Daily Mashriq

ایران سعودی عرب امن کی موہوم امید

ایران سعودی عرب امن کی موہوم امید

عرب اور ایران مسلمان دنیا اور اس خطے کے تیل برآمد کرنے والے دو اہم ترین ملک ہیں۔ دونوں کو سیال دولت نے پوری دنیا کیلئے اہم اور ممتاز بنا یا ہے اور اس دولت نے دونوں کے عوام کو خوش حالی کی جنت کا مکین بنا رکھا ہے۔دونوں اپنے اپنے مقامات پر سٹریٹجک اہمیت کے حامل بھی ہیں ۔دونوں کے درمیان تزویراتی تضادکی جڑیں صدیوں پرانی عرب اور فارس کشمکش میں پیوست ہیں۔دونوں کے درمیان مخاصمت اب اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ دونوں باہمی پراکسی اور سرد جنگ کے ادوار پیچھے چھوڑ کر کھلی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔یہ جنگ ہوتی ہے تو اس کے پہلے قتیل اورمجروح یہی دو ملک اور ان کے عوام ہوں گے کیونکہ جنگ معیشت کی ہڈیوں سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیتی ہے ۔تیل کے ذخائر اور کنویں اس انداز سے بانجھ اور بے کار ہوجاتے ہیں کہ جنگ زدہ ملکوں میں ان سے تیل نکالنے اور رسد بحال رکھنے کی سکت بھی باقی نہیں رہتی۔ایک زمانہ تھا جب یہ خطہ صرف ایک جنگ کا بوجھ اُٹھائے پھرتا تھا اور وہ تھی اسرائیل عرب لڑائی۔دونوں کے درمیان کھلی اور درپردہ جنگیں لڑی جا رہی تھیں۔یہ لڑائی قطعی قابل فہم تھی کیونکہ عرب قیام اسرائیل کو اپنے سینے میں گھونپے جانے والے خنجر کے طور پر لے رہے تھے ۔وقت کچھ ایسا بدلا کہ لڑائی کی نوعیت بھی بدل گئی۔ عرب اسرائیل لڑائی فلسطین اسرائیل لڑائی میں بدل گئی اور عرب ممالک بیچ میں سے نکل گئے یا نکال دئیے گئے ۔اس نئی تبدیلی نے جھگڑے کی نوعیت کو ہی بدل دیا کیونکہ فلسطینی اور اسرائیل کے درمیان طاقت کاتناسب ہی نہیں تھا ۔بعد میں اس لڑائی کو بہت مہارت او رچالاکی سے عرب عرب لڑائی اور عرب فارس لڑائی میں بدل دیا گیا۔ فلسطین کے بعد لبنان آگ کے شعلوں میں جھلستا گیا یہاں تک کہ خانہ جنگی کا نام اس ملک سے کلی طور پر چپک کر رہ گیا ۔ رنگ برنگی ملیشیاؤ ں نے بیروت کو پھٹتا ہوا بارود بنادیا ۔اسی کی دہائی میں لبنان خانہ جنگی اور تشدد کا استعارہ بنا رہا۔اسی دوران ایران عراق جنگ چھڑ گئی اور عرب دنیا نے صدام حسین کی پیٹھ جم کر تھپتھپائی ۔دس گیارہ سال اس بے مقصد جنگ میں برباد ہوئے اور دونوں ملک تھک کر چور ہوئے تو جنگ بند ہو گئی۔اس کے بعد عراق کویت تنازعے کو اس مہارت سے جنگوں کی ماں بنا دیا گیا کہ اب تک یہ ماں بچے جنتی چلی جا رہی ہے اور خطے میں کہیں نہ کہیں خون رستا جا رہا ہے۔عراق کی دوسری جنگ اور پھر عرب سپرنگ کے نام پر باقی ماندہ ممالک کو ادھیڑ کر رکھ دیا گیا ۔اب سعودی عرب اور ایران جنگ کا سٹیج تیار ہے ۔ پہلے ایران کے تیل بردار جہاز پر ایک راکٹ حملہ ہوا۔حملہ آور کا وجود پراسرار تھا مگر تاثر یہی تھا کہ راکٹ سعودی عرب یا اس کے کسی حمایت یافتہ گروہ نے داغا ہے۔ایران کو اشتعال دلانے کیلئے بس یہی کافی تھا ۔اس سے مقصد پورا نہیں ہو رہا تھا اور ابھی سعودی عرب کو عملی اشتعال دلانا باقی تھا ۔