Daily Mashriq

صوبائی دارالحکومت کو جدید بنانے کے تقاضے

صوبائی دارالحکومت کو جدید بنانے کے تقاضے

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے زیرصدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں صوبائی دارالحکومت کیلئے جتنے منصوبے تجویز کئے گئے ہیں اگر ان میں سے آدھے منصوبے بھی مکمل کئے جا سکے تو کسی بھی دور حکومت میں پشاور کی ترقی کیلئے یہ سرفہرست کوشش ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان تمام کوششوں سے قبل صوبائی حکومت اگر بی آرٹی کا طوق گلے سے اُتاردے اور جتنا جلد ممکن ہوسکے بی آرٹی چل پڑے اتنا ہی یہ حکومت کے حق میں بہتر ہوگا۔ مجوزہ منصوبوں میں کسی ایک منصوبے کی افادیت بھی دوسرے سے کم نہیں لیکن اگر ترجیح اختیار کرنا پڑا تو حکومت کو سڑکوں بالخصوص رنگ روڈ کی تکمیل کو اولیت دی جائے تاکہ شہر کا شمالی حصہ بھی رنگ کے اندر آئے چونکہ چارسدہ روڈ سے شروع ہونے والی رنگ روڈ کی تکمیل کا رخانوں اور حیات آباد کو ملانے کے بعد ہوتا ہے اسلئے اس سڑک سے طورخم اور افغانستان سے بھی روڈ لنک مضبوط ہوگا جبکہ طورخم تک بڑی شاہراہ کا جو بڑا منصوبہ ہے اس کی تعمیر تک یہ متبادل راستہ کے طور پر استعمال ہو۔ہم سمجھتے ہیں کہ صوبائی دارالحکومت کی طرف پورے صوبے کی آبادی کی مراجعت میں روزبروز اضافہ کے باعث شہر کے مسائل گمبھیر ہوتے جارہے ہیں آبادی کے تناسب سے سہولتوں کا جائزہ لیا جائے تو صوبائی دارالحکومت کے شہریوں کو ضلعی ہیڈ کوارٹر سے زیادہ کی سہولیات میسر نہیں۔ بی آرٹی کی تعمیر کے باعث شہر کی سڑکوں کی توسیع اور ری ڈیزائننگ کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ ماحولیاتی تعلیمی اور طبی مسائل سمیت آبنوشی نکاسی آب جیسے بنیادی مسائل ہنوز توجہ طلب ہیں۔صوبائی دارالحکومت میں ایک بڑے اور جدید رہائشی منصوبے کی ضرورت ہے مگر صوبائی حکومت بیس سال سے زائد عرصے کے قبل کے منصوبہ ریگی للمہ کو قابل رہائش بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے جس پر توجہ دیئے بغیر پھیلتے شہر کو کسی منصوبہ بندی کے تحت لانے میں کامیابی نہیں مل سکتی۔ صوبائی حکومت کو اپنی منصوبہ بندی میں نیا شہر بسانے اور جدید بستیوں کے قیام کو اسلئے اولیت دینے کی ضرورت ہے کہ موجودہ شہر میں بنیادی اساس پر جتنا بھی خرچ ہو چکا ہے اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے بلکہ وسائل کا ضیاع ہی ہوا ہے، بہتر منصوبہ بندی کیساتھ کام نہ کیا گیا تو ہر منصوبے کی ناکامی کا خدشہ باقی رہے گا اور وسائل کے استعمال کے باوجودتبدیلی وبہتری حاصل نہ ہوگی۔

