Daily Mashriq

نیب میں منی لانڈرنگ، دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے کیلئے سیل قائم

نیب میں منی لانڈرنگ، دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے کیلئے سیل قائم

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے اپنے ہیڈکوارٹرز میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت روکنے کے لیے ایک سیل قائم کردیا۔خیال رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کے شیڈول جرائم میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کے لیے مالی معاونت پہلے ہی شامل ہیں۔

اس حوالے سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا نیب کی جانب سے تشکیل کردہ سیل منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کےخاتمے سے متعلق کوششوں کو مضبوط کرنے کے علاوہ قومی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سیکریٹریٹ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ معاونت کرے گی

نیب کے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز ظاہر شاہ اس سیل کی سربراہی کریں گے جبکہ دیگر اراکین میں ڈائریکٹر مانیٹرنگ ظفر اقبال، ایڈیشنل ڈائریکٹر مفتی عبدالحق، ماہرین بینکنگ جہانزیب فرید، سہیل احمد اور سینئر پراسیکیوشن ناصر محمود مغل شامل ہیں۔

تاہم وفاقی تحقیقاتی ادارہ نیب کے مذکورہ نئے مینڈیٹ سے خوش دکھائی نہیں دیتا۔

ایف آئی کے سینئر عہدیدار نے کہا کہ نیب کا اقدام دائرہ کار سے متجاوز ہے کیونکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے پہلے ہی خصوصی محکمے موجود ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سابق ڈائریکٹر لیگل محمد اعظم جنہوں نے نیب میں بھی خدمات سرانجام دی ہیں، انہوں نے کہا کہ انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ سے ایف آئی اے، نیب، ایف بی آر، اینٹی نارکوٹکس فورس،فنانشل مینیجمنٹ یونٹ اور ایکسچنج کمیشن آف پاکستان کو منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے اختیارات ملے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تاہم دہشت گردوں کی مالی معاونت کی تحقیقات صرف ایف آئی اے کے دائرہ کار میں آتی ہیں کیونکہ اس کی تحقیقات صرف انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت کی جاسکتی ہیں۔

محمد اعظم نے کہا کہ نیب ، قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے تحت کام کرتا ہے جس میں دہشت گردوں کی مالی معاونت شامل نہیں ہے، قومی احتساب بیورو کے پاس اس کی تحقیقات کا دائرہ اختیار موجود نہیں۔

اس حوالے سے رابطہ کرنے پر ترجمان نیب نوازش علی عاصم نے بتایا کہ پاکستان میں کرپشن کے خلاف کارروائی کرنے والا اقوام متحدہ کا ترجمان ادارہ ہونے کی حیثیت قومی احتساب بیورو نے انسداد منی لانڈرنگ سیل قائم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کی تحقیقات سے متعلق قائم کیا جانے والا سیل ایف آئی اے سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

متعلقہ خبریں