کفایت شعاری ضروری …مگر

کفایت شعاری ضروری …مگر

کفایت شعاری اقدامات کے تحت رواں مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے 25فیصد کٹوتی اوراخراجات پر پابندیوں سے متعلق اعلامیہ صوبائی حکومت نے واپس لے لیا ہے اور اس سلسلے میں انتظامی سیکرٹریز کو مراسلہ ارسال کردیاگیا ہے۔ واضح رہے کہ صوبائی حکومت نے مالی بحران کے پیش نظر محکمہ خزانہ کے توسط سے تمام محکموں کو کفایت شعاری پر عمل کرنے کے لئے 12ستمبر کو ایک مراسلہ ارسال کیا تھا جس میں ترقیاتی بجٹ پر25فیصد کٹوتی اور نئی ترقیاتی سکیموں کے اجرائ' بھرتیوں اور اپ گریڈیشن پر پابندی لگانے کی ہدایت کی تھی۔ اس فیصلے کی روشنی میں صحت' تعلیم کے علاوہ کئی اور اہم شعبوں کے ترقیاتی منصوبے ٹھپ ہو جاتے جبکہ پولیس اور دوسرے محکموں کے ملازمین کی اپ گریڈیشن بھی تاخیر کا شکار ہو جاتی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ حکومت اگر اخراجات پر قابو پانے کے لئے کفایت شعاری اختیار کرتی ہے تو اصولی طور پر اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے لیکن ہر اقدام کے لئے کوئی نہ کوئی منطقی جواز بھی ہونا چاہئے تاکہ نہ صرف عوام کے خون پسینے سے حاصل کردہ ٹیکسوں کا درست استعمال ہو سکے اور ایسے طور طریقے اختیار کئے جائیں کہ کسی بھی جانب سے وسائل کے بے جا اور بے دریغ استعمال کے بارے میں شکایات بھی پیدا نہ ہوسکیں۔ تاہم جہاں تک صحت اور تعلیم جیسے شعبوں کا تعلق ہے چونکہ یہ بنیادی انسانی ضروریات سے متعلق ہیں اور ان شعبوں کو ترقی دینا از حد لازمی ہے اس لئے ان شعبوں پر کٹوتی لگانا درست نہیں تھا۔ اسی طرح جہاں تک ملازمین کے اپ گریڈیشن کا تعلق ہے اس پر کٹوتی لگانا سرکاری ملازمین کے بنیادی انسانی حقوق کی نفی ہے۔ اگر ایک ملازم اپنی زندگی کے قیمتی سال لگا کر ملک و قوم کی خدمت کرتا ہے تو اسے اپنے وقت پر ترقی سے محروم رکھنا صریح زیادتی ہے کہ نہ صرف اس طرح وہ اگلے گریڈ کے حصول میں ناکام رہتا ہے بلکہ اگر نچلے گریڈ ہی میں اس کی ریٹائرمنٹ کا وقت آتا ہے تو بقیہ زندگی کے لئے وہ جس اضافی پنشن کا حقدار ہے اس سے محروم رکھ کر اسے بلا وجہ سزا دینے کا کوئی جواز نہیں ہے جبکہ خصوصاً سیکورٹی اداروں کے افراد میں اس سے بد دلی پھیلنے کے خدشات کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا حالانکہ ان اداروں کے ملازمین دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے عفریت سے لڑتے ہوئے جانیں بھی قربان کر رہے ہیں۔ اس لئے اگر کفایت شعاری لازمی ہے اور یقینا لازمی ہے تو حکمران اپنے اللوں تللوں پر قابو پائیں نہ کہ ضروری اخراجات پر کٹ لگا کر عوام اور سرکاری ملازمین کے لئے مسائل کھڑے کریں۔
سید خورشید شاہ کا صائب مشورہ
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے سکھر میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اسمبلی کی مدت چار سال کرنے کی حامی ہے۔ لیگ (ن) نے بھی اگلے الیکشن سے اسمبلی کی مدت چار سال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ سید خورشید شاہ کی بات کو اگر درست مان لیا جائے اور اسے بقول ان کے لیگ(ن) کی حمایت بھی حاصل ے تو اس حوالے سے اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بحث مباحثے کا موضوع بنانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک میں سیاسی حکومتوں کی مدت چار سال ہے جبکہ پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ماسوائے فوجی حکومتوں کے کسی بھی سیاسی حکومت کو پانچ سال کی مدت مکمل کرنے کا موقع نصیب نہیں ہوا اور اپوزیشن جماعتیں تقریباً ہر حکومت کے نصف مدت کے بعد اس کے اقتدار کے خاتمے کے لئے سرگرم ہو جاتی ہیں۔ اس لئے اگر حکومت کی مدت میں تخفیف کرکے اس کی مدت اقتدار کو چار سال تک محیط کردیا جائے تو یقین ہے کہ سیاسی سطح پر سوچ میں مثبت تبدیلی آسکتی ہے۔ تاہم اس کے لئے آئین میں ترمیم لانا ضروری ہوگا اور آئینی ترمیم کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا بھی ضروری ہے۔ اگر اس ضمن میں تمام سیاسی جماعتیں اتفاق رائے کرلیتی ہیں تو 2018ء کے انتخابات سے پہلے ہی اس سلسلے میں موجودہ پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم لانا ضروری ہوگا کیونکہ اگر عام انتخابات کے بعد یہ ترمیم آتی ہے تو عین ممکن ہے کہ اس وقت کی حکومت اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس کا اطلاق مزید 5سال ملتوی کرنے پر تل جائے تاہم ایک اور نکتہ بھی اہم ہے اور وہ یہ کہ اگر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت پانچ سے کم کرکے چار سال کی جاتی ہے تو سینیٹ کی مدت میں بھی تخفیف لازمی کرنا پڑے گی اور اسے بھی 6 سال کی بجائے چار سال تک محیط کرنا پڑے گا۔ بہر حال اس تجویز کو عملی جامہ پہنانا اس قدر آسان بھی نہیں ہے اور اس کے لئے قائد حزب اختلاف اور حکومتی حلقوں کو اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے سخت پاپڑ بیلنا پڑ سکتے ہیں جبکہ اس تجویزکے ملکی سیاست میں بہتر نتائج برآمد ہونے کے امکانات سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔

اداریہ