اس دشت میں اک شہر تھا

اس دشت میں اک شہر تھا

پشاور جو کبھی پشاور تھا، پشاور نہیں رہا۔ جب میں نے یہ بات اپنے پشوری دل سے کہی تو مجھے نہاں خانہ دل سے جو جواب موصول ہوا، اس میں میری اس بات سے تائید یا اتفاق نام کا کوئی جملہ اشارہ یا کنایہ موجود نہیں تھا۔ رد کر دیا گیا میرا یہ دعویٰ۔ مجھے دہرا دہرا کر بتلایا گیا کہ پشاور کل بھی پشاور تھا اور پشاور آج بھی پشاور ہے۔ میں نے اپنے اندر والے کے ان الفاظ پر غور کیا تو مجھے یوں لگا جیسے وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہو کہ ''کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے''۔ ارے پشاور کا بھٹو کے زندہ ہونے یا نہ ہونے سے کیا تعلق بنتا ہے۔ ''بنتا ہے'' میرے اس سوال کے جواب میں ارشاد ہوا اور پھر مجھے شہید ذوالفقار علی بھٹو کا وہ پُرہجوم جلسہ یاد آنے لگا جو اس نے خان عبد القیوم خان کی شاہی باغ پشاور والی رہائش گاہ کے صدر دروازے کے سامنے والے گراؤنڈ میں برپا کیا تھا۔ ان دنوں میں گورنمنٹ کالج پشاور کی پری انجینئرنگ کی کلاس فرسٹ ائیر فول تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو جب پہلی بار پشاور آئے تو انہوں نے پشاور فتح کرنے سے پہلے اپنی پارٹی کے سرگرم اراکین میں سے شہر پشاور کی وارث قوم کی سرکردہ شخصیت ملک محمد شریف کا مکان چنا۔ ہمارے کانوں میں اس بات کی دھنک عین اس وقت پڑی جب گورنمنٹ کالج پشاور کے سبزہ زار میں، کالج انتظامیہ اور کالج کی طلباء قیادت کی ملی بھگت سے رنگا رنگ پروگرام منعقد ہو رہے تھے۔ آہ ہا ہا۔ میں نے ملی بھگت کا لفظ کہہ دیا۔ بھلا اور کیا کہتا۔ یہی ایک لفظ موزوں لگا، ان ڈھکوسلہ رنگا رنگ پروگراموں کے لئے، کیونکہ مجھے اس بات کا علم بعد میں ہوا کہ وہ رنگا رنگ پروگرام یا ورائٹی شوز یا ڈرامہ بمعنی ڈرامہ، پشاور کے ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر محض اسلئے شروع کئے گئے تھے کہ طلباء کالج میں ہونیوالے ان رنگا رنگ پروگراموں میں اس قدر مشغول ہو جائیں کہ وہ کالج سے چند قدموں کے فاصلے پر موجود ملک محمد شریف کے بنگلے کی جانب نہ جا سکیں اور وہاں پر پہنچ کر نودمیدہ پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈر کے جادو میں نہ پھنس جائیں۔ طلباء کو شہید ذولفقار علی بھٹو سے دور رکھنے کی ڈی سی پشاور اور کالج انتظامیہ کی یہ حکمت عملی بہت حد تک کارگر ثابت ہوئی اور آگئے جھانسے میں، کالج کے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اس کالج کے اپنے وقت کے فرسٹ ائیر فول راقم السطور، اور یوں اس نے اس رنگا رنگ تقریب میں پیش کرنے کی غرض سے ایک یا دو دن پہلے ایک مزاحیہ خاکہ لکھ کر کروا ڈالی، ریہرسل کالج کے چند منتخب ساتھیوں سے جو کردار بنے ہوئے تھے اس مزاحیہ خاکہ کے۔ کالج کے سبزہ زار میں منعقد ہونے والی اس رنگا رنگ تقریب میں ابھی راقم السطور کا لکھا ہوا خاکہ پیش نہیں ہوا تھا کہ اس کے کان میں دھنک پڑی کہ ملک محمد شریف کے بنگلے پر عوام کے دلوں کی دھڑکن کے ترجمان ذولفقار علی بھٹو آنے والے ہیں تو اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور وہ اپنے چند ساتھیوں کو لیکر عظیم قائد ذوالفقار علی بھٹو کی ایک جھلک دیکھنے اور ان کی انقلاب آفریں باتیں سننے پہنچ گیا۔ 'ٹکر' نام تھا اس خاکہ کا، جس پر خاک ڈال کر ہم پہنچے تھے شہید بھٹو کے استقبال کے لئے۔ 'ٹکر' کے کردار میری غیر موجودگی میں اترے میدان میں اور مار لیا انہوں نے وہ میدان، مگر مجھے اس بات کا علم اس وقت ہوا جب میں دوسرے روز کالج پہنچا تو مجھے بتایا گیا کہ تمہارا لکھا ہوا خاکہ رنگا رنگ پروگراموں کا بہترین خاکہ قرار پایا تھا۔ جس کا اعلان رنگا رنگ پروگرام کے آخیر میں ہوتا رہا۔ پروگرام کے مہمان خصوصی تمہیں ٹرافی دینا چاہتے تھے لیکن تم موجود نہیں تھے اور یوں وہ ٹرافی تمہاری بجائے عشرت عباس کو دیدی گئی۔ سٹیج ڈراموں میں اپنی گھن گرج والی آواز سے سماں باندھ دینے والے، اپنے وقت کی فلمی دنیا کے سپر سٹار خلیل احمد خان کے صاحبزادے عشرت عباس سے زندگی کی مختلف گزرگاہوں پر ملاقاتیں ہوتی رہیں انہوں نے راقم السطور کے لکھے ہوئے مختلف ٹیلی اور ریڈیائی پروگراموں میں حصہ لیا لیکن نہ کبھی ان کو ہم نے وہ ٹرافی یاد دلائی اور نہ انہوں نے اس کے بارے میں بات کرنا مناسب سمجھا۔ کسی کی بات کہ کھلونے ہوتے ہیں یہ ایوارڈز شیلڈیں اور ٹرافیاں۔ چھن چھنے، لولی پاپ، دل بہلاوے دھرے کے دھرے رہ جاتی ہیں یہ سب چیزیں۔ ہاں اہم سمجھی جانی چاہئیں وہ یادیں جو وابستہ ہوتی ہیں زندگی کی کامرانیوں اور ناکامیوں کیساتھ۔ میں آج سے اپنے کالم میں ایسی ہی یادوں کو اپنے پڑھنے والوں کے ساتھ شیئر کرنے کی ابتداء کررہا ہوں۔ میں نے مشرق میں جس روز سے شین کی ڈائری لکھنے کاآغاز کیا، مشرق پڑھنے والوں کی غالب اکثریت کے پڑھے لکھے نمائندوں کی جانب سے ٹیلی فون، واٹس ایپ، ایس ایم ایس اور بالمشافہ ملاقاتوں کے ذریعے جہاں مجھے میری خامیوں اور کوتاہیوں سے آگاہ کیا جاتا رہا، وہاں مجھے اچھے اور سعد مشوروں سے بھی نوازا جاتا رہا۔ ''آپ پشاور پر لکھنا شروع کیجئے''۔ 

سرائے زیست کا عا لم بڑا سنسان ملتا ہے
بڑی مشکل سے کوئی انسان ملتا ہے
میں اسے 'گنج گراں' مایہ کہتا ہوں اور اس کے مشورہ کو قابل قبول گردانتے ہوئے پشاور کے متعلق سوچنے بیٹھ جاتا ہوں۔ پشاور جو کبھی پشاور تھا، پشاور نہیں رہا۔ گنبد ذہن میں یہ آواز گونجتی ہے مگر میرے پشاوری دل سے نکلی آواز اس بات کی تائید نہیں کرتی۔ پشاور کل بھی پشاور تھا، پشاور آج بھی پشاور ہے، دل کے نہاں خانوں سے ''کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے'' جیسی آواز سن کر میں چونک اٹھتا ہوں اور میرے سامنے اپنے اور اپنی جنم جا پشاور شہر اور مضافات کے وہ در اور دریچے کھلنے لگتے ہیں جس میں شہرِ دل کے منظر منظر عکس ہائے جمیل جھانک جھانک کر دعوت فکر دینے لگتے ہیں۔

اداریہ