Daily Mashriq

سپریم کورٹ: خیبرپختونخوا خصوصی اختیارات آرڈیننس کے خلاف درخواست دائر

سپریم کورٹ: خیبرپختونخوا خصوصی اختیارات آرڈیننس کے خلاف درخواست دائر

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں صوبہ خیبرپختونخوا میں بنیادی حقوق کے خلاف رواں برس اگست میں نافذ کیے گئے ایکشن ان ایڈ آف سول پاور آرڈیننس کو معطل کرنے کی درخواست دائر کی گئی ہے۔

مذکورہ درخواست کے پیچھے متحرک قوت پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنما فرحت اللہ بابر ہیں، ان کے علاوہ دررخواست دائر کرنے والے دیگر افراد میں انسانی حقوق کے کارکنان افراسیاب خٹک، بشرہ گوہر اور روبینہ سیگل شامل ہیں اور تمام افراد کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔

سپریم کورٹ میں مذکورہ درخواست ایڈووکیٹ خواجہ احمد حسین نے دائر کی تھی۔

ایکشن این ایڈ آف سول پاور آرڈیننس کے تحت مسلح افواج کو ایک فرد کو صوبے میں کسی ووقت، کسی جگہ وجہ بتائے بغیر اور ملزم کو عدالت میں پیش کیے بغیر گرفتاری کا اختیار حاصل ہوجاتا ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ آئین میں 25ویں ترمیم سے قبل قبائلی علاقہ جات آرٹیکل 247 کے تحت چلائے جاتے تھے جس میں صدر مملکت کو وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے ( فاٹا) اور صوبائی زیر انتظام قبائلی علاقہ (پاٹا) میں امن اور حکومت سے متعلق قوانین بنانے کا اختیار حاصل تھا۔

2011 میں صدر نے ایکشنز (ان ایڈ آف سول پاور) ریگولیشز نافذ کیا تھا جس کا اطلاق فاٹا اور پاٹا پر ہوتا تھا۔

ان قوانین میں واضح کیا گیا تھا کہ ملک کی سالمیت کو درپیش خطرات کی وجہ سے قانون کی ضرورت بڑھ گئی تھی۔

تاہم 25ویں ترمیم کے بعد سے آئین میں سے آرٹیکل (7)247 کا خاتمہ کردیا گیا جسے گزشتہ طرس 31 مئی کو نافذ کیا گیا تھا اس کے ساتھ ہی فاٹا اور پاٹا دونوں کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا گیا تھا۔

درخواست میں کہا گیا کہ آرڈیننس کو اگست کے آغاز میں خفیہ طور پر نافذ کیا گیا اور ستمبر کے وسط میں صوبائی حکومت کی جانب سے اسے پبلک کیے جانے سے قبل خیبرپختونخوا میں قوانین کی پیروی کرنے والے درخواست گزاران بھی آرڈیننس کے نفاذ سے لاعلم تھے۔

اس میں درخواست گزاران نے کہا کہ قانون کے تحت چلنے والے معاشرے میں قانون سازی کرنے والے اداروں پر شہریوں کو تمام قوانین سے آگاہ کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اس سلسلے میں کوئی رازداری نہیں ہونی چاہیے۔

درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی کہ عدالت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو آرڈیننس کے تحت گرفتار کیے جانے والے تمام افراد کے مقدمات پر نظرثانی کرے اور انہیں رہا کرے یا قانون نافذ کرنے والے سول اداروں کو منتقل کرے۔

اس میں یہ استدعا بھی کی گئی کہ عدالت ہدایت دے دونوں حکومتیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی جانب سے منظور کیے گئے تمام قوانین چاہے بنیادی ہو یا مجوزہ قانون سازی اپنی آفیشل ویب سائٹس پر پوسٹ کریں۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ سپریم کورٹ وفاقی حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل (1) 245 تحت جاری کی گئی کسی بھی ہدایت کو غیر قانونی قرار دے جو مسلح افواج کو ایسے طریقے سے کارروائی کی اجازت دیتا ہے جو سول قانون نافذ کرنے والے کو دیے گئے اختیارات سے بالاتر ہے۔

متعلقہ خبریں