مریضوں کی بے بسی کی کسی کو پرواہ نہیں

صوبائی حکومت اور ڈاکٹروں کے درمیان مذاکرات ومعاملات طے ہونے بارے تقریباً تیس دن بعد بھی عدم پیشرفت سے صوبے کے عوام اور خاص طور پر مریضوں اور ان کے لواحقین کو کن مسائل ومشکلات کا سامنا ہے ایسا لگتا ہے کہ فریقین کو اس سے سروکار نہیں۔ ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کی سطح تک تشخیص کے آلات کی پبلک پرائیویٹ شراکت داری سے لگانے کے باقاعدہ اشتہار کی اشاعت کے بعد ڈاکٹروں کے خدشات اور ان کے مطالبات سے عوام کا اتفاق اور ہمدردی فطری امر ہوگا۔ضلعی ہسپتالوں کی سطح کے ہسپتالوں میں بھی سامان تشخیص وسامان علاج ٹھیکیداروں کے حوالے کرنے کے بعد عوام کو مفت اور رعایتی تشخیص کے حصول کی سہولت نہیں رہے گی جبکہ اس کے باوجود بھی ان ہسپتالوں کو حکومت خطیرفنڈز کی فراہمی بھی جاری رکھے گی جیسا کہ صوبے کے ایم ٹی آئی ہسپتالوں کو خود مختاری کے بعد بھی خطیر فنڈمل رہی ہے، بہرحال یہ ایک پیچیدہ اور تکنیکی مسئلہ ہے جس کی مختلف توجیہہ ووضاحت کی گنجائش ہے البتہ یہ بات طے ہے کہ وقت کیساتھ ساتھ سامنے آنے والی صورتحال عوام اور مریضوں کیلئے کچھ مثبت نہ ہوگا، قطع نظر اس تکنیکی مسئلے کے ہم سمجھتے ہیں کہ ہڑتالی ڈاکٹروں کو منوانے میں صوبائی حکومت کی طرف سے سرد مہری اور لاپرواہی سے یہ بات واضح ہے کہ حکومت کو عوام کے مسائل اور علاج سے زیادہ دلچسپی نہیں، صوبائی حکومت کے پاس متاثرہ مریضوں کو علاج کی متبادل سہولت کی فراہمی کا بھی کوئی منصوبہ نہیںجس طرح عوام بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے حکومت کی حالت بھی اس سے زیادہ مختلف نہیں۔ بہتر ہوگا کہ صوبائی حکومت جے یو آئی کے آزادی مارچ سے قبل ڈاکٹروں کیساتھ معاملات طے کرے تاکہ جے یو آئی کو بآسانی ڈاکٹررضاکاروں کی ٹیم اور جلسے میں شرکت کیلئے جوانسال افراد میسر نہ آئیں۔ جتنا جلد ہوسکے ڈاکٹروں سے مذاکرات کر کے ہڑتال ختم کروایا جائے۔

چترال میں گاڑی کا افسوسناک حادثہ

چترال بونی روڈ پر تیز رفتار کار اور مسافر کوچ کے بد ترین حادثے سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ چترال میں ٹریفک پولیس اور ٹریفک کا کوئی انتظام نہیں۔ ٹریفک پولیس چترال شہر میں نمائشی حد تک ہی نظر آتی ہے پٹرولنگ اور جا بجا پولیس اہلکاروں کا ٹریفک پر نظر رکھنے کا کوئی انتظام نہیں۔ حد رفتار کی پابندی لواری ٹنل سے گزرتے ہی ختم ہو جاتی ہے، یہ صورتحال آئے روزحادثات کا باعث بن رہی ہے اور قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہا ہے۔چترال میں کم عمر لڑکوں کے موٹر سائیکل پر حادثات کی شرح صوبے میں سب سے زیادہ ہے، اپر چترال کے ضلع بننے کے باوجود ضلع کی ضرورت کے مطابق پولیس سمیت عملے کی عدم فراہمی بھی معاملات میں بگاڑ کی ایک بڑی وجہ ہے۔ گزشتہ روز پیش آنے والا حادثہ ناگزیر نہ تھا بلکہ ٹریفک کا مناسب انتظام ہوتا اور احتیاط کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا تو اس سے بچنا ممکن تھا۔جتنا جلد ہوسکے لواری سے بونی تک ٹریفک پولیس تعینات کی جائے اور حد رفتار کی سختی سے پابندی کرائی جائے۔

متعلقہ خبریں