آواز دے رہا ہوں کوئی بولتا نہیں

آواز دے رہا ہوں کوئی بولتا نہیں

مشہور مقولہ ہے کہ ہر کمالے را زوالے ، یعنی ہر عروج کو ایک نہ ایک روز زوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو ہر صاحب اقتدار نے اس تاریخی حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار ہی کیا ، اور اپنے اقتدار کے سورج کے نصف النہار پر ہونے کے زمانے میں اس کے گرد جس قسم کے خوشامدیوں ، جاہ پرستوں اور اس کی ہر بات پر واہ واہ کے ڈونگرے بر سانے والے قبضہ جمائے رہے ہیں ،ان ہی کی وجہ سے بالآخر اس کے اقتدار کے سورج کو گہن لگتا ہے ، تاہم بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اپنے پیشروئوں کے عبرتناک انجام سے کوئی سبق سیکھنے کی زحمت نہیں کی ، اور اقتدار کے نشے میں مست ہو کر ایسے اقدام کرتے چلے گئے کہ بالآخر یہی اقدام ان کیلئے ایسے جال میں تبدیل ہوگئے جس طرح مکھی کیلئے مکڑی کا جالا،ایسی صوررتحال میں کف افسوس ملنے کے سوا کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا ، یعنی بقول شاعر 

