Daily Mashriq


تاریخ کو فیصلہ کرنے دیجئے حضور!

تاریخ کو فیصلہ کرنے دیجئے حضور!

لاریب تاریخ نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے فیصلے کو قبول نہیں کیا۔ انہیں ایک فوجی آمر اور نظریہ ضرورت نے مل کر پھانسی چڑھایا۔ ان کی پھانسی کے وقت ملک میں مارشل لاء تھا۔ جولائی 1977ء سے اپریل 1979ء کے درمیانی عرصہ میں سمری ملٹری کورٹس کا دبدبہ تھا اس کے باوجود افتادگان خاک جمہور کی حق حکمرانی کا پرچم لہراتے ہوئے گلیوں اور بازاروں میں نکلے۔ ایک لاکھ پچیس ہزار کے قریب سیاسی کارکنوں' دانشوروں' صحافیوں' ادیبوں اور شاعروں نے حق مزاحمت قید و بند اور کوڑوں کی سزائوں کی صورت میں قبول کیا۔ نصف درجن کے قریب جیالوں نے مارشل لاء کے خلاف اور بھٹو حکومت کا تختہ الٹنے جانے پر خود کو آگ لگا کر احتجاج کیا۔ بھٹو کا اپنا خاندان اور پارٹی کے سرکردہ رہنما جیلوں میں تھے یا نظر بند۔ 1988ء میں بحال ہونے والی لولی لنگڑی جمہوریت ان افتاد گان خاک کا صدقہ تھی جنہوں نے مارشل لاء کی شب عظمت سے طلوع صبح جمہور کشید کرنے کے لئے مستانہ وار جدوجہد کی۔ کیسے عاشقان جمہوریت تھے۔ وفا پرست اجلے سیاسی کارکن۔ اب ویسے کارکنوں کو چراغ رخ زیبا لے کر تلاش کیجئے۔ اکا دکا ملیں گے۔ ہر طرف کمیشن خوروں اور ٹھیکیداروں کاراج ہے۔ بھٹو ہماری نسل کے محبوب رہنما تھے۔ اپنے رہنما پر ہماری نسل نے زندگیاں نچھاور کیں۔ جدوجہد جمہوریت کے لئے تھی بھٹو اس جدوجہد کا ''علم '' تھے۔ ان کو پھانسی دینے والے ججز میں سے بعض نے بعد میں اعتراف کیا کہ ہائیکورٹ کا بینچ مولوی مشتاق کی سربراہی میں ان کے لئے ایک خاص بغض اور نفرت پالے ہوئے تھا۔ سپریم کورٹ میں اپیل سننے والے بینچ پر فوجی حکومت کا دبائو تھا۔ مارشل لاء حکومت کے وردی و بے وردی وزیروں میں سے فقط ایک لیفٹیننٹ جنرل جمال سید میاں تھے جو اس پھانسی کے مخالف تھے۔ ان پر بھپتی کسی گئی کہ وہ شیعہ ہیں اس لئے بھٹو کی پھانسی کے مخالف ہیں۔ بھری کابینہ میں انہوں نے بھپتی کا جواب دیتے ہوئے کہا '' پاکستان میرے ایمان کا حصہ ہے بھٹو کی پھانسی کے فیصلے سے پاکستان کو نقصان ہوگا اس لئے مجھے اختلاف ہے۔ مسلک کا کاروبار میرے خون میں شامل نہیں۔ بھٹو نے تباہ حال پاکستان کو دوبارہ سے منظم کیا فوج کو اپنا وزن اس کے خون کے پیاسوں کے پلڑے میں نہیں ڈالنا چاہئے۔

