Daily Mashriq

عالمی امن میں پاکستان کا کردار

عالمی امن میں پاکستان کا کردار

لندن کی واروک یونیورسٹی میں پاکستان اور خطے میں امن کے کردار کے حوالے سے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بہت سے امور اور موضوعات پر جو خطاب کیا ہے اس سے دنیا کو پاکستان کے مؤقف اور اس کی خدمات کو سمجھنے کا موقع ملا ہوگا۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ کشمیر سب سے بڑا عالمی تنازعہ ہے، القاعدہ کو پاکستان کی مدد کے بغیر کبھی شکست نہیں ہوسکتی تھی اور نہ ہی دنیا میں امن قائم ہو سکتا تھا، پاکستان کی خطے میں امن کیلئے بہت قربانیاں ہیں، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے دنیا کو پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہئے، پاکستان کی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام تک امریکہ کو یہاں موجود رہنا چاہئے، پاکستان اور خطے میں دیرپا امن کیلئے افغانستان میں امن ہونا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کیخلاف اس جنگ میں ہزاروں پاکستانی فوجیوں اور سویلین کی شہادتیں ہوئی ہیں اور پاکستان کے عوام اب بھی بے پناہ قربانیاں دے رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے اہم کردار کے باوجود بھی جو انگلیاں ہماری ہی طرف اٹھتی ہیں اس کی وجہ غلط فہمی اور لاعلمی کم اور پاکستان کو دباؤ میں لانے کا حربہ زیادہ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اس امکان کو یکسر طور پر رد نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستانی مؤقف کو مناسب طور پر اُجاگر نہ کرنے سے اور اس قسم کے مواقع میں کھل کر اظہار خیال نہ کرنے سے متعصب ذہن نہ رکھنے والے افراد کا بھی اس پروپیگنڈے سے متاثر ہونا فطری امر ہے۔ بدقسمتی سے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں پاکستان کے حوالے سے منفی معاملات کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اُجاگر کرنے اور پاکستان کے مثبت چہرے پر نقاب اوڑھانے کی جو ریت ہے اس کا پاکستان کو نقصان پہنچنا فطری امر ہے۔ اس منظرنامے میں تبدیلی لانے کیلئے حکومت کو بطور ریاست اور پاک فوج کو بطور ادارہ منصوبہ بندی کیساتھ مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے لیکن اسے بدقسمتی ہی قرار دیا جائے گا کہ سیاسی حکومتوں میں ذرائع ابلاغ میں فکری جنگ کیلئے بھونپوؤں کی خدمات لی جاتی ہیں جن کا کام سوائے اس کے کچھ نہیں سامنے آیا کہ وہ حزب اختلاف کو پاتال میں اور حکومت کو آب زم زم سے دھلا ہوا ثابت کریں جبکہ بیرون ملک ہمارے سفارتخانوں میں سفارشی بنیادوں پر تعینات اتاشیوں کی قابلیت اور استعداد اتنی نہیں ہوتی کہ وہ اس ملک کے اور عالمی ذرائع ابلاغ میں پاکستان کا مقدمہ پیش کریں۔ مشکل یہ ہے کہ پاک فوج کیلئے بطور ادارہ اس عمل کو کھل کر انجام دینا بھی ممکن نہیں۔ اس سلسلے کا جائزہ لینے اور اصلاح کی تدابیر نکالنے کی ضرورت ہے۔ بہرحال پاک فوج کے ترجمان نے خطاب کے اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دنیا کے سامنے پاکستان کا جو مقدمہ رکھا ہے اس میں کئی اہم معاملات کی طرف اشارہ بھی ہے اور بعض معاملات بارے واضح پیغام ہے جسے دنیا کو سمجھنا چاہئے۔ کشمیر کا مسئلہ حل کئے بغیر خطے میں مستقل قیام امن کیسے ممکن ہوگا اس سوال کا جواب تلاش کئے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی مساعی کا رائیگاں ہونا نوشتہ دیوار ہے۔ بہرحال پاکستان کا خود متاثرہ ملک ہونے کے ناتے دہشت گردی کیخلاف کامیاب جنگ لڑنے‘ قربانیوں کی تاریخ رقم کرنے اور القاعدہ جیسی تنظیم کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرنے کا کارنامہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پاکستان اگر افغانستان میں برسر پیکار عالمی قوتوں سے کلیدی تعاون نہ کرتا تو ان کیلئے وہاں کام کرنا تو درکنار وہاں موجودگی ہی ناممکن تھی۔ اب بھی امریکہ پاکستان ہی کے دست تعاون کے بل بوتے پر افغانستان میں موجود ہونے اور طالبان سے معاملات کی پوزیشن میں ہے۔ اگر پاکستان دست تعاون کھینچ لے تو پھر امریکہ کے افغانستان میں ہونے اور معاملات کو آگے بڑھانے کی حقیقت کھل جائے گی۔ اس کے باوجود بھی پاکستان ہی کو مطعون کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا۔ مختلف عالمی معاملات اور تنازعات میں پاکستان کا کردار بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں جس کا بسا اوقات عالمی فورمز پر اعتراف بھی سامنے آتا ہے۔ بایں وجوہات یہ قرار دینا کہ پاکستان کے بغیر دنیا میں قیام امن کا خواب ادھورا قرار دیا جائے تو خلاف واقعہ نہ ہوگا۔ پاکستان کی خدمات کا بالآخر دنیا کو اعتراف کرنا ہوگا اور پاکستان کو وہ کردار اور مقام دینا ہوگا جو حالات کی ضروریات اور دنیا کا مفاد ہے۔دنیا کے سامنے پاکستان کا حقیقی کردار و عمل پیش کرنے میں ذرائع ابلاغ کو بھی اپنا کردار ذمہ دارانہ طور پر ادا کرنے کیلئے آگے آنا چاہئے ۔ یہ ایک قومی خدمت ہے جن کی انجام دہی کسی منافعت کے بغیر اور خوش اسلوبی سے کیا جائے تاکہ پاکستان کے حوالے سے ہونے والے نہ صرف پراپیگنڈے کا مقابلہ کیا جا سکے بلکہ اس کا حقیقی اور اصل چہرہ بھی اقوام عالم کے سامنے آئے اور اس کے حوالے سے غلط فہمیوں میں کمی آئے۔

متعلقہ خبریں