ویراں ہے پورا شہر کوئی دیکھتا نہیں
آواز دے رہاہوں کوئی بولتا نہیں
ملک پر تین بار حکومت کرنے والی شخصیت اور لیگ (ن) کے سابق سربراہ نواز شریف آج کل ایسی ہی کیفیت سے دوچار ہیں ،اقتدار ان کے ہاتھ سے ریت کی مانند پھسل کر دور جا چکا ہے مگر انہیں اب بھی زعم ہے کہ وہ واپس آسکتے ہیں۔سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد معقول مشورے دینے والوں کی باتوں پر توجہ دینے کی بجائے انہوں نے جذباتی مشوروں پر عمل کرتے ہوئے جس طرح سڑکوں پر آکر اپنے خلاف دیئے جانے والے فیصلے پر طوفان برپا کرنے کی کوشش کی اس بارے میں گزشتہ روز سپریم کورٹ کے فاضل ججوں نے ایک بار پھر انہیں یاد دلا یا کہ انہیں عدالتوں پر اعتماد کرنا چاہیئے سڑکوں پر نہیں ، گویا نااہلی کے فیصلے کے بعد اسلام آباد سے لاہور تک سڑکوں پر احتجاج کرنے سے بہتر تھا کہ وہ خاموشی سے نظر ثانی کی اپیل دائر کرتے ۔ جبکہ گزشتہ روز ایک ماہر قانون نے ایک ٹی وی چینل پر اس کیس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بڑا اہم نکتہ اٹھایا کہ نظر ثانی اپیل میں اگر نواز شریف کے قانونی مشیر دوسرے معاملات کو چھیڑ تے ہوئے ان کی نااہلی کے حوالے سے سوال نہ اٹھا تے اور اسے آئندہ انتخابات 2018ء کیلئے رکھ دیتے تو اس کے بہتر نتائج بر آمد ہو سکتے تھے ، یعنی 2018ء کے انتخابی معرکے کے موقع پر میاں صاحب کا غذات نامزدگی خاموشی سے داخل کر دیتے تو ان کو یقینا چیلنج کیا جاتا یا پھر الیکشن کمیشن خود مسترد کر دیتا تو اس کے خلاف پہلے ہائی کورٹ اور بعد میں ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ، یوں اس معاملے میں نیا فیصلہ سامنے آسکتا تھا اور چونکہ نااہلی کے حوالے سے سپریم کورٹ نے ان کی نااہلی کی معیاد کے حوالے سے کوئی واضح احکامات نہیں دیئے اس لئے میاں صاحب کے پاس بہتر مواقع تھے کہ وہ نااہلی کیلئے مدت کے تعین میں کامیاب ہوجا تے ، اورنظر ثانی کی درخواست کی سماعت کے دوران ایک فاضل جج نے بھی لگ بھگ ایسے ہی ریمارکس دیئے ہیں مگر اس نکتے کو اپیل میں شامل کرکے وکلاء نے میاں صاحب کے کیس کو کمزور کردیا تھا ۔ اب جبکہ میاں صاحب کی نااہلی پر پکی مہر لگ چکی ہے یعنی نظر ثانی اپیل بھی خارج کر دی گئی ہے تو آگے کا لائحہ عمل کیا اختیار کیا جاتا ہے یہ ایک اہم سوال ہے اور اگر جذبات کا سیلاب بلا خیز اب بھی میاں صاحب کی سوچ پر حاوی رہا یا انہوں نے غلط مشورے دینے والوں کی باتوں پر عمل کرنے ہی کی ٹھان لی تو این اے 120کے الیکشن میں کامیابی کی صورت میں جو تھوڑی بہت امید کی کرن باقی ہے شاید وہ بھی معدوم ہوجائے کیونکہ اداروں کے ساتھ محاذ آرائی نہ صرف یہ کہ خود ان کے لئے مثبت نتائج کا باعث نہیں ہو سکتی بلکہ ان کی جماعت میں ٹوٹ پھوٹ کا آغاز بھی ہو سکتا ہے اس لئے کہ مسلم لیگ کے خمیر میں ہی وفاداری کا عنصر صرف اقتدار کے ساتھ وابستگی سے جڑا ہوا ہے اور اگر تادم تحریر لیگ (ن)میں فی الحال ٹوٹ پھوٹ کی بنیادیں نہیں پڑیں تو یہ میاں صاحب کی خوش نصیبی ہے ، تاہم اگر میاں صاحب نے اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا تو شاید یہ ٹوٹ پھوٹ لیگ (ن) کا مقدر ٹھہر جائے ، اور پھر ملکی سیاسی صورتحال میں اہم تبدیلیوں کے امکانات کو کسی بھی طور رد نہیں کیا جا سکے گا ، یعنی بقول شاعر
سوچتا ہوں کہ اب انجام سفر کیا ہوگا
لوگ بھی کانچ کے ہیں راہ بھی پتھر یلی ہے
میاں صاحب کو اب ذرا تنہائی میں اطمینان کے ساتھ بیٹھ کر اپنے ماضی قریب کے حالات پر سنجیدگی کے ساتھ ضرور غور کرنا چاہیئے کہ آخر انہیں ان حالات کا سامنا کیوں کرنا پڑا یا حالات اس نہج تک آئے ہی کیوں ؟ وہ اپنے رویئے پر بھی غور ضرور کریں کہ آخر ان کے کس اقدام سے اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوگئے ہیں اور حالات ان کے خلاف ہوتے چلے گئے ، وہ یہ بھی سوچیں کہ ان پر جو کرپشن کے الزامات لگائے گئے ہیں ان میں کتنی حقیقت ہے اور اگر واقعی یہ الزامات درست ہیں تو کیا وہ اللہ تعالیٰ کے حضور صدق دل سے معافی کے طلبگار ہیں ۔اور آئندہ کیلئے تو بہ کر کے عوام کی لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں واپس جمع کرانے کی اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کر سکیں گے ؟اور عوام کے سامنے آکر صدق دل سے معافی مانگنے کو تیا رہیں ؟ یہ بات یقینا بہت مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہے کہ ملکی دولت لوٹنے والوں کے خلاف ادارے عموماً ٹھوس ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں ، ملک بھر میں اب بھی کرپشن جاری ہے مگر کوئی اپنے پیچھے دستاویزی ثبوت ہر گز نہیں چھوڑتا ، جبکہ کرپشن کی موجودگی سے انکار کرنے والے کم از کم اس بات کا جواب ضرور دیں کہ اگر ان کا مطمح نظر کرپشن اور لوٹ مار نہ ہوتو وہ کس خوشی میں انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے کروڑوں کے اخراجات برداشت کرتے ہیں ؟ اور منتخب ہونے کے بعد ان پر جو ہن برسنے لگتا ہے اس کا جواز کیا ہے ؟
بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں
کچھ باغباں ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے

اداریہ