جناب نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ نے جب فیصلہ دیا تو وہ وزیر اعظم تھے۔ اب جن ججوں کو وہ پی سی او ججز کہتے ہیں ان کی بحالی کے لئے وہ مرنے مارنے پر اتر آئے تھے۔ اب بھی ملک میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے۔ وہ اور ان کی جماعت کچھ اور کہتے ہیں تو ان کا حق ہے۔ مگر کیا اتنی اخلاقی جرأت ہے کہ حکومت چھوڑ دی جائے؟ بہت احترام سے عرض کروں گا بھٹو کیس اور نواز شریف کیس میں کوئی مماثلت نہیں۔ جو لوگ مماثلت تلاش کرنے اوراس کی بنیاد پر دھاڑنے میںمصروف ہیں ان کے پاس اس سادہ سا سوال کاکوئی جواب ہے'' پچھلے 35 سالوںمیںجناب نواز شریف کے خاندانی کاروبار نے جتنی ترقی کی اتنی یا اس سے پچاس فیصد کم پاکستانی معیشت نے ترقی کیوں نہ کی؟ مکرر عرض ہے ماسی پھاتاں کی طرح کوسنے دینے کی بجائے حکومت پر دو حرف بھیج کر میدان محل میں اترئیے۔ مجھے قوی یقین ہے نواز لیگ یہ رسک نہیں لے گی۔ وجہ یہی ہے کہ وہ ایک حقیقی سیاسی جمہوری جماعت تھی نہ ہے۔ اس کے پاس وہ کارکن ہی نہیں جو سڑکوں' گلیوں اور بازاروں میں پھانسی گھاٹوں پر مستانہ وار نعرے بلند کر پائیں۔

اسلام آباد میں صلاح مشوروں کے حوالے سے ملتی اڑتی خبروں کے تناظر میں یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ جمہوریت سے ماوراء کسی بھی اقدام کی کوئی بھی تحسین نہیں کرے گا۔ ماہرین یا وچولوں کی حکومت مسئلہ کا حل نہیں۔ مسائل کا حل مقررہ وقت پر انتخابات کا انعقاد ہے جو کم از کم صحافت و سیاست کے اس طالب علم کو ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے۔ جن خدشات کااظہار پچھلے دنوں ان سطور میں کرتا رہا وہی بات الیکشن کمیشن کے سیکرٹری نے کی ہے'' وہ کہتے ہیں نئی حلقہ بندیوں کے بغیر انتخابات کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھیں گے۔ انتخابی قوانین میں ہوئی ترامیم نے غریب آدمی کے لئے انتخابی عمل میں شرکت کے دروازے بند کردئیے ہیں'' امر واقعہ یہ ہے کہ مردم شماری ہی متنازعہ ہوچکی۔ اس کی بنیاد پر حلقہ بندیوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حکومت کے پاس محفوظ ترین راستہ یہ ہے کہ پہلے مرحلہ پر ان شکایات کا نوٹس لے جو مردم شماری کے حوالے سے ہیں۔ ان شکایات کے ازالے کے بعد ہونے والی نئی حلقہ بندیوں کا اہتمام لازم ہے کیونکہ مردم شماری کے بعد حلقہ بندیوں کے بغیر انتخابات ہوئے تو جو تنازعات پیدا ہوں گے ان کا حل نکلنے تک بہت نقصان ہو جائے گا۔ وفاقی حکومت مردم شماری کے حوالے سے چھوٹے صوبوں کی شکایات پر توجہ محض اس لئے نہیں دے رہی کہ شکایات کے ازالے کی صورت میں ایک صوبے کی سیاسی بالادستی کے کم اور کمزور ہونے کاخطرہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کے اجتماعی مفادات اہم ہیں یا ایک صوبے کے سیاسی مفادات؟ سادہ سا جواب یہ ہے کہ ہر حال میں پاکستان کے مفادات کو مقدم سمجھنا ہوگا۔ مسائل سے دو چار ریاست کے مسائل میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ ہم سب کا ملک ہے کسی ایک خاندان صوبے یاجماعت کی وراثتی جاگیر ہر گز نہیں۔

متعلقہ خبریں