Daily Mashriq

حکومت وقت۔۔ اک نظر اس طرف

حکومت وقت۔۔ اک نظر اس طرف

دھیرے دھیرے موت کی جانب کھسکتے یہ خاموش لوگ، جو لحظہ لحظہ کینسر کے عفریت کے غار جیسے مُنہ میں داخل ہو رہے ہیں، انہیں پاکستان میں بہت کم سہولتیں حاصل ہیں۔ انہیں تسلی دینے کیلئے کوئی الفاظ نہیں۔ زندگی بے ثبات ہے لیکن یہ بے ثباتی اچانک یوں چنگھاڑنے لگتی ہے کہ اس کے شور سے ان کے اردگرد موجود لوگوں کے کانوں سے بھی خون رسنے لگتا ہے۔ شاید وہ لفط ابھی تخلیق نہیں ہوئے جو اس درد کی پوری گہرائی کو بیان کر سکیں۔ اس مرض کا علاج ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا اور اس مرض کے چہرے پر یاسیت اور پریشانی کا ایک ایسا کالا دبیز پردہ ہے کہ اس کے آگے راستے دکھائی دینے بند ہو جاتے ہیں۔ دھند میں لپٹی ہوئی اس رات کی خبر ہی بہت تکلیف دہ ہوتی ہے، کجا انسان اس رستے پر گامزن ہو جائے یا اس کے ہاتھ میں کسی کا ہاتھ ہو جو دن بہ دن سرد اور کمزور ہوتا جا رہا ہو۔ وہ والدین جن کی آوازوں کی گھن گرج میں زندگی کے حصار موجود تھے، ان کے کاندھوں کی کمزوری سے آنکھیں خون رونے لگتی ہیں۔ وہ مضبوط تھام لینے والے ہاتھ، کینسر سے لڑتے لڑتے جب جھریوں کے جال میں اُلجھ جاتے ہیں تو وہیں کہیں سانسیں اُلجھنے لگتی ہیں۔ ان کے قدموں کی لڑکھڑاہٹ میں روشنی کی کوئی کرن بھی آٹکرائے تو برا لگتا ہے۔ وہ کمزور ہوتے ہوں تو زندگی پر اپنی گرفت ڈھیلی محسوس ہونے لگتی ہے۔ اگر کینسر اپنے اردگرد کسی کو ہو جائے، ساتھی کو، دوست کو، بہن یا بھائی کو تو بھی اس کے پنجوں کی چبھن اپنی شہ رگ پر محسوس ہوتی ہے، موت انہیں دھیرے دھیرے ہمارے ہاتھوں سے کھینچ رہی ہوتی ہے اور ہم وہ ہاتھ محض ایک بار مضبوطی سے تھام لینے کی آرزو میں لمحے گزار لیتے ہیں۔ یہی تکلیف اگر ماں باپ کی نظروں کے سامنے اولاد کے خون میں اُتر جائے تو شاید اس کی سختی خود موت کی سختی سے زیادہ ہو۔ مجھے محض یہ سب لکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے مٹھی میں میرا دل لے لیا ہے اور اسے مسل رہا ہے۔ یہ کیسی آزمائش ہے جس کا نام کینسر ہے۔ وہ جو اسے کاٹ رہے ہیں ان کی ہمت کی کیا بات کروں، وہ اپنی اسی بیماری کے دوران بھی مسکراتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے، رشک آتا ہے، یہ کتنی عظیم مسکراہٹ ہے، کتنی خوبصورت ہے کہ ان کی تکلیف کا احساس ہوتے ہوئے بھی پاکستان میں ان لوگوں کیلئے ناکافی سہولتیں ہیں۔ حالانکہ ان لوگوں کو ہماری توجہ کا مرکز ہونا چاہئے۔ ان کی مسلسل اذیت میں اگر چند لمحے کی کمی بھی ممکن ہو تو اس کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے لیکن ہم مجبور بھی ہیں اور کئی بار لاپرواہ بھی۔ پاکستان میں بیماری کے علاج کے بعد کی نگہداشت پر توجہ یوں بھی کم ہے۔ ہم علاج تو کرتے ہیں اُپائے نہیں کرتے تبھی تو لوگوں کی زندگیوں میں مسائل کم نہیں ہوتے۔ کینسر پوری دنیا میں بڑھ رہا ہے لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں کینسر کا علاج مہنگا اور مشکل ہے اور پھر اس کے نتیجے میں جنم لینے والی کمزوریاں، ضروریات پوری کرنا اس سے بھی زیادہ کٹھن ہے۔

