئے افغان طالبان کے ساتھ ساتھ افغان اتحادی حکومت سے بھی لڑنا ہوگا۔ شام اور عراق میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنے کے بعد آئی ایس کے پی افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں کی تلاش میں آئی تھی۔ شام اور عراق میں داعش کی 'خلافت' کے ممکنہ خاتمے کے پیشِ نظر آئی ایس کے پی اس خطے میں اپنے پائوں مضبوط کرنا چارہی ہے جس کو داعش کی زبان میں خراسان کے نام سے بلایا جاتا ہے۔ سٹوری میپس ویب سائٹ کے مطابق آئی ایس کے پی رواں سال میں افغانستان میں 16 حملے کرچکی ہے جس میں 276 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستان میں بھی پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ اور سہون شریف پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری آئی ایس کے پی نے قبول کی تھی جن میں مجموعی طور پر 150 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس وقت آئی ایس کے پی اس خطے کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے جس سے نمٹنے کے لئے بروقت اقدامات کی سخت ضرورت ہے۔ 

(بشکریہ: ڈان، ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