Daily Mashriq

اُف یہ پاگل لوگ

اُف یہ پاگل لوگ

جب ہم خود پاگل ہوتے ہیں تو ہمیں ساری دنیا کے لوگ پاگل دکھائی دینے لگتے ہیں۔ پاگلوں کی مختلف قسمیں ہیں، ان میں ایک قسم وحشی یا درندہ صفت پاگلوں کی ہے۔ بڑی خطرناک قسم کے پاگل ہوتے ہیں، ان کا نام سنتے ہی بدن میں جھرجھری سی ہونے لگتی ہے، قانون کے لمبے ہاتھ ان تک نہیں پہنچ پاتے اور بعض اوقات تو یہ اندھے قانون کے محافظوں کی آنکھوں میں بھی کچھ لو کچھ دو کی دھول جھونک کر وہ سب کچھ کر دیتے ہیں جو انہیں نہیں کرنا چاہئے۔ کہتے ہیں کہ وہ ایسا کبھی نہ کر سکتے اگر قانون کے رکھوالوں میں کالی بھیڑیں نہ ہوتیں۔ پاگلوں کی سرعام ملنے والی قسموں میں حرص وہوس کے پجاری، ملاوٹیوں، ناجائز منافع خوروں، راشیوں، دھوکہ دہوں، خوف خدا سے عاری لوگوں، لوٹ کھسوٹ اور چھینا جھپٹی کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے دنیا نامی پاگل خانہ ایسے ہی لوگوں کیلئے وجود میں آیا ہو۔ یہ سب مریضان ہوس وحرص اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کو پاگل اور بیوقوف کہتے ہیں جو بے ضرر، بزدل اور امن پسند ہوتے ہیں اور ان ظالموں کے ہاتھوں لٹ کر بھی اُف ہائے گلہ شکوہ یا فریاد نہیں کرتے۔صوفیائے کرام نے اس دنیا کو جیل سے تعبیر کیا ہے اور سائنس دانوں یا جغرافیہ دانوں نے تو حد کر دی، کہتے ہیں کرۂ ارض پر پانچ حصے پانی ہے اور ایک حصہ خشکی ہے، گویا یہ جیل ہی نہیں ایسی جگہ ہے جہاں کالے پانی کی سزا کیلئے بھیجا گیا ہو اماں حوا اور بابا آدم کی پوری کی پوری نسلوں کو۔ شنید ہے کہ ہر جیل میں ایک پاگل خانہ بھی ہوتا ہے جہاں پاگل مجرموں کو رکھا جاتا ہے لیکن نہایت معذرت کیساتھ عرض گزار ہوں کہ اس ناچیز کو دنیا نامی پوری کی پوری جیل ہی پاگل خانہ لگتی ہے۔ آئن سٹائن کو بیسویں صدی کے عظیم الشان دماغ کا حامل سائنسدان کہا جاتا ہے۔ مگر اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ زمانہ طالب علمی میں اس جیسا کند ذہن ڈھونڈے سے نہیں ملتا تھا۔ کہتے ہیں ایک پارٹی کے دوران وہ کیک کی بجائے کیک کا کاغذ کھانے لگا۔ دنیا میں اسی طرح کے بہت سے پاگل ہوگزرے ہیں۔ ارشمیدس نہا رہا تھا ایسے میں اس کے ذہن میں قوت اچھال کی سوجھ آگئی تو وہ ’’پالیا پالیا‘‘ کا شور کرتا ننگ دھڑنگ ہی بھرے بازار میں دوڑ نکلا۔ گلیلیو نے زمین کے گول ہونے کا دعویٰ کیا تو لوگوں نے اسے پکڑ کر اتنا مارا کہ وہ بھرے مجمعے میں کہنے لگا کہ جو کچھ انجیل مقدس میں لکھا وہ ٹھیک ہے اور میں غلط ہوں، یہ الگ بات کہ سقراط جیسے پاگل نے زہر کا پیالہ پینا قبول کر لیا، منصور حلاج دار پر چڑھ گیا، یہ نیوٹن کا پاگل پن ہی تھا جس نے کشش ثقل دریافت کی۔ بڑی لمبی فہرست ہے ایسے پاگلوں کی جن کے اندر صلاحیتوں کے چھپے خزینے فوارہ بن کر پھوٹے اور دنیا کو سیراب کر گئے۔ فوارہ کو انگریزی میں فاؤنٹین کہتے ہیں۔ پاگل لوگ جن کو پاگل کہتے ہیں ان کی صلاحیتوں کو فوارہ بن کر پھوٹ نکلنے کیلئے پنجاب کے دل لاہور میں فاؤنٹین ہاؤس نامی ادارہ ایک عالیشان عمارت میں موجود ہے۔ گزشتہ دنوں راقم السطور کو لاہور جانے کا موقع ملا تو

