Daily Mashriq

انخلا یا شکست؟

انخلا یا شکست؟

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور امریکی نمائندوں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد طالبان ذرائع نے الجزیرہ ٹی وی کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات کے اس دور میں امریکہ نے افغانستان سے دوسرے معاملات سمیت مکمل فوجی انخلاء پر بات چیت کرنے کی رضامندی ظاہر کی ہے۔ چھ رکنی امریکی وفد کی قیادت افغانستان کیلئے امریکہ کے نمائندہ خصوصی اور افغان نژاد امریکی زلمے خلیل زاد کر رہے تھے۔ زلمے خلیل زاد امریکہ کی افغان اور پاکستان پالیسی میں اہم کردار کے حامل سمجھے جاتے ہیں اور یوں افغانستان میں زمینی حقائق سے مغائر اور متصادم پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ کی راہوں میں بکھرنے والے کانٹوں میں ان کا بھی بڑا حصہ ہے۔ زلمے خلیل زاد گزشتہ دنوں پاکستان کا دورہ کرنے والے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے وفد میں بھی شامل تھے اور اسی پس منظر کی بنا پر یہاں ان کا زیادہ گرم جوش استقبال نہیں ہوا تھا۔ افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے درمیان جہاں گھمسان کارن جاری ہے اور سترہ برس بعد بھی کوئی فریق حتمی فتح کی منزل تک نہیں پہنچ سکا وہیں دونوں کے درمیان سلسلہ جنبانی بھی کسی نہ کسی انداز سے چل رہا ہے۔ 2013 میں قطر میں طالبان کے دفتر کا قیام اسی درپردہ رابطے کا عکاس تھا۔ یہ وہی وقت تھا جب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں پہلی بار یہ رپورٹس شائع ہونے لگی تھیں کہ روس طالبان کیساتھ روابط استوار کر چکا ہے اور یہ روابط باقاعدہ عسکری امداد کی شکل بھی اختیار کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے امریکہ، کابل حکومت اور ان کے ہمنوا طالبان کی مدد کے الزام کیلئے تنہا پاکستان کو سینڈ بیگ بنائے ہوئے تھے۔ طالبان کے دوسرے اہم ملکوں کیساتھ بڑھتے ہوئے روابط کی خبروں کے بعد ہی امریکہ نے طالبان کیساتھ مذاکرات کی ایک کھڑکی دوحہ میں دفتر کی اجازت کے ذریعے کھولنے کی ابتدا کی تھی۔ اب یہی دفتر افغانستان کی سیاسی مفاہمت کیلئے طالبان کیساتھ رابطے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ یہ طالبان اور امریکہ کا براہ راست مذاکرات کا دوسرا دور ہے۔ ماضی میں امریکہ طالبان سے براہ راست مذاکرات کرنے سے شرماتا، لجاتا اور کتراتا رہا ہے اور وہ طالبان کو کابل حکومت سے مذاکرات کا مشورہ دیتا رہا ہے مگر طالبان کابل حکومت کو کٹھ پتلی قرار دے کر براہ راست امریکہ سے بات چیت پر اصرار کرتے رہے ہیں۔ سترہ برس کی مارا ماری میں طالبان تو امریکہ، نیٹو، ایساف اور افغان فورسز کو زخم زخم کرنے میں کامیاب رہے اور چالیس فیصد سے زیادہ علاقے پر ان کا کنٹرول بھی قائم ہو گیا۔ امریکہ تمام جدید ہتھیاروں اور فضائی برتری کے باوجود اپنے مقصد میں کامیاب نہیں رہا۔امریکی فوجیوں کی گرتی لاشیں امریکی عوام کو اس جنگ کیخلاف اکسانے میں ممدومعاون ثابت ہوتی رہیں۔ زمینی صورتحال یہ رہی کہ طالبان کی مزاحمت بڑھتی اور پھیلتی چلی گئی، وہ امریکی فوج کے مکمل انخلاء کے مطالبے سے ایک انچ ہٹنے کو تیار نہیں ہوئے۔ امریکہ کی افغانستان میں براہ راست فوجی موجودگی نے خطے کے اہم ممالک روس، چین، پاکستان اور ایران کو خوفزدہ کئے رکھا۔ ان کے خوف کی بنیاد یہ تھی کہ افغانستان میں امریکہ کی فوجی موجودگی کے باعث قریبی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔ یہ خوف قطعی بے سبب نہیں تھا پاکستان افغانستان میں امریکی موجودگی کی قیمت برسوں سے چکا رہا ہے۔ امریکی افغانستان سے اپنے مکمل فوجی انخلاء کے معاملے پر خوف کا شکار رہے ان کا خیال تھا کہ انخلاء کی صورت میں نہ صرف یہ کہ علاقائی ممالک کابل پر اپنا اثر رسوخ قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے بلکہ اس کے بعد کابل حکومت طالبان کی یلغار کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو کر گر جائے گی اور طالبان دوبارہ افغانستان کا کنٹرول سنبھال کر ملک کو امریکہ مخالف سرگرمیوں کا گڑھ بنالیں گے۔ امریکہ نے اپنے انخلاء کی صورت میں بھارت کو افغانستان کا پولیس مین بنانے کی پالیسی اپنا کر پاکستان کو مستقلاً اپنے گھیراؤ کے خوف کا شکار کئے رکھا۔ اس طرح بہت سوں کے خدشات اور خوف کے باعث پورا خطہ عدم استحکام کی راہوں پر گامزن رہا۔ اب اگر امریکہ نے افغانستان سے مکمل فوجی انخلاء کا عندیہ دیا ہے تو اسے ایک تاریخی لمحہ اور خبر کہا جا سکتا ہے۔ یہ خطے میں استحکام کی جانب پہلا اور اہم ترین قدم ثابت ہو سکتا ہے مگر کسی وسیع تر مفاہمت کے بغیر یہ انخلاء سوویت انخلاء کی طرح افغانوں کیلئے رحمت کی جگہ زحمت بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکہ میں یہ سوچ اب بڑی حد تک غالب آچکی ہے کہ وہ موجودہ جنگجویانہ پالیسی کو جاری رکھ کر اگلے سترہ برس بھی جنگ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس سوچ کا عکاس ’’دی ویک‘‘ میگزین میں امریکی خاتون صحافی بونی کرسٹن کا ایک چونکا دینے والا مضمون ہے۔ جس کا عنوان ہی ’’امریکہ کبھی افغانستان میں نہیں جیت سکے گا‘‘ ہے۔ بونی کرسٹن نے لکھا ہے کہ ممکن ہے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کے بعد طالبان غالب آجائیں، کابل حکومت گر جائے اور افغانستان پھر امریکہ مخالف قوتوں کا اڈہ بن جائے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ امریکہ ہمیشہ کیلئے افغانستان میں براجمان رہے۔ بونی کرسٹن نے اپنے مضمون کا اختتام اس جملے سے کیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ افغانستان میں جنگ کو ختم کر دیا جائے۔

متعلقہ خبریں