Daily Mashriq

پرائیویٹ سکول اور معیارِ تعلیم

پرائیویٹ سکول اور معیارِ تعلیم

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پرائیویٹ سکولوں کے مالکان سے کہا ہے کہ وہ اپنی آڈٹ رپورٹیں پیش کریں۔ یہ حکم پرائیویٹ سکولوں کے طلبہ کے والدین کی طرف سے دائر ایک درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیا گیا جس میںکہا گیا تھا کہ پرائیویٹ سکولوں کی فیسیں بہت زیادہ اور ناقابل برداشت ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ سپریم کورٹ تعلیم کے شعبہ کی طرف بھی متوجہ ہے۔ عدالت عظمیٰ کی ہدایت پر حال ہی میں تعلیم کے شعبہ کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی محتسب کی سربراہی میں جو اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی ہے اس نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے جو حکومت کو پیش کی جائے گی ۔ رپورٹ میں پرائیویٹ سکولوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ادارے 36فیصد سکول جانے والے طلبہ کو تعلیم دیتے ہیں کہا گیا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ ان سکولوں کو پابند کرے کہ وہ اپنی فیسوں کو مناسب سطح پر لائیں او رکم از کم دس فیصد ایسے بچوں کو داخلہ دیں جو فیس دینے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ پرائیویٹ سکولوں کی آڈٹ رپورٹ آئے گی تو اس بات کا اندازہ ہو جائے گا کہ یہ ادارے کتنا منافع کماتے ہیں۔ تاہم عام مشاہدے کی بات ہے کہ پرائیویٹ سکول ایک باقاعدہ کاروبار بن چکے ہیںجب کہ تعلیم پر توجہ ماسوائے چند اداروں کے جن کی تشہیر ہوتی رہتی ہے قابلِ اطمینان قرار نہیں دی جا سکتی۔ بنیادی طور پر یہ بات طے ہو جانی چاہیے کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور اس کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس طرح سرکاری تعلیمی اداروں کے سوا کسی تعلیمی ادارے کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ اصولی طور پر چونکہ تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے اس لیے حکومت کو یہ ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی تعلیمی اداروں کی کمی کا مسئلہ سامنے آیا تھا اس لیے پرائیویٹ تعلیمی ادارے وجود میں آئے۔ ابتدائی دور میں ان اداروں نے طلبہ سے بھاری فیسیں وصول کیں ‘ اساتذہ کو بہت کم تنخواہیں دیں اور عمارتوں اور دیگر سہولتوں پر بہت کم خرچ کیا۔ آج یہ سلسلہ پرائیویٹ سکولوں کی صورت میں موجود ہے جن کی تشہیر پر زور دیا جاتا ہے اور تعلیم پر کماحقہ توجہ نہیں دی جاتی۔ منافع کمانے کے لیے اور والدین کو متاثر کرنے کے لیے بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں ۔ بیرونی ملکوں کے نصاب کے مطابق خوش نما کتابیں نصاب میں شامل کی جاتی ہیں۔ اساتذہ کی تربیت کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا ‘ اپنا ہی معیار قائم کر لیا جاتاہے۔ سکولوں میں ہم نصابی سرگرمیوں کے لیے خاطر خواہ بندوبست نہیںہوتا۔ یہ کسی ایک دو سکولوں کی بات نہیں ہے بلکہ معدود ے چند پرائیویٹ سکولوں کو چھوڑ کر باقی سب میں یہی حال ہے۔ جہاں تک فیسوں کا سوال ہے ان میں ٹیوشن فیس کے علاوہ بہت سی مدات میں وصولی کی جاتی ہے۔ یہ وصولیاں بند کی جانی چاہئیں کہ سہولتیں فراہم کرنا اداروں کی ذمہ داری ہے۔ سب سے پہلے نصاب ایک ہونا چاہیے سارے ملک میں اور سارے تعلیمی اداروں کے لیے مہنگی اور غیر ملکی کتابیں لازمی کر کے زیادہ فیسیں وصول کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اساتذہ کی اپنی قابلیت اور تربیت کا یکساں معیار ہونا چاہیے۔ پرائیویٹ اسکولوں میںجس طرح استانیوں کا استحصال کیا جاتا ہے وہ بند ہونا چاہیے۔ انہیں بہت کم تنخواہ دی جاتی ہے (سرکاری خاکروب سے بھی کم) اپائنمنٹ لیٹر جاری نہیں کیا جاتا اور نہ تجربہ کا سر ٹیفکیٹ دیا جاتا ہے۔ اساتذہ کا معیار تعلیم ان کی تربیت کا معیار یکساں ہونا چاہیے اور ان کے تنخواہوں کے سکیل بھی یکساں ہونے چاہئیں۔ جن لوگوں کو سکول کھولنے کی اجازت دی جائے ان کا کوئی تدریسی تجربہ اور قابلیت ہونا ضروری ہونا چاہیے۔سکول کی عمارت اور سہولتیں مناسب ہونی چاہئیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو اس وقت تک اجازت نامے جاری نہ کیے جائیں جب تک وہ تعلیمی اداروں اور صحت سے متعلق سہولتوں کے لیے جگہ مختص نہ کریں۔ سرکاری سکولوں میںمعائنہ کا نظام ہے لیکن کاغذوں کی حد تک محدود ہے۔ اسے فعال کیا جانا چاہیے اور اسی طرح پرائیویٹ سکولوں کے لیے ایک ریگولیٹری ادارہ قائم کیا جانا چاہیے جو نصاب تعلیم‘ ہم نصابی سرگرمیوں‘ فیسوں کے سٹرکچر ‘ اساتذہ کی تعلیمی قابلیت اور نصاب کی یکسانیت کی نگرانی کرے۔ بچوں کے سکولوںمیں انٹری ٹیسٹ کی ممانعت کی جانی چاہیے اور ہر معاشری پس منظر اور ذہنی سطح (ذہنی پسماندگی نہیں جس کے لیے الگ ادارے ہونا ضروری ہے) کے بچوں کو داخل کیا جانا چاہیے۔ اعلیٰ سطحی کمیٹی نے بہت سی سفارشات مرتب کی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پرائیویٹ سکولوں میں دس فیصد ایسے بچوں کو داخلہ دیا جانا ضروری ہونا چاہیے جو تعلیمی اخراجات کے متحمل نہ ہوں۔ جہاں تک نصاب کی بات ہے اسے بہتر بنایا جانا بہت ضروری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں ایسا نصاب آج پڑھایا جا رہا ہے جو ساٹھ سال قبل کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے۔ نصاب کو موجودہ زمانے کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق بنایا جانا چاہیے اور اس پر جلد از جلد کام ہونا چاہیے۔ اس نصاب کو پڑھانے کے لیے اساتذہ کی اہلیت کو فروغ دینے کی خاطر ریفرشر کورس مرتب کیے جانے چاہئیں۔ سکولوں میں نشست و برخاست‘ گفتگو اور اظہار خیال کے آداب کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ اساتذہ کے طلبہ کے ساتھ درشتی سے پیش آنے پر سختی سے نوٹس لیا جانا چاہیے۔ یہ سب کچھ محض پرائیویٹ سکولوں کے لیے نہیں بلکہ سرکاری سکولوں کے لیے سب سے پہلے لازمی ہونا چاہیے اور سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ سکولوں کے لیے مثال ہونا چاہیے۔ سرکاری سکولوں کا معیار بلند ہو گا تو لامحالہ لوگ اپنے بچوں کو ان میں داخل کرائیں گے اور یہ غلط فہمی دور ہو جائے گی کہ پرائیویٹ سکولوں میں بہتر تعلیم دی جاتی ہے۔ اس لیے پرائیویٹ سکولوں کیلئے ریگولیٹری ادارہ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری سکولوں کی حالت بہتر بنانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔

متعلقہ خبریں