Daily Mashriq

مولانا کی دوسری اہم سیاسی اننگز

مولانا کی دوسری اہم سیاسی اننگز

ویسے مولانا کو ایک مرتبہ اپنے سب سے بڑے سیاسی حریف، کپتان کا شکریہ ضرور ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ان کی دم توڑتی سیاست میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ کپتان نے انہیں پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، ٹھیک اسی طرح جیسے دو دہائیاں قبل مشرف نے کیا تھا۔ مشرف تو جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں مگر کپتان کے لیے یہ ان کے سیاسی کارناموں کا ان چاہا نتیجہ بن کر سامنے آیا ہے۔ کیا تحریک انصاف کو ان حالات سے یہ سبق حاصل نہیں کرنا چاہیے کہ صف اول کی سیاسی جماعتوں کو دبا دینا حکمران جماعت کو ناقابل تسخیر نہیں بناتا؟ خاص کر کے مذہبی قوتوں کو اس طرح سے قطعاً مطیع نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان تحریک انصاف کے لیے میدان حریفوں سے خالی تھا مگر اب اسے ایک ایسے دشمن کا سامنا ہے جس کے آگے وہ اپنا آپ غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے۔ ابھی ایک سال پہلے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے مولانا اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ کپتان نے انہیں انہی کے قلعے میں شکست دی تھی اور ان کے کئی با ریش ووٹر چھیننے کے ساتھ عوامی جلسوں میں ان کی تضحیک کرنا معمول بنا لیا تھا۔ اس وقت کپتان کے سامنے مولانا خود کو بے بس محسوس کرنے لگے تھے۔ انہوں نے اس دوران ایسے تضحیک سہی تھی جس کا انہوں نے زندگی بھر نہ سامنا کیا تھا۔ مگر پاکستان میں سیاسی طور پر بقا کا فن مولانا سے زیادہ کسی کو نہیں آتا۔ پی ٹی آئی نے ان کی سیاست کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہی مفاد پرست سیاستدان کے طور پر بدنام کررکھا تھا۔ اگرچہ یہ بات ٹھیک ہے کہ مولانا نے آج تک کسی سیاسی مفاد کو نظریات یا اصولوں کی خاطر قربان نہیں کیامگر یہ بھی درست ہے کہ مفاد پرست سیاست کسی بھی طور مزاحمت سے پاک نہیں ہوتی۔ مفاد پرست سیاست میں آپ تبھی محاذ آرائی کرتے ہیں جب آپ کو اس سے سیاسی مفاد حاصل ہونے کی اُمید ہو ۔ دشمن یا حریف کو کبھی بھی اس کی نفسیات اور نیت کے بل بوتے پر نہیں تولنا چاہیے۔ دشمن کو تولنے کا بہترین پیمانہ اس کی قابلیت ہے کہ نیت تو کبھی بھی بدل سکتی ہے۔ ایک بہت لمبے عرصے کے بعد مولانا کو یہ بات سمجھ آئی ہے کہ اس وقت محاذ آرائی ہی ان کے وسیع تر سیاسی مفادمیں ہے اور یہ بات ہمیں جان لینی چاہیے کہ مولانا بہت بڑی محاذ آرائی کی بھرپور قابلیت رکھتے ہیں۔مولانا نے اپنی سیاست کا آغاز ایک جمہوریت پسند کے طور پر کیا اور ابتداء میں وہ آمریت مخالف اتحاد کا حصہ رہے ۔ جمہوریت بحال ہوئی تو انہوں نے تائیدی سیاست کا کھیل شروع کیا۔ وہ آنے والی ہر حکومت کے ساتھ لین دین کر کے اس کا حصہ بننے میں کامیاب رہے اور اپنے حمایتیوں کیلئے مناسب فائدے حاصل کرتے رہے۔ اس طرز سیاست نے ان کی ساکھ تو متاثر کی مگر اس طرح وہ پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں اپنی اہمیت اور بقا قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔ مولانا نے اپنی طاقت اور اقتدار کا عروج اس وقت دیکھا جب مشرف نے اپنے دور میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو عتاب کا نشانہ بناتے ہوئے ملک سے ان کی سیاست کا قلع قمع کرڈالا اور ملک میں موجود سیاسی خلاء کو مولانا نے مشرف کیساتھ ہاتھ ملا کر پر کر دیا۔ مولانا اس وقت قائد حزب اختلاف بنے اور ان کے نامزد کردہ امیدوار کو خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ بنا دیا گیا۔ بلوچستان کی صوبائی حکومت بھی ایم ایم ا اتحاد کے ہاتھ آگئی۔ البتہ آخری انتخابات میں مولانا کو سیاسی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اقتدار میں اپنا حصہ کھو بیٹھے اور ان کے پاس اپنے حامیوں کو دینے کیلئے کچھ نہ بچ سکا۔ مولانا کو اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہو گیا تھا کہ شہباز شریف اور زرداری کی طرح حکومت کیخلاف نرم رویہ اختیار کرنے سے وہ کپتان کے مزید عتاب کا شکار بن سکتے ہیں۔ مولانا جانتے ہیںوہ اس وقت اکیلے مخالف ہیں اور یہ مخالفت انہیں خوب سیاسی فائدہ دے سکتی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ دیگر سیاسی جماعتیں اگر ان کا ساتھ دیں تب بھی مولانا کو فائدہ ہے کہ یہ حزب اختلاف کے حقیقی قائد کے طور پر سامنے آئیں گے اور اگر پیپلز پارٹی کی طرح کوئی جماعت بغیر گیلے ہوئے تیرنے کی کوشش میں ہو تب بھی مولانا کے لیے سود مند رہے گا کہ یوں انہیں موجودہ وزیر اعظم کے تن تنہا مخالف کے طور پر دیکھا جانے لگے گا۔ مولانا کپتان کو اسی کی اپنی دوا کا مزا چکھانا چاہتے ہیں اور انہیں دشمن کیخلاف مذہب کا استعمال کرنے میں بھی کوئی عار نہیں۔ مولانا کو یہ بھی اندازہ ہے کہ کاروباری طبقہ حالیہ حکومتی فیصلوں کے بعد ان کے ساتھ ہے اور مدرسوں اور بازاروں کا اتحاد نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے یہ 1977 میں بھٹو کے خلاف تحریک کی صورت استعمال ہوا تھا۔ کیا کوئی کپتان کو یہ بات سمجھا سکتا ہے کہ سیاسی میدان کبھی بھی مخالفین سے خالی نہیں ہو سکتا۔ یہ صرف تبھی ممکن ہے جب عمران خان حقیقت میں اپنے پانچ سو سیاسی مخالفین کو ڈی چوک میں سولی چڑھا کر اپنا شی جن پنگ بننے کا خواب پورا کر سکیں۔ فی الوقت عمران خان کو اپنے تمام حریفوں میں سے مولانا فضل الرحمٰن کا سامنا ہے جو کہ کسی بھی طرح اچھاآپشن نہیں۔

متعلقہ خبریں