خیبر پختونخوا میں تعلیم کے ذریعے تبدیلی!

خیبر پختونخوا میں تعلیم کے ذریعے تبدیلی!

دنیا کی تاریخ میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ معاشروں اور اقوام کی زندگی میں بڑی اور بنیادی تبدیلیاں تعلیم ہی کے ذریعے ممکن ہوئی ہیں۔ یورپ کی پہلی اور دوسری جنگوں کے بعد نشاة ثانیہ اور ترقی ہو یا جاپان کی نگاساکی اور ہیروشیما کے بربادی کی دوبارہ ترقی ہو سب تعلیم ہی کے کارنامے ہیں۔ امریکہ سپر پاور اس لئے بنا کہ دنیا جہاں کے بہترین تعلیم یافتہ لوگ وہاں اپنے علم و فن کی قدر دانی کے سبب سمٹ آئے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے ذہین نوجوانوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کرکے ایک طرف اپنی ضرورت کے شعبوں اور میدانوں کے ماہرین پیدا کئے اور دوسری طرف اپنی معیشت کو ان کے ذریعے آگے بڑھایا۔

ہمارے ہاں پاکستان میں عجیب صورتحال ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر 1970ء تک غربت اور وسائل کی کمی کے باوجود پرائمری اور ثانوی سطح کی تعلیم بہر حال ایک مضبوط بنیاد و انفراسٹرکچر کی حامل تھی۔ ہمارے دیہاتوں میں مساجد کے اندر ائمہ مساجد ا، ب، ت ۔۔ی کے ذریعے بچوں کو حروف کی پہچان کرا کر قاعدہ بغدادی پڑھاتے تو اعراب کے ذریعے حروف کا آپس میں جوڑ اور حرکات و سکنات بھی سکھا دیتے۔ یوں جب جب بچے پانچ سال کی عمر میں سکول جانے لگتے تو وہاں بھی اساتذہ کرام قاعدہ اول کے ذریعے اردو اور پشتو کے حروف تہجی اور ب کے ساتھ املا کر با اور دوسری با کے ساتھ بابا اور باجا سکھادیتے۔ اسی طرح ہندسے اور اعداد و شمار بھی دلچسپ اور آسان طریقے سے سکھاتے سکھاتے سادہ' مرکب اور پھر سینکڑوں اور ہزاروں کی اعداد سیکھنے میں آسانی پیدا ہوتی۔ دوسری اور تیسری جماعتوں تک اردو اور پشتو کے آسان' دلچسپ اور سبق آموز اسباق کے ذریعے اردو پشتو کی عبارتیں پڑھنا سیکھتے اور سادہ و مفرد یعنی 9 اور 10 کے پہاڑوں کے ذریعے سینکڑوں کے اعداد سیکھتے۔ چہارم جماعت تک تختی پر املا کے ذریعے ایک طرف بچوں کے خط' خوشخط بنتے اور دوسری طرف مشکل الفاظ بھی صحیح املا کے ساتھ لکھنا سیکھنے میں آسانی ہوتی۔ گویا پرائمری کی سطح پر اردو' حساب اور مختصر معاشرتی علوم اور جغرافیہ کے ذریعے بعض ضروری اور روز مرہ زندگی میں کام آنے والی معلومات فراہم کی جاتیں۔ پانچویں جماعت میں جب بچہ پہنچتا تو وہ کم از کم اردو اور پشتو میں خط اور درخواست صحیح املا کے ساتھ لکھنے کے قابل ہوتا۔ مڈل تک کی تعلیم تو پکی تعلیم میں شمار ہوتی اور میٹرک پاس کرنے والے کو گائوں میں شاباش ملتی اور وہ (دس) جماعت پاس پولیس اور فوج میں ڈائریکٹ حوالدار بھرتی ہوتے اور پھر ان ہی سکولوں سے میٹرک کرنے والوں میں سے جنرل موسیٰ خان( کمانڈر ان چیف ' پاک افواج) اور جنرل سوار خان جو سپاہی کی حیثیت سے بھرتی ہوئے اور جنرل کے عہدے تک پہنچے۔
