Daily Mashriq

وال چاکنگ کیخلاف مؤثر مہم

وال چاکنگ کیخلاف مؤثر مہم

پشاور میں وال چاکنگ کرنے اور دیواروں پر پوسٹرز لگانے والے 122افراد کو نوٹسز کا اجراء اور انہیں جلد ازجلد خود ہی ان پوسٹرز اور وال چاکنگ کو ہٹانے کی ہدایت ایک سنجیدہ اقدام ہے جس کی ضرورت ایک عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی۔ گوکہ بلدیہ اور پی ڈی اے کی طرف سے دیواروں پر لکھی تحریروں پر سفیدی پھیرنے کی کافی سے زیادہ سعی کی جاتی ہے لیکن زیادہ مؤثر امر یہ ہے کہ ان کمپنیوں، اداروں اور افراد کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جائے جن کی جانب سے چاکنگ کروائی گئی تھی۔ ہمارے نمائندے کے مطابق پشاور کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شاہین ٹاؤن، آبدرہ روڈ، ناصر باغ روڈ اور دیگر علاقوں میں سرکاری املاک اور دیواروں پر وال چاکنگ کرنے اورپوسٹرز و بینرز لگانے والے 122افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چوبیس گھنٹوں کے اندر نشاندہی کردہ وال چاکنگ اور پوسٹرز وبینرزکو بذات خود ہٹا دیں اور دیوار کو اپنی اصل حالت میں بحال کر دیں۔ بصورت دیگر چوبیس گھنٹوں بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر پشاور نے شہر کے حدود میں سرکاری املاک اور دیواروں پر پوسٹر چسپاں کرنے/ وال چاکنگ کرنے پر دفعہ 144 کے تحت پابند ی عائد کی ہوئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دیواروں پر لکھائی اور پینٹ کروا کر تحریریں کروانے اور اشتہار بازی کی روک تھام کیلئے دفعہ 144کے تحت پابندی ایک عارضی اقدام ہے جس کی روک تھام میں یہ ضابطہ ناکافی اور ناکام ثابت ہوا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کیلئے باقاعدہ طور پر سنجیدہ قانون سازی کی جائے اور ہر اس ادارے، افراد یا فرد کیخلاف سخت کارروائی ممکن بنائی جائے جس کی جانب سے یا جس کی وساطت سے دیواروں پر لکھائی کی گئی ہو۔ دیواروں پر بعض ایسے گمراہ کن اور برائے فراڈ واستحصال تحریریں بھی دکھائی دیتی ہیں جس میں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو تعلیم وتربیت سے لیکر روزگار وملازمت اور نجانے کیا کیا جھوٹے خواب دکھا کر مختلف اشہتاروں میں سیل نمبر ایک ہی دیا جاتا ہے جو اس امرکے ادراک کیلئے کافی ہے کہ سوائے گمراہ کرنے اور پھنسانے کے اس کا کوئی مقصد نہیں لیکن حیرت انگیز طور پر کسی ادارے کی جانب سے اس فون نمبر پر رابطہ کر کے اشتہار باز کی حقیقت سامنے لانے کی ذمہ داری پوری نہیں کی جاتی۔ بہرحال وال چاکنگ کے خلاف مؤثر کارروائی کے بعد اس طرح کے عناصر کی روک تھام ہوگی اور سادہ لوح افراد کو لوٹنے کے اقدام سے ان کو بچایا جا سکے گا آج سوشل میڈیا پر معقول تنخواہ پر بیرون ملک بھجوانے کی بھی خاص پیشکش نظر آتی ہیں ان کی حقیقت کی بھی چھان بین کی ضرورت ہے تاکہ سادہ لوح نوجوانوں کو کسی پھندے میں پھنسنے سے بروقت بچایا جا سکے۔

غیرقانونی ہاسٹلز کیخلاف سخت کارروائی کی ضرورت

الحرم ماڈل ٹاؤن رنگ روڈ کے مکینوں کی تنظیم کی جانب سے پریس کانفرنس میں علاقے میں غیرقانونی ہاسٹلز کی بھرمار اور ہاسٹلوں میں منشیات کے استعمال اور منشیات فروشی کے بڑھتے کاروبار کی شکایات کیخلاف متعلقہ حکام اور پولیس کی جانب سے عدم کارروائی کی شکایت کسی ایک علاقے کے مکینوں کی شکایت نہیں بلکہ صوبائی دارالحکومت پشاور کا شاید ہی کوئی علاقہ ہوگا جو اس قسم کی وباء سے محفوظ ہو اور مکینوں کی زندگی اجیرن نہ ہو۔ امر واقع یہ ہے کہ بااثر ہاسٹل مالکان اس قدر دیدہ دلیری سے کاروبار چلا رہے ہوتے ہیں کہ ان کو شہری رہائشی قوانین کے نفاد کے حامل اداروں کی ذرا بھی پرواہ نہیں ہوتی۔ بعض مقامات پر شہری رہائشی قوانین پر عملدرآمد کی مساعی بھی کی جاتی ہے لیکن مؤثر نہیں ہوتیں اور ہاسٹل مالکان بھاری فیس پر وکیل کر کے عدالت سے ریلیف لے لیتے ہیں۔ بعض جگہوں پر تو کھلم کھلا توہین عدالت کا ارتکاب بھی ہوتا ہے جس سے علاقے کے مکینوں میں ایک لاچارگی وبیچارگی کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ غیرقانونی ہاسٹلز میں مقیم افراد کا کسی ضابطے اور نظم کا پابند نہ ہونا ہی مسئلہ نہیں، ان ہاسٹلوں میں سماج دشمن عناصر‘ منشیات فروشوں اور ممکنہ طور پر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی آمد ورفت بھی ناممکن نہیں۔ ایسے میں ان ہاسٹلوں میں مقیم طالب علموں اور سکون کے متلاشیوں کا جینا دوبھر ہوتا ہے۔ اس مسئلے کا طویل المدتی حل تو یہ ہے کہ حکومت شہروں میں بڑے پیمانے پر بیچلرز ہاسٹلز تعمیر کرے، نجی تعلیمی اداروں کو کمرشل بنیادوں پر ہر قسم کے افراد کیساتھ طالب علموں کو بھی کھپانے کا سخت نوٹس لیا جائے اور ان کو پابند بنایا جائے کہ وہ طالب علموں کیلئے موزوں ماحول کے ہاسٹل کا بندوبست کریں۔ شہر میں غیرقانونی ہاسٹلز کا اعلیٰ ترین سطح پر نوٹس لیا جائے اور ہر تھانے کی پولیس کو اس امر کا پابند بنایا جائے کہ وہ ان کی نگرانی کرے۔ شہری قوانین کی خلاف ورزی کرکے رہائشی علاقوں میں قائم ہاسٹلوں کی بجلی، گیس اور پانی کے کنکشن منقطع کئے جائیں اور دوسرے مرحلے پر ان مکانات اور عمارتوں کے الاٹمنٹ منسوخ کئے جائیں۔

متعلقہ خبریں