اس کا بندوبست یوں ہوا کہ سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو پر خوفناک ڈرون حملے ہوئے اور ایرانی تیل بردار جہاز پر حملے کی طرح یہ حملہ بھی خاصا پراسرار تھااور مجرم کا نقش قدم تلاش کرنا باقی تھا۔یہ دونوں طرف سے جذبات کا پار ہ چڑھا کر جنگ کو بھڑکانے کی سب سے مضبوط کوشش تھی ۔سعودی عرب اور ایران دونوں شاید اس چال کو سمجھنے لگ گئے تھے۔ سعودی عرب امریکہ کی طرف دیکھ رہا تھا کہ وہ آگے بڑھ کر ایران کی کلائی مروڑے مگر امریکہ افغانستان میں اپنے رستے ہوئے زخموں سے اس قدر تنگ اور پریشان تھا کہ اس کیلئے نیا محاذ کھولنا ممکن نہ تھا ۔امریکہ کی طرف سے اس تذبذب نے سعودی عرب کو امن کے راستوں کی تلاش کی طرف مائل کیا۔ ایران پہلے ہی امریکی پابندیوں کی زد میں تھا اور بندھے ہوئے ہاتھوں سے کسی نئی جنگ میں کود نے کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا ۔اسلئے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ روکنے کیلئے جذبات کی تہ میں ایک چنگاری موجود تھی۔ پاکستان نے اس امن کی خواہش کی اس دبی ہوئی چنگاری کو راکھ سے تلاش کرکے نکالنے اور اسے شعلہ بنانے کا مشکل کام اپنے سر لیا ۔پاکستان نے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کو روکنے کیلئے خاموش روابط کا آغاز کیا ۔سعودی عرب نے ان کوششوں کو راہ دی تو ایران نے بھی سدِراہ نہ بننے کا فیصلہ کیا اور یوں پاکستان آج دونوں ملکوں کے درمیان امن مذاکرات کے سہولت کار کے طور پر سامنے آرہا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان نے اس مشن پر ایران کا دورہ کیا جہاں ان کی رہبر انقلاب سید علی خامنہ ای اور صدر روحانی سے ملاقاتیں ہوئیں ۔مشترکہ پریس کانفرنس بھی ہوئی ایران نے پاکستان کے کردار کو تسلیم بھی کیا ۔جس کے بعدوزیر اعظم نے سعودی عرب کا دورہ بھی کیا۔وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے دونوں ملکوں کی قیادت کیساتھ ملاقاتوں کا احوال ایک پریس کانفرنس میں بیان کرتے ہوئے کہا دونوں ملک جنگ نہیں چاہتے ۔سابق وزیر خارجہ آصف احمد علی ایک ٹی وی انٹرویو میں کہہ رہے تھے کہ ایران سعودی عرب مفاہمت اکیسویں صدی کا ایک بڑا واقعہ ہوسکتا ہے۔بہرحال پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان جنگ روک کر تعلقات کو معمول پر لانے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ سعودی عرب اور ایران سے بڑھ کر پاکستان کی خدمت ہوگی کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا دونوں کے علاوہ جو ملک نشانہ اور شکار بننا تھا اس کا نام پاکستان ہے۔سعودی عرب سے پاکستان کے معاشی مفادات وابستہ ہیں تو ایران کیساتھ سرحدیں ملتی ہیں۔ پاکستان دوستوں کے درمیان اس کردار پر سختی سے کاربند رہے تو اسے مسلمان دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل ہو سکتا ہے۔ ماضی میں پرائی جنگوں میں اُلجھ کر پاکستان نے بہت کچھ گنوایا ہی ہے حاصل کچھ نہیں کیا۔

متعلقہ خبریں