Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

بابا فرید کثیر الاولاد تھے۔ تین بیویاں تھیں۔ ایک بار خاتون بیگم حاضر خدمت ہوئیں۔ ان کی آنکھوں سے اشک جاری تھے۔ ''بی بی! کیوں روتی ہو؟'' حضرت بابا فرید نے شریک حیات سے پوچھا۔ ''بھوک کی شدت سے میرابچہ قریب المرگ ہے۔ ''خاتون بیگم کی آواز گھٹ کررہ گئی۔ حضرت بابا فرید کے چہرہ مبارک پر ایک لمحے کے لئے عکس ملال ابھرا۔ پھر فرمانے لگے۔'' یہاں سب بھوک سے تڑپ رہے ہیں۔ مرضی مولا یہی ہے اسے لے کر جا کر دفن کردو۔'' خاتون بیگم سنبھل گئیں۔ '' مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے میں تو صرف اطلاع دینے کے لئے حاضر ہوئی تھی۔''

'' مجھے خبر ہے۔'' حضرت بابا فرید نے اہل صبر کے لہجے میں فرمایا۔'' میں بیماری کے متعلق جانتا ہوں مگر علاج میرے پاس نہیں ہے۔ مسیحا کے دروازے پر دامن پھیلائو۔ وہ چاہے گا تو ا پنے بندوں کو شفا بخش دے گا۔'' حضرت بابا فرید عام باپوں کے مقابلے میں ہزار درجہ بہتر باپ تھے مگر اولاد کی محبت میں آپ نے اپنی درویشانہ روش ترک نہیں کی۔

یہ صبر اور شکر کا اعلیٰ مقام ہے اور اس کا اجر بھی اللہ کے ہاں سب سے بہترین ہے۔

شہر قونیہ میں گرم پانی کا ایک چشمہ تھا۔ مولانا روم کبھی کبھی وہاں غسل کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔ ایک بار مولانا نے اس چشمے پر جانے کاارادہ ظاہر کیا کچھ مریدوںاور خادموں نے ایک دن پہلے وہاں جاکر آپ کے غسل کے لئے مخصوص جگہ کاانتظام کردیا ۔ دوسرے روز جب مولانا روم وہاں تشریف لے گئے تو آپ کی آمد سے چند لمحے قبل کچھ جذامی (کوڑھی) اس مقام پر نہانے لگے۔ خادموں نے خوف ناک مرض میں مبتلا انسانوں کو ڈانٹ کر اس جگہ سے ہٹانا چاہا تو مولانا روم نے سختی کے ساتھ منع کر دیا۔ جب وہ جذامی نہاکر چلے گئے تو آپ نے اسی جگہ کاپانی لے کر غسل کیا اور پھر اپنے خادم سے فرمایا۔

''احتیاط اچھی چیز ہے مگر ا یسے بیماروں سے نفرت نہیں کرنی چاہئے۔ یہ لوگ بھی کل تک تمہاری طرح خوبصورت جسموں کے مالک تھے۔''

ایک بار مولانا روم کی شریک حیات نے اپنی ملازمہ کو سخت سزا دی۔ اتفاقاً مولانا بھی اسی وقت تشریف لے آئے۔

بیوی کی یہ حرکت دیکھ کر بہت ناراض ہوئے اور غم زدہ لہجے میں فرمانے لگے '' تم نے خدا کی نعمتوں کاشکر ادا نہیں کیا یہ اسی کی ذات پاک ہے جو غلاموں کو آقا اور آقائوں کو غلام بنا دیتی ہے۔ ایک لمحے کے لئے اس وقت کا تصور کرو جب تم کنیز ہوتیں اور یہ عورت مالکہ کی حیثیت رکھتی' پھر تمہاراکیا حال ہوتا؟ '' مولانا کی یہ اثر انگیز گفتگو سن کر شریک حیات نے اس ملازمہ کو آزاد کردیا اور پھر جب تک زندہ رہیں خادمائوں کو اپنے جیسا کھلاتیں اور پہناتیں یہاں تک کہ ہر معاملے میں محبت سے پیش آتیں۔

(تاریخ کے اوراق سے)

متعلقہ خبریں