پاک امریکہ تعلقات میں نئی پیچید گیا ں

پاک امریکہ تعلقات میں نئی پیچید گیا ں

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکہ کی جانب سے پاکستان کے خلاف نئے اقدامات کی تیاریاں کی جارہی ہیں ، جن میں پاکستان کا غیر نیٹو اتحادی کا درجہ ختم کر کے پاکستان کو دہشتگردی کا پشت پناہ قرار دے کر یکطرفہ ڈرون حملوں ، امداد میں مزید کمی کے ساتھ ساتھ کچھ حکام پر پابندیوں کے مشورے کئے جارہے ہیں۔ اخبار کے مطابق دہشت گردی کا پشت پناہ ملک قرار دیئے جانے سے پاکستان کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے قرض ملنے میں بھی مشکلات ہو سکتی ہیں ۔ امریکی محکمہ خارجہ کے افسر کے مطابق پاکستان میں مبینہ طور پر 20دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں ، خطے کیلئے خطرہ بنے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی حکومت کی طرف سے اقدامات چاہتے ہیں ، فنانشل ٹائمز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کا اتحادی کا درجہ ختم کرنے سمیت اس کے خلاف دیگر سخت اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اپنی افغان پالیسی کے حوالے سے پاکستان پر الزامات عاید کئے تھے کہ پاکستا ن مبینہ دہشت گردوں کو اپنی سر زمین پر پناہ دیئے ہوئے ہے جہاں سے وہ افغانستان میں امریکی اور افغان سیکورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں کر تے ہیں ، تاہم پاکستان نے اس الزام کو سختی سے رد کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف اپنی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان ایک عرصے سے خود دہشت گردی کا شکار ہے اور ہزاروں قیمتی جانوں کے خون کی قربانیاں دے چکا ہے ، پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسی وقت امریکی انتظامیہ پر یہ بات واضح کر دی تھی کہ پاکستان امریکی امداد کی متمنی نہیں البتہ دنیا کو چاہیئے کہ وہ پاکستانی قربانیوں کو تسلیم کرے ، انہوں نے عالمی برادری سے کہا تھا کہ پاکستان اپنے حصے کی ذمہ داری نبھا چکا اور اب بھی نبھا رہا ہے اس لئے اب پاکستان سے ڈومور کے تقاضے بے معنی ہیں بلکہ اب دنیا کو ڈومور کرنا چاہیئے ، اس ضمن میں اب دنیا بھی پاکستان کے موقف کو درست سمجھتی ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ پاکستان پر جس قسم کے الزامات عاید کررہی ہے ان کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ افغانستان میں بھارت کو کلیدی کردار دے کر پاکستان کو زچ کیا جائے ۔ چونکہ یہ بات اب پوری طرح عیاں ہو چکی ہے کہ افغانستان میں قائم بھارتی قونصل خانے جو خاص طور پر پاک افغان سرحدی صوبوں میں قائم ہیں پاکستان کے اندر نہ صرف دہشت گردوں کی سرگرمیوں کو فروغ دے ، بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کر کے انہیں تر بیتی مراکز فراہم کر ے اور اسلحہ و مالی امداد دے کر بلو چستان میں علیحدگی پسند ی سرگرمیاں تیز کرائے ، جبکہ کلبھوشن یادیو کے نیٹ ورک پر قابو پانے سے یہ تمام سرگرمیاں بے نقاب ہو چکی ہیں ، بلکہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی معلومات کے مطابق امریکہ اوربرطانیہ میں بعض علیحدگی پسند بلوچ رہنمائوں نے آزاد بلوچستان کے نام سے ایک تنظیم بنالی ہے جس کی سرپرستی امریکہ اور برطانیہ کے بعض سرکردہ سیاسی شخصیات کر رہی ہیں اور اس تنظیم کے ذریعے پاکستان کے خلاف معاندانہ پروپیگنڈہ بھی کیا جا رہا ہے ، جبکہ یہ تنظیم آزاد بلوچستان کے نام سے اگر جلاوطن حکومت کے قیام کا اعلان کرے تو پاکستان کے خلاف بغض و عناد رکھنے والی امریکی اور برطانوی لابیاں اسے تسلیم کرنے کا عندیہ بھی ظاہر کر چکی ہیں ، اس لئے پاکستان پر جو تازہ دبائو ڈالنے کی امریکی انتظامیہ کی جانب سے تیاریاں جاری ہیں یہ اسی سلسلے کی ایک کڑی بھی ہو سکتی ہے ، جبکہ امریکہ کبھی نہیں چاہے گا کہ خطے میں چین کو ابھر نے اور اس قدر مضبوط بننے کا موقع دیا جائے کہ وہ امریکہ کو چیلنج کرنے کے قابل ہو سکے ۔ اس لئے ایک جانب وہ بھارت کو افغانستان میں کردار دے کر جبکہ دوسری جانب چین اور بھارت کو مشترکہ سرحد کے قریب الجھا کر اس کی توجہ بٹا نا چاہتا ہے ، اسی طرح امریکہ کی ہر ممکن کوشش ہے کہ چین سی پیک جیسے گیم چینجر منصوبے کو تکمیل تک پہنچا کر اس کی عالمی اقتصادی طاقت کی حیثیت چھین کر خود اس مقام پرفائز ہوجائے ، اس لئے اس سے پہلے کہ سی پیک منصوبہ تکمیل تک پہنچ سکے امریکہ پاکستان پر سخت اقتصادی دبائو ڈالنے کے ساتھ ساتھ بھارت کی مدد سے اس کیلئے سلامتی کے ایسے مسائل پیدا کر دے کہ پاکستان امریکی خواہشات کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے ، اس لئے حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان کو اپنے داخلی اور خارجی تعلقات میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی حکمت عملی پر سنجید گی کے ساتھ غور کرنا پڑے گا ۔ اور اس وقت پاکستان خارجہ تعلقات کے حوالے سے جس طرح تنہائی کا شکار ہو رہا ہے اس سے باہر آنے کیلئے اہم اور بنیادی اقدامات اٹھانا پڑیں گے ۔ تاکہ پاکستان کی سا لمیت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میںآسانی ہو ، ممکنہ امریکی اقدامات کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان کو سفارتی محاذ پر زیادہ سر گرم ہو کر دوست اور برادر ممالک سے روابط میں تیزی لانی پڑے گی تاکہ امریکی اقدامات کا مقابلہ کرنے میںآسانی ہو ۔

اداریہ