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے

ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے

کے مصداق ہم اپنے جگر گوشہ کے تاریک مستقبل کیلئے روشنی کی تلاش میں درگاہوں اور درباروں کی داتانگری میں فاؤنٹین ہاؤس لاہور کی زیارت کرنے چل نکلے۔ یہ وہ ادارہ ہے جہاں پر ذہنی پسماندہ افراد کے اندر چھپی صلاحیتوں کے فوارے جاری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے بہت سی مایہ ناز ہستیاں پاگلوں کی دنیا سے بھاگ کر فاؤنٹین ہاؤس میں پناہ گزیں ہیں، 1981میں ڈاکٹر ایم آر چودھری کی کوششوں سے یہاں فاؤنٹین ہاؤس قائم کرنے کا ڈول ڈالا گیا تھا، لیکن اس سے بہت پہلے 1940میں راک لینڈ نیویارک کے ذہنی امراض کے ہسپتال میں چھ پسماندہ ذہن کے درویش اکٹھے ہوئے اور انہوں نے ایک دوسرے کو قصہ چہار درویش کے کرداروں کی طرح اپنی درد بھری کہانیاں سنانی شروع کر دیں۔ ان کہانیوں کا ابلاغ کرنے کیلئے انہیں ایکٹ بھی کرنا پڑا اور تحریر وتقریر کے علاوہ تصویروں کی مدد سے بھی اپنا مافی الضمیر سمجھانا پڑا، یوں ان کے اندر چھپی صلاحیتیں فوارے بن کر پھوٹنے لگیں اور پھر یوں ہوا کہ اہل قلب ونظر نے ان کے اندر چھپے فن پاروں کو اُجاگر کرنے کیلئے ایک عمارت مستعار لی، اس عمارت کے سبزہ زار میں فوارے لگے ہوئے تھے جبھی اس عمارت کو فاؤنٹین ہاؤس کہا جانے لگا، ہم بھول جاتے لاہور کے فاؤنٹین ہاؤس کو اور کچھ نہ پڑھ پاتے نیویارک فاؤنٹین ہاؤس کے متعلق اگر روزنامہ مشرق پشاور کے اداریے میں ’’فاؤنٹین ہاؤس کی تعمیر میں تاخیر کا سخت نوٹس لیا جائے‘‘ جیسی چیختی چنگھاڑتی تحریر ہماری نظر سے نہ گزرتی۔ روزنامہ مشرق کے اداریہ نویس نے صوبائی سطح کے چارہ گروں کو چیخ چیخ کر بتایا ہے کہ چترال اور سوات جیسی حسن پرور وادیوں کے نوجوان خودکشیاں کرنے لگے ہیں۔ اللہ جانے ان کی یہ آواز کسی نے سنی بھی یا نہیں کہ ایسے میں ہمیں اقبال نوید کہتے سنائی دیئے

رات بھر کوئی نہ دروازہ کھلا

دستکیں دیتی رہی پاگل ہوا

متعلقہ خبریں