کینسر کا علاج کرنے والے ہسپتالوں کی تعداد کم ہے، علاج بہت مہنگا ہے، ڈاکٹروں کی توجہ علاج پر رہتی ہے، اس لئے وہ صحت یابی کی طرف مائل مریضوں کی ایسی نگہداشت نہیں کر سکتے جس سے ان کیلئے کسی قسم کی آسانی پیدا ہو۔ کسی مریض کو کیموتھراپی کے علاج کے بعد، درد کے مداوا کیلئے بہت مدد نہیں کی جاتی۔ ان کے مسائل جو اس علاج کے نتیجے میں پیدا ہو سکتے ہیں، ان سے بھی انہیں آگاہ نہیں کیا جاتا۔ اس بیماری کا نفسیاتی اثر ہی بہت خوفزدہ کر دینے والا ہے۔ نہ صرف مریض بلکہ اس کے گھر والے بھی مسلسل اذیت کا شکار ہوتے ہیں۔یہ درست ہے کہ پاکستان میں علاج تو تقریباً وہی موجود ہے جو امیر ملکوں میں ہو رہا ہے لیکن اس دوا کی صحت کیا ہے جو ہسپتالوں میں موجود ہے اس حوالے سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ میں کسی دوا کی تلاش میں تھی تو مجھے اسی ایک دوا کی تین قسمیں معلوم ہوئیں۔ ایک دوا ایران کے راستے آرہی تھی۔ ایک براہ راست دبئی سے درآمد کی جا رہی تھی اور ایک پاکستان میں تیار کی جا رہی تھی۔ دبئی سے درآمد کی جانے والی دوا سب سے مہنگی تھی۔ ایران والی اس کے مقابلے میں آدھی قیمت پر دستیاب تھی چونکہ ایک ہی دوائی تھی، ایک ہی برانڈ اور کمپنی تھی اس لئے مجھے کچھ حیرانی ہوئی۔ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ دبئی سے دوا Controlled Environment میں منگوائی جاتی ہے اور سپلائر کی ذمہ داری ہے۔ یعنی اس کا درجہ حرارت اتنا ہی رکھا جاتا ہے جس قدر اس دوائی کو بہترین حالت میں رکھنے کیلئے ضروری ہے جبکہ ایران کے راستے آنے والی دوا سمگل ہو کر آرہی ہے۔ اس کیساتھ کیا حالات بیتے کچھ معلوم نہیں، اس نے یہ سفر ٹرک میں کیا یا خچروں کی پیٹھ پر، یہ بھی معلوم نہیں۔ اس طریقہ کار سے کئی بار دوائی مکمل ضائع ہو جاتی ہے، کئی بار اس کا اثر بہت کم ہوتا ہے۔ پاکستان میں کئی دوائیاں تیار ہی نہیں ہوتیں اور جو تیار ہوتی ہیں ان کے بارے میں شکوک الگ ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ملک میں نشہ کرنے والوں کو گلی کے نکڑ پر منشیات مہیا ہیں اور اب تو سُنا ہے منشیات فروشوں نے ہوم ڈلیوری سروس بھی شروع کر رکھی ہے جبکہ ان مریضوں کی درد کم کرنے کیلئے پوری دنیا میں مارفین پیچ (Morphine patch) استعمال کئے جاتے ہیں وہ پاکستان میں موجود نہیں۔ اس کہانی کے کئی پہلو ہیں، ہر پہلو دوسرے سے زیادہ تکلیف دہ۔ کس کس کی بات کی جائے۔ حکومت وقت کو اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں