Feedback ایک نیا سلسلہ

Feedback ایک نیا سلسلہ

آج سے قارئین کے خطوط کے جواب دینے کا ایک نیا سلسلہ شروع کر رہی ہوں۔ قارئین کرام کے خطوط کا سلسلہ کبھی کم کبھی زیادہ رہا اب تو خیر خطوط کی جگہ ای میل نے لے لی ہے۔ اب تو زیادہ تر انحصار ای میل پر ہے۔ خطوط اور ای میل میں کالم کے بارے میں تبصرہ اور خاص طور پر مسائل پر لکھنے اور اس میں مدد تک کی بھی گزارش شامل ہوتی ہے۔ ایک عرصے بلکہ اب تک میں سوچتی رہی کہ میری کالم سے بندھے ان امیدوں اور اچھے جذبات کا میں کیا جواب دوں میں کیسے ان لوگوں کی مدد کروں جن کا مجھ پر حق بھی بنتا ہے اور میں اپنی ذمہ داری بھی سمجھتی ہوں۔ اگر میری کسی تحریر سے کسی ایک بہن بھائی کا بھی بھلا ہو تو میں اسے اعزاز سمجھوں گی۔ دفتروں میں صبح و شام قسم قسم کے مسائل سے لوگوں کو واسطہ پڑتا ہے اکثر مسائل ایسے ہوتے ہیں جس میں رولز کی رعایت رکھتے ہوئے تھوڑی سی ہمدردانہ کوشش سے کسی کا بھلا ہوسکتا ہے مگر کم لوگ ہی ایسا کرتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ تو بابوئوں سے لے کر اوپر والوں تک کے لئے اسامی ہوتے ہیں۔ ان کو دفتری پیچیدگیوں میں اتنا الجھا دیا جاتا ہے کہ از خود نذرانہ کی پیشکش میں سائل کو عافیت بوجھتی ہے۔ وہ بے چارہ کرے بھی کیا کس سے منصفی چاہے کہ یہاں راستے میں لٹیروں کا راج ہے۔ یہ ہمارے کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ اس قوم کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ اگر آپ کسی دفتر میں میرٹ اور حقدار کی بات کرتے ہیں تو بجائے اس کے کہ حق کی آواز میں آواز ملائی جائے۔ لوگ آپ کے دشمن بن جاتے ہیں۔ میرا خود وفاقی وزیر ریلوے حاجی غلام احمد بلور سے کوئی ذاتی تنازعہ نہ تھا۔ میں نے تو صرف ڈی پی او پشاور ڈویژن کی حیثیت سے بھرتیاں میرٹ پر کرنے کی کوشش کی تھی۔ نتیجہ کیا ہوا یہ ایک تکلیف دہ کہانی ہے جس سے میرے قارئین اور متعلقین کی بڑی تعداد واقف ہے۔ آپ سیدھا چلنے کی کوشش کریں تو صراط مستقیم کا راستہ کٹھن اور دشوار بنا دیا جائے گا حالانکہ فلاح کا بس یہی ایک راستہ ہے۔ مگر اس کا علم ہونے اور جاننے بوجھنے کی بجائے لوگ آپ کو دھکا دے کر گرانے کی کوشش کریں گے۔ آپ کے راستے میں کانٹے بچھا دئیے جائیں گے۔ مگر یاد رکھیں فتح ہمیشہ حق اور سچ کی ہوتی ہے۔ اپنی نوعیت کے پہلے کالم کی ابتداء کرتے ہوئے شدید کرب اور دکھ بھرے جذبات کا اس لئے سامنا ہے کہ اس کا تعلق ہماری نوجوان نسل کے ان نمائندہ طالب علموں کے بارے میں ہے جو سیدھے راستے پر اپنے شعبے میں پوری سعی اور کامیابی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں مگر نہ صرف ان کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے بلکہ ان کے مستقبل سے کھیلنے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے۔ وجہ کوئی اور نہیں صرف انا اور انا بس۔ نمل یونیورسٹی زبانوں کی تدریس کے حوالے سے ایک خاص شہرت رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسے ادارے کے زیر انتظام ہے جس پر ہر محب وطن پاکستانی کو فخر ہے۔ نمل یونیورسٹی پشاور کے طالب علموں نے مجھ سے رابطہ کیا اور اپنا دکھڑا سنایا ۔ مجھے بہت دیر تک وہ یکطرفہ اس لئے لگا کہ میں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھی کہ کسی معروف تعلیمی ادارے میں طالب علم جو بچوں کی طرح ہوتے ہیں ان کے ساتھ یہ کیسے ہوسکتا ہے مگر جب مجھے ان کی طرف سے پشاور کیمپس کے سربراہ کو بھیجے گئے عدالتی نوٹس کی کاپی واٹس ایپ پر ملی تو میرے پاس اس انہونی کو سچ ماننے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ یہ دس بارہ طالب علموں کا ایک متاثرہ گروپ ہے جن کو غلطی کہیں قصور قرار دیں یا گناہ بس یہ تھا کہ انہوں نے ایک استانی کی کلاس میں بیٹھنے سے کینٹین میں چائے کے کپ پر گپ شپ کو ترجیح دی۔ سوان کے کریڈٹ آور کم ہوئے اور ان کو سمسٹر میں اسی پرچے کا امتحان دینے سے روک دیاگیا ۔ یہاں تک تو کیمپس انتظامیہ قانون اور ضابطے کی پابندی کے باعث حق بجانب ٹھہرتی ہے مگر یہ بھی رولز ہی کا تقاضا ہے کہ ان طالب علموں کے لئے یونیورسٹی کیمپس اب کلاسوں کا انتظام کرکے ان کے کریڈٹ آورز مکمل کرا کے سمسٹر میں امتحان لے مگر دو تین سمسٹر بالآخر وہ عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہوئے ان نوجوانوں نے ایک تحریری ثبوت کے ساتھ جب ڈائریکٹر اکیڈیمکس نمل یونیورسٹی اسلام آباد سے رجوع کیاتو ان کا موقف درست گردانا گیا۔ پشاور کیمپس کے کنٹریکٹ کی تکمیل کے منتظر ڈائریکٹر سے کہا گیا کہ وہ ان طالب علموں کے لئے کلاسوں کا اہتمام کرے مگر بقول ان طالب علموں کے وہ نہ صرف انکاری ہے بلکہ دھمکانے اور ڈرانے کی بھی کوشش کی ۔

