Daily Mashriq

ذرا کھمبے کا خیال رکھنا

ذرا کھمبے کا خیال رکھنا

سیاست بہت معتبر لفظ ہے۔ یہ عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معانی علمائے اسلام نے اتنی تفصیل کے ساتھ لکھے ہیں کہ اس موضوع پر کتابوں کی کتابیں موجود ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم بات وہ ہے جو خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی ہے کہ بنی اسرائیل کے انبیاء ان کی سیاست کرتے تھے''۔ اس تناظر میں سیاست کے معنی گھر گائوں' معاشرے اور ملک کے معاملات کو خوش اسلوبی کے ساتھ سنوارنے اور چلانے کے ہیں۔ ہر چیز کی ابتداء چھوٹی سطح پر ہو کر آگے بڑھتی ہے۔ سیاست کی ابتداء گھر سے ہوتی ہے جو معاشرے کی ابتدائی اور بنیادی اکائی ہوتا ہے۔ گھر بمنزلہ ریاست اور میاں بیوی اور بچے اس کے ارکان ہوتے ہیں۔ گھر گھرانے کے معاملات کو بطریق احسن نبھانے کو سیاست ''تدبیر منزل'' کہتے ہیںجو گھر سے نکل کر اڑوس پڑوس اور گائوں( ویلج کونسل) کی سطح تک پہنچتی ہے۔ ویلج کونسل سے یونین' تحصیل اور ضلع کونسل کی سطح پر افراد سیاست کے ذریعے ہر سطح کے معاملات کے لئے منتخب کئے جاتے ہیں۔ اس کے لئے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جاتا ہے جو حقیقت میں جمہوریت کا حسن ہے۔ صوبائی اور قومی اسمبلی کے ارکان گلی کوچوں کے مسائل حل کرنے کے لئے نہیں ہوتے بلکہ وہ اسمبلیوں میں پیش آمدہ مسائل کی گتھیاں سلجھانے کے لئے قانون سازی کرتے ہیں لیکن جس طرح نا بالغ سربراہان گھرانوں کے سبب ہمارے گھروں کے مسائلحل کرنے کے بجائے ہر روز نئی پیچیدگیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ ہمارے گائوں اور ضلع کونسل کے معاملات میں مخالفتیں' دشمنیاں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور عوامی عہدوں سے ناجائز فوائد سمیٹنے کے لئے ناجائز حربوں نے ہماری سیاست اور معاشرے کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ یہی حال ملکی سطح پر بھی صاف نظر آتا ہے۔ اگست کے مہینے میں تو اہل پاکستان پر دو دن ایسے بھی گزرے کہ ملک بغیر سربراہ ریاست کے چل رہا تھا۔ اور اب اگلے انتخابات جیتنے کے لئے سیاسی جماعتوں نے جلسے جلوسوں کے ذریعے جو مہم شروع کی ہے اس میں ایک دوسرے کے خلاف جو زبان استعمال ہوتی ہے وہ پورے ملک کے نوجوان سنتے اور سیکھتے ہیں۔ یہی نوجوان ملک کا مستقبل ہیں اور بچے جو کچھ بزرگوں سے سیکھتے ہیں وہی کرتے ہیں۔ سیاست میں رائے اور نقطہ نظر کا اختلاف جمہوریت کاحسن کہلاتا ہے اور اسی کے ذریعے ملک و قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں لیکن یہاں تو سیاسی اختلاف کچھ ایسے انداز سے ہوتا ہے کہ ملک و قوم کی سلامتی خطرات سے دو چار ہونے کاخدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس وقت موجودہ وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ اور سابق وزیر داخلہ کے درمیان جو بالواسطہ مناظرہ جاری ہے اس کا ہمارا روایتی حریف ملک جو فائدہ اٹھا رہا ہے وہ عالمی سیاسیاست اور میڈیا پر نظر رکھنے والے حضرات سے پوشیدہ نہیں۔ ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ یہ تینوں ذمہ دار حضرات' تجربہ کار اور جہاندیدہ ہونے کے علاوہ ایک ہی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہی وہ خطرناک بات ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کے اندر بھی کئی گروپس ہوتے ہیں اور مخالف سیاسی جماعتوں کے درمیان الگ گروہ بندیاں' حسد' بغض اور عناد و عداوتیں جو گل کھلاتی ہیں اس کے بارے شورش کشمیری صاحب ہی یاد آجاتے ہیں کہ 

میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہو جیسے طوائف تماش بینوں میں
سیاست کی طرح کھیل کود کی اہمیت و افادیت سے انکار ممکن نہیں لیکن جس طرح ہماری سیاست' مفادات اور حصول زر کی بھینٹ چڑھی ہے اس طرح ہمارے ہاں کھیلوں کا بھی یہی حال ہے۔ خدا خدا کرکے چیمپئن ٹرافی جیت لی تو آسمان سر پر اٹھالیا اور ہفتوں جشن جاری رہا جس میں کئی ایک بد تمیزیاں اور ہمسایہ ملک کے حوالے سے بعض نازیبا الفاظ و حرکات بھی سر زد ہوئیں جس پر سنجیدہ حلقوں نے بروقت گرفت بھی کی اور اب ورلڈ الیون اور قومی ٹیم کے درمیان میچوں کا خیر و خوبی کے ساتھ انعقاد بہت اچھی بات ہے لیکن یہ کوئی اتنا بڑا کارنامہ بھی نہیں ہے کہ پی سی بی کے منتظمین اور دیگر حضرات صبح و شام میڈیا پر اس کا تذکرہ اس انداز سے کریں کہ گویا ہم نے واقعی دنیا فتح کرلی ہے۔ کھیل کو اعتدال کے ساتھ کھیل رہنے دیا جائے اور غیر معتدل انداز سے جذبات کا اظہار اور دیگر بہت سارے اہم کھیلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف اور صرف کرکٹ پر توجہ مرکوز کرنا کسی طرح بھی ملک و قوم کے لئے مفید نہیں۔ ترقی یافتہ اقوام میں کھیلے جانے والے مقبول کھیلوں کی طرف بھی توجہ دینا اعتدال کا تقاضا ہے۔ فٹ بال دنیا کا مقبول کھیل ہے۔ سستا' آسان اور وقت کا ضیاع نہ کرنے والا کھیل ہے لیکن وطن عزیز میں
''پھرتا ہے میر خوار کوئی پوچھتا بھی نہیں''
کرکٹ کے کھلاڑیوں کے لئے کروڑوں انعامات و تنخواہیں اور دیگر کھلاڑی بوڑھے ہونے پر ڈھنگ کے علاج کے لئے ترستے رہ جاتے ہیں۔ اکیس کروڑ کی ساٹھ فیصد نوجوانوں پر مشتمل آبادی میں ہم ایک ایک اور دو دو کھلاڑیوں پر مشتمل کھیلے جانے والے کھیلوں کے لئے کھلاڑی پیدا نہ کرسکے۔ ہاکی اور سکواش میں ہم نے دنیا کو کبھی فتح کیا تھا وہ کرکٹ میلہ کے لئے ہزاروں نوجوانوں کی ہر وقت دستیابی اور مشغولیت نے خواب بنا دیا ہے۔ سیاست اور کھیل میں اعتدال لانے کی ضرورت ہے۔ زندگی کے ہر معاملے میں اعتدال برتنے کا نتیجہ ہمیشہ بہتر رہتا ہے کہ یہ ہمارے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول مبارک ہے ''بہترین کام میانہ روی کے ہیں''۔

اداریہ