Daily Mashriq

تمام طبقات بارے یکساں سوچیں

تمام طبقات بارے یکساں سوچیں

معاشی ابتری اور دوسرے مسائل سے انکار ممکن نہیں سو سوموار کے روز نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر اسٹاک مارکیٹ ایک بار پھر کریش ہوئی جس سے سوا کھرب روپے کا نقصان ہوا جبکہ دوسری طرف ڈالر کی قیمت میں 1.43فیصد اضافہ ہوا۔ بہت آسان ہے یہ کہہ دینا کہ مسائل ورثے میں ملے ہیں۔ سابقہ حکومتوں نے سب کچھ برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان مسائل ومشکلات کا قبل ازوقت اندازہ نہیں تھا؟ اپوزیشن میں رہتے ہوئے تحریک انصاف جن معاشی اور دیگر مسائل کا ذکر کرتی تھی ان کے حل کیلئے حکمت عملی وضع کیوں نہ کی جاسکی؟ حزب اختلاف کا کام ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ جن پالیسیوں کو وسیع تر عوامی مفاد کے منافی سمجھتی ہے ان کا متبادل عوام کے سامنے رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر قبل ازیں یہ کہا جاتا تھا کہ ہم آئی ایم ایف اور دوسرے مالیاتی اداروں کے پاس نہیں جائیں گے۔ اس طرح کے اعلانات پر بہت داد سمیٹی گئی مگر متبادل پروگرام کیا تھا؟ کچھ بھی نہیں۔ بالآخر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ یہاں بھی حکومت سے ایک غلطی ہوئی وہ یہ کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کرنے سے قبل مالیاتی تعاون کیلئے جن مالدار دوست ممالک سے بات چیت ہوئی تھی ان ممالک کی شرائط بارے عوام کو دوٹوک انداز میں بتانا ضروری تھا تاکہ اپنے ہی اعلانات کے برعکس فیصلے پر عمل سے جو سبکی ہوئی وہ نہ ہوتی۔موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے اب تک گیس اور پٹرولیم کی قیمتوں میں ہونے والے اضافوں کی بدولت عام آدمی پر جو منفی اثرات مرتب ہوئے اس کی جانب سے آنکھیں بند کرنے کی منطق سمجھ سے باہر ہے۔ حیرانی ہوتی ہے جب کوئی بائیسویں درجہ کا ماہر معیشت یہ کہتا ہے کہ اس طرح کے فیصلوں سے عام شہری متاثر نہیں ہوگا۔ دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ سبزیوں‘ دالوں‘ تینوں اقسام کے گوشت اور دیگر اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں ایک ڈیڑھ ماہ کے دوران 10سے 12فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر پیاز 32روپے سے 40روپے اور آلو 40کی بجائے 50روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ ہری مرچ 25روپے پاؤ ہے۔ اس طرح فروٹس کی قیمتوں کا معاملہ ہے۔ انگور 250روپے کلو‘ جاپانی پھل 200روپے کلو‘ سیب250 سے 400روپے تک کلو فروخت ہو رہا ہے۔ مٹن کی فی کلو قیمت میں 100روپے جبکہ بیف کی 70روپے اور برائلر گوشت کی قیمت میں 40روپے اضافہ ہوا۔روزمرہ ضرورت کی اشیاء کے بغیر زندگی بسر کرنا مشکل ہے۔ اوسط عام آمدنی آج بھی 10000ہزار روپے ماہوار سے کم ہے۔ قوت خرید آمدن کے مقابلہ میں سسک رہی ہے۔ حکومت لاکھ انکار کرے لیکن درست بات یہی ہے کہ مہنگائی کے سیلاب بلا سے ستائے ہوئے رائے دہندگان نے ضمنی انتخابات میں اپنی ناراضگی کا کھل کر اظہار کیا۔ حقیقت یہی ہے کہ اس وقت مہنگائی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ 50فیصد سے زائد آبادی پہلے ہی خط غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے جس طرح مہنگائی بڑھ رہی ہے اس سے سب سے زیادہ متاثر آبادی کا یہی حصہ ہوگا مگر تنخواہ دار لوئر مڈل کلاس کے حالات بھی دن بدن بگڑتے جا رہے ہیں۔یہ بجا ہے کہ حکومت کے پاس قارون کا خزانہ ہے نہ جادو کی چھڑی لیکن فیصلے کرتے وقت اپنے لوگوں کی حالت زار کو مدنظر رکھا جا سکتا ہے۔ کیا حکومت کے مشیروں اور پالیسی سازوں کو سماجی صورتحال اور دیگر مسائل کا ادراک نہیں؟ ایک سیاسی جماعت کا اصل حسن اس کے جماعتی نظام کے اندر موجود مشاورتی گروپس ہوتے ہیں جو بے لاگ انداز میں اپنی حکمران جماعت کی رہنمائی کرتے ہیں تاکہ کوئی فیصلہ یا پالیسی حکومت کیلئے مسائل پیدا کرنے کا مؤجب نہ بننے پائے۔ مکرر عرض ہے کہ خسارہ کم کرنے کیلئے عوام پر بوجھ بڑھاتے چلے جانے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ اس سے حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھیں گے۔ زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ وفاقی حکومت اپنے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کرے اور ایسے فیصلوں سے اجتناب جن سے براہ راست عام آدمی متاثر ہو۔ لہٰذا بہت ضروری ہوگا کہ بجلی‘ گیس اور پٹرولیم کی قیمتوں میں مزید اضافوں کی بجائے شہریوں کو ریلیف دینے کے اقدامات کئے جائیں۔یہ اقدامات اسلئے بھی ضروری ہیں کہ حکمران طبقات اور مشیران کو بغور سوچنا ہوگا کہ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے ستائے شہریوں کی دادرسی نہ ہو پائی تو نتیجہ کیا ہوگا؟۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ جس طور مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے اس سے مفلوک الحال طبقات کا اگلے دو اڑھائی سال میں حشر کیا ہوگا۔ ہماری دانست میں اس پر کسی تاخیر کے بغیر غور وفکر کرنے اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بدترین سطح کو چھوتی مہنگائی سے نچلے طبقے اور سفید پوشوں کی زندگی اجیرن ہو چکی۔ بجا ہے کہ بہت سارے مسائل ورثے میں ملے ہیں یہ بھی تو حقیقت ہے کہ ہر نئی حکومت اپنی پالیسیوں اور اقدامات کے ضمن میں پچھلی حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہراتی آئی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو سابقہ حکومتوں پر ذمہ داری ڈالتے وقت یہ یاد رکھنا چاہئے کہ وہ تبدیلی‘ اصلاح اور لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے کے وعدوں پر اقتدار میں آئی ہے۔ اس لئے مناسب یہ ہوگا کہ کسی ایک طبقے کو سیاست کا محور ٹھہرانے کی بجائے معاشرے کے تمام طبقات کیلئے ایسے اقدامات اُٹھائے جائیں جن سے لوگ سکھ کا سانس لے سکیں۔

متعلقہ خبریں