Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حمید بن ہلالؓ کہتے ہیں کہ حضرت اسود بن کلثومؓ جب چلتے تھے تو قدموں کی طرف نظر رکھتے یا انگلیوں کے کناروں کی طرف۔ کسی اور طرف توجہ نہیں کرتے تھے، کیونکہ لوگوں کی دیواریں چھوٹی ہوتی تھیں۔

جب وہ میدان کارزار میں آئے تو کہا: خدایا! میرا یہ نفس آسائش میں تیری ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اگر یہ سچا ہے تو اسے یہ دے دے اور اگر یہ جھوٹا ہے تو اس ملاقات پر اسے سوار کر دے۔ اگرچہ اسے ناپسند ہی کیوں نہ ہو۔ اسے اپنے راستے میں قتل کر دے اور میرا گوشت درندوں اور پرندوں کو کھلا دے۔

وہ اس لشکر کے ایک گروہ میں چلے گئے، حتیٰ کہ ایک باغ میں داخل ہوگئے، جس کی دیوار میں ایک جگہ سوراخ تھا۔ دشمن آکر سوراخ پر کھڑا ہو گیا۔ دوسرے ساتھی نکل گئے، یہ اندر ہی رہے، حتیٰ کہ دشمن بڑی تعداد میں سوراخ پر جمع ہوگئے۔ یہ اپنے گھوڑے سے اُترے اور اس کے چہرے پر مارا، حتیٰ کہ انہوں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ وہ نکلے اور باغ میں ایک خاص جگہ کا قصد کیا۔ وہاں وضو کیا، پھر نماز پڑھنے لگ گئے۔ دشمن کہنے لگا، کیا عربوں کی عبادت اس طرح ہوتی ہے۔ جب وہ عبادت کرتے ہیں؟ جب انہوں نے نماز پوری کر لی تو ان سے لڑنا شروع کر دیا، حتیٰ کہ وہ شہید ہو گئے۔ پھر اس لشکر کا امیر باغ کے پاس سے گزرا، لشکر میں ان کا بھائی بھی تھا۔ اس نے اپنے بھائی سے کہا کہ آپ باغ میں داخل نہیںہوتے؟ دیکھو اپنے بھائی کی جو ہڈیاں نظر آئیں، انہیں چھپاؤ۔ انہوں نے کہا کہ میں کوئی ایسا کام نہیں کروں گا، جس کے بارے میں میرے بھائی نے دعا کی اور وہ قبول ہوگئی۔ یہ جواب سن کر انہوں نے مجبور نہیں کیا۔

(کتاب الجہاد، لابن مبارک)

خالد بن یزیدؒ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم اور عارف تھے، فن حدیث میں امتیازی مقام رکھتے تھے، امام زہریؒ نے آپ سے بھی روایت کی ہے، حق بات کہنے میں کسی سے خوف نہیں کھاتے تھے، خلیفہ وقت عبدالملک بن مروان کو کئی مرتبہ بھرے دربار میں اس کی غلطیوں پر تنبیہہ فرمائی۔ مورخین کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ان سے دریافت کیا گیا کہ انسان سے سب سے زیادہ کیا چیز قریب ہے؟ آپ نے فرمایا: موت! اب دوسرا سوال یہ کیا گیا کہ اُمید بندھانے والی کیا چیز ہے؟ جواب دیا: عمل! پھر سوال ہوا: دنیا میں سب سے زیادہ وحشت کس چیز سے ہوتی ہے؟ ارشاد ہوا: میت سے! ان سے دنیا کی حقیقت دریافت کی گئی تو فرمایا: دنیا ایک منتقل ہونے والی میراث ہے۔

پس جو طاقتور ہے، اس کو اپنے کمزور ہو جانے کا خطرہ لگا ہے اور مالداروں کو مفلس ہو جانے کا، کتنی ہی طاقتور قومیں کمزوری وناتوانی کا شکار ہوگئیں اور کتنے ہی مالداروں پر غربت کا سایہ بڑھنے لگا اور اگر کوئی شخص خودپسندی وخودرائی میں مبتلا ہے تو سمجھ لو کہ اس کا دیوالیہ ہو چکا ہے۔

(کچھ دیر اہل حق کیساتھ، ص:13)

متعلقہ خبریں