میں اس حق میں ہوں کہ طالب علموں پر متعلقہ تعلیمی اداروں میں سختی ہونی چاہئے۔ ایسا کرکے ہی معیار تعلیم میں بہتری ممکن ہے۔ بہر حال طالب علموں کو یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جو پیغام دینا تھا وہ دیا جا چکا ہے۔ پشاور سے اسلام آباد دھکے کھانے اور وکیل کی فیس بھرنے کے بعد اب ان کو اپنی غلطی کا احساس بھی ہوگیا ہوگا۔ بہتر ہے کہ یہ مسئلہ اب طے کردیا جائے۔کیمپس ڈائریکٹر کنٹریکٹ کی تکمیل سے قبل ان طالب علموں کو کیوں رگڑا دینا چاہتے ہیں اس کا تو جواب یا تو نمل کے ریکٹر اور ڈائریکٹر اکیڈیمک ہی طلب کرسکتے ہیں یا پھر عدالت۔ میں تو صرف اتنا لکھوں گی کہ دوسروں کی راہ میں کانٹے بچھانے والوں کی راہ میں قدرت جو جھاڑیاں اگاتی ہے۔ ان میں الجھ کر دامن تار تار ہی ہوجاتا ہے حاصل وصول کچھ نہیں ہوتا۔ میرا تو مشورہ یہی ہوگا کہ طالب علم اپنے استاد سے ایک مرتبہ پھر رجوع کریں۔ نمل اسلام آباد اس مسئلے کا نوٹس لے۔ای میل کرنے والے قارئین لوگو میں درج ای میل ایڈریس کے ذریعے رابطہ کرسکتے ہیں۔ خطوط لکھنے والے روزنامہ مشرق بلال ٹائون پشاور کے پتے پر خطوط ارسال کرسکتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ اپنا تعارف' پتہ' سنگین الزامات والے شکایات کے ساتھ شناختی کارڈ کی کاپی لازمی دیں اور فون نمبر تحریر کریں مگر جو ایساکرنا نہ چاہیں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں' کسی محکمے کے بارے میں شکایت ہو اگر اس محکمے کے متعلقہ کسی شخص کا فون نمبر بھجوا سکیں تو ان سے رابطہ کرکے مسئلہ حل کروانے کی اپنی کوشش کی جائے گی۔ یہ کالم ہر بدھ کو بشرط حیات باقاعدگی سے شائع ہوا کرے گا۔

اداریہ