انگلش میڈیم کے شوق اور ڈاکٹر و انجینئر بننے کی لالچ نے ہمیں ہماری اپنی اقدار سے بھی ہٹا دیا اور نیچرل سائنس اور انگریزی زبان میں مہارت حاصل کرنے میں کامیاب نہ رہے۔ لہٰذا اس بات کی سخت ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ حکومت ہائیر ایجوکیشن پر سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ بنیادی سطح کی تعلیم پر توجہ دے۔ پرائمری سے میٹرک تک ناظرہ اور ترجمہ قرآن کریم بہت اہم اور بنیادی تبدیلی ہے لیکن اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کیا انتظامات اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام ہے کہ کے پی کے ہائی سکولوں سے فارغ ہونے والے سو فیصد طلبہ قرآن کریم ناظرہ صحیح طور پر پڑھ سکتے ہیں۔ کیا اس بات کا یقین کرنے کے لئے بھی کوئی نظام و طریقہ ہے کہ قرآن کریم ناظرہ پر مامور اساتذہ کا اپنا ناظرہ درست ہے اور اس کے پاس اس بات کا سند موجود ہے کہ وہ صحیح تلفظ و قرأت کے ساتھ قرآن کریم پڑھانے کے قابل ہے۔ سکولوں میں اے ٹی کی پوسٹیں اور اسلامیات کے اساتذہ میں کئی ایسے بھی ہوسکتے ہیں جو اس اہم کام کے لئے فٹ نہ ہوں۔ اس لئے حکومت اس حوالے سے چند مہینے بعد ایک سروے ضرور کرائے۔ اس کے علاوہ پرائمری سطح پر املا کی اصلاح و ترویج کے لئے اگر تختی لکھوانا شروع کرایا جائے تو اس کے نتائج خوشگوار ہوں گے۔ ہمارے آج کے طلبہ پہلی جماعت سے ایم اے تک پنسل اور بال پوائنٹ کا استعمال کرتے ہیں جس نے ایک آدھ کو چھوڑ کر اکثریتی طلبہ کو اتنا بد خط اور بد املا بنا دیا ہے کہ عبارت پڑھنے میں دشواریاں ہوتی ہیں۔ یہی حال انگریزی لکھائی کا ہے۔ کسی زمانے میں نب ( جی چونج) کے استعمال سے چار لائنوں والی کاپی میں لکھائی کے ذریعے انگریزی کے حروف تہجی کو اپنی اپنی لائنوں میں لکھنے کی مشق سے انگریزی خوشخطی اور املا بہترین ہونے کے مواقع حاصل ہوتے۔ آج بحیثیت مجموعی وطن عزیز میں تعلیم کا جو زوال پذیر معیار ہے اس کے پیش نظر بعض اوقات تصور میں اپنے دفاتر اور اہم محکموں میں براجمان ہونے والے افراد دیکھ کر اپنے مستقبل سے ہول آنے لگتا ہے۔ اربوں روپے تعلیم پر خرچ ہو رہے ہیں۔ موجودہ حکومت نے کمال سخاوت کرتے ہوئے تعلیمی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے لیکن مس مینجمنٹ (بدنظمی) اور مطلوبہ معیار کے اساتذہ کثیر تعداد( کم از کم 80فیصد) میں نہ ہونے کے سبب وہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے ہیں جو ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے لئے ضروری ہیں۔
آبادی میں بے ہنگم اضافہ' دہشت گردی اور ناقص نظام تعلیم ہمارے مستقبل کے لئے بڑے خطرات ہیں۔ لیکن ان سب کا علاج معیاری اور یکساں نظام تعلیم ہے۔ کیا کوئی رجل رشید ہے جو اس بیڑہ کو اٹھائے؟

اداریہ