Daily Mashriq

وسوسے،مخمصے اور شوشے

وسوسے،مخمصے اور شوشے

میں اگرچہ جمہوری نظام کی جڑیں بہتر برس کے بعد بھی مستحکم نہیں ہوسکی ہیں اور اہل دانش سے اس کے اسباب پوشیدہ نہیں، پاکستانی عوام جمہوری نظام میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں اور اس کو ترجیح بھی دیتے ہیں۔لیکن شومئی قسمت کہ ہم مارشل لاء کو دعوت بھی دیتے رہے ہیں اور ڈکٹیٹروں کو سر آنکھوں پر بٹھاتے بھی رہے ہیں۔ہماری اسی افتاد طبع کے سبب وطن عزیز میں آج تک جمہوریت اور جمہوری قبامیں پائے کوب دیواستبداد کے درمیان تعلق اور آنکھ مچولی بھی جاری رہتی ہے ۔پاکستان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھر پور فضل وکرم کے باوجود آج بھی ہماری معاشرتی،سماجی اور معاشی وسیاسی مسائل بعض اوقات لاینحل سے نظر آتے ہیں اور شاید اسی سبب سے پاکستان ترقی کے وہ منازل طے نہ کرسکا جو ایک بڑی محنتی وجفاکش آبادی اور قدرتی وسائل کی موجودگی کی وجہ سے ہونا چاہیئے تھا۔پاکستان کا قیام اسلامی جمہوری اصولوں اور قوانین کے تحت ممکن ہوا تھا۔ لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک طویل عرصے تک نہ جمہوریت رہی اور نہ ہی قانون کی پاسداری جس کی وجہ سے بیرونی قوتوں نے کبھی معاشی کمزوریوں اور کبھی ہمارے اپنے ہی رہنمائوں کے حرص قیادت واقتدار کے سبب یہاں اسلامی جمہوری نظام حکومت کو راسخ ہونے نہ دیا۔نتیجہ اس کا لولی لنگڑی جمہوریت اور کچی پکی آمریت کی صورت ہی میں آگے بڑھتا رہا،حتیٰ کہ1971ء کا سانحہ ہوا جس کے نتیجے میں بھٹو صاحب ،سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور بعد میں وزیراعظم کے طور پر سامنے آئے،آپ کی سیاسی صلاحیت اور عالمی امور کی سوجھ بوجھ رکھنے کے سبب عوام کی بڑی امیدیں تھیں اور عوامی نوعیت کے کچھ کام بھی ہوئے اور دفاع پاکستان کیلئے بنیادی کام کی بنیادیں بھی آپ کے ہاتھوں پڑیں،لیکن آپ کی جاگیردارانہ پس منظر اور سوشلسٹ ایج اور انقلابی وسماجی فطرت کے ملغوبے نے آپ کو جم کر پاکستان کیلئے وہ کام کرنے نہیں دیا جس سے ملک کی معیشت اور سیاست کو استحکام ودوام ملتا ہے،بہر حال اُن کو جس طرح منظر سے ہٹایا گیا ،بحیثیت مجموعی ملک کا بہت بڑا نقصان ہوا۔آپ کے جانے کے بعد آپ کی صاحبزادی شہید بے نظیر بھٹو قیادت کے طور پر اپنے وقت میں بہترین انتخاب تھا لیکن اس ملک کے مفادواستحکام کے دشمنوں نے اُسے بھی بہت المناک اور پراسرار طریقے سے منظر سے غائب کروادیا۔۔اور پھر تو وطن عزیز میں مسند اقتدارپر وہ باریاں اور آنیاں جانیاں ہوئیں کہ ملک ہزاروں ارب روپے کا مقروض بن کر اپنا وہ کردار ادا کرنے میں بُری طرح ناکام ہوا جس کی عوام نے امیدیں لگائی تھیں،ان دو عشروں کے دوران افغانستان جس طرح سپر اور علاقائی قوتوں کی رسہ کشی کا اکھاڑا رہا اور وطن عزیز اُس سے جس بری طرح متاثر ہوا،وہ ناقابل بیان ہے۔ پاک افواج نے اس دوران جس بہادری اورحکمت کے ساتھ ملک کے اندر اور سرحدوں پر جو بے مثال جنگ لڑی اُس نے وطن عزیز کو بہت بڑے امتحان سے سرخروں کر کے نکالا۔ شاید اللہ تعالیٰ نے ہماری یہ قربانیاں قبول فرمائیں۔اسی بنا پر اس قوم کو پہلی دفعہ ایک ایسی قیادت عمران خان کی صورت میںمیسر آئی جس نے وطن عزیز کی نگہبان پاک افواج کیساتھ یک جان و دوقلب بن کر ملک وقوم کو اُس گرداب سے نکالنے کا تہیہ کیا ہے جس میں وہ بہتر برسوں سے گرفتار ہے۔بھنور سے نکلنا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہوتا۔اس کیلئے پوری قوت کے اپنے پورے جسم کازور لگا کر عمودی صورت میں اوپر اُٹھنا ہوتا ہے۔اور اس قسم کا کام وہ آدمی کرسکتا ہے جو اپنی ٹانگوں کیساتھ پانچ کلووزن باندھ کر اُٹھتے پہاڑوں پر چڑھنے کی صلاحیت وطاقت رکھتا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا اس ملک پر بڑا احسان ہے کہ مدتوں بعد ایک ایسا دیدہ ورنصیب ہوا ہے جس پر بیرونی دنیا پہلی دفعہ اعتبار کرنے لگی ہے۔حکمران اور عوام اُس کو سنتے ہیں اور اُن کی باتوں پر توجہ دیتے ہیں۔صد افسوس کہ قیادت تو میسر آگئی ہے لیکن اب قوم کو اس قیادت کیساتھ ایک پیج اور ایک فریکونسی پر لانے کی ضرورت ہے جس میں بعض عناصر بیرونی اور داخلی اس وقت شاید ایڑی چوٹی کا زور لگا تے ہوئے اپنی آخری کوشش میں لگے ہیں کہ عمران خان کو پاکستان کی قیادت سے معزول کریں۔

اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ففتھ جنریشن وار زوروں پر ہے جس میں مربیان جماعت احمدیہ کے نام مرزا مسرور کا خط بھی گردش کرر ہا ہے جس میں صاف بتایا گیا ہے کہ مسلکی اختلاف کے باوجود ''آزادی مارچ'' والوں کی حمایت اور شمولیت کی تلقین کی گئی ہے۔یہ خط جعلی بھی ہوسکتا ہے اور دو دھاری تلوار بھی،لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ ملک کے اندر جب ''خواہ مخواہ'' اور ذاتی اقتدار ومفادات کی سازشیں پروان چڑھتی ہیں تو ملک دشمن عناصر کواپنے پاپڑ بیلنے کے مواقع تو ملتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن سے اُمید ہے کہ وہ ملکی وعالمی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے بنیادی حق کا استعمال کرسکے اور حکومت سے بھی درخواست ہے کہ اگر پرامن آزادی مارچ یا دھرنا کیا جائے تو حسب وعدہ ان لوگوں کو کنٹینر،حلوہ اوردیگر ضروری چیزیں فراہم کریں۔ اور دونوں فریق ملک وقوم کی خاطر بقائے باہمی اختیار کرتے ہوئے عمران خان کو چار سال دیدیںتاکہ اگر کچھ بہتر کرسکیں تو اچھی بات ورنہ عوام اگلے انتخابات میں ان سے بہتر کا متبادل ڈھونڈنے کا حق رکھتے ہیں لہٰذا عوام کو یہ حق چارسال بعد پرامن طور پر استعمال کرنے دیں۔

متعلقہ خبریں