خوابوں کا جزیرہ

خوابوں کا جزیرہ

ہنگامہ خیز زندگی میں انسانی ضرورتیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں کچھ ضرورتیں ہوتی ہیں اور کچھ خواب! سیانے کہتے ہیں کہ ہمیں جاگتے میں خواب دیکھنے چاہئیں خواب سونے کے دوران دیکھے جائیں یا جاگتے ہوئے ان سے چھٹکارا حاصل کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ وطن عزیز میں اب بھی لوگوں کی ایک کثیر تعداد انعامی بانڈزاس امید پر ضرور خریدتی ہے کہ اگرکروڑوں روپے کا انعامی بانڈ نکل آیا تو دن پھر جائیں گے۔ لاٹری کی بہت سی قسمیں ہیں کبھی کبھی گھر بیٹھے جناب ممنون حسین کی طرح لاٹری نکل آتی ہے اور بندہ اپنے ملک کا صدر بن جاتا ہے۔ مراعات تو بہت ہوتی ہیں کام وام کچھ کرنا نہیں پڑتا کسی کی سالگرہ کا کیک کاٹ ڈالا یاقومی دن کے حوالے سے ایک آدھ تقریر کر ڈالی !کسی کی شادی کھاتے پیتے گھرانے کی اپنے والدین کی جائیداد کی تنہا وارث سے ہوجائے تو یہ بھی لاٹری کی ایک قسم ہے۔ صاحب جی کے دن پھر جاتے ہیںکسی زمانے میں گھرداماد ہونا بڑا معیوب خیال کیا جاتا تھا اب نئے زمانے کی روشنی میں یار لوگ اسے ایک فرسودہ نظریہ سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ میاں بیوی گاڑی کے دو پہیئے ہیں بس گاڑی کو چلتے رہنا چاہیے۔ تقسیم کے وقت بہت سے لوگوں نے اپنی جمع پونجی سونے چاندی کی صورت میں کسی ہنڈیا میں ڈال کر زمین میں دفن کردی تھی کہ کبھی موقع ملا تو اپنے گھرواپس آکر اپنی دولت واپس نکال لی جائے گی۔ پھرحالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ ان بیچاروں کو واپس آنا تو نصیب نہ ہواالبتہ ان کے گھر سرحد پار سے آنے والے مہاجروں میں بانٹ دیے گئے کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ گھر کی تعمیر کے دوران کھدائی کرتے وقت سونے چاندی سے بھری ہوئی ایک آدھ ہنڈیا نکل آتی ہے تو صاحب مکان کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔تقسیم ہی کے وقت بہت سے لوگوں کی ایک لاٹری اس صورت میں بھی نکل آئی تھی کہ وہ جن صاحب حیثیت تاجروں کے ملازم تھے ان کو بھاگم بھاگ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جانا پڑا تو یہ ان کے پیچھے رہ جانے والے اثاثوں کے مالک بن بیٹھے اور راتوں رات لاکھوں پتی ہوگئے اسی زمانے میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے ہجرت کرجانے والوں کی دولت کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی پسند نہیں کیا دلیل یہ دی جاتی تھی کہ جس مال نے ان کے ساتھ وفا نہیں کی ہمارے ساتھ کیا وفا کرے گا ۔یقین کیجیے ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کرپائے کہ ان کا فیصلہ غلط تھا یا صحیح؟ایسے بہت سے لوگوں کو ہم جانتے ہیں کہ اسی مال غنیمت کو لوٹ کر ان کے دن پھر گئے تھے۔ آج ان کے پوتے نواسے عیش کر رہے ہیں یہ اور اس طرح کی دوسری بہت سی لاٹریاں بھی زندگی میں خوشیاں فراہم کرتی رہتی ہیں۔اب ذرا سچ مچ کی لاٹری کی طرف آتے ہیںہمارے یہاں تو انعامی بانڈ ہی کا چلن عام ہے۔ لاٹری کلچر مغرب میں بہت زیادہ ہے وہاں طرح طرح کی لاٹریاں پائی جاتی ہیں اور ہر مہینے لوگ کروڑوں ڈالرز کے انعام جیتتے ہیں۔لاٹری کا ٹکٹ ہو یا انعامی بانڈ اس کی خریداری کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ لاٹری کا ٹکٹ خریدنے کے بعد ٹکٹ کا مالک خوابوں کے ایک ایسے جزیرے پر جا بستا ہے جہاں سے اس کی واپسی بڑی مشکل ہوتی ہے۔ ان دنوں سوچتے جاگتے میں کچھ اس قسم کے خواب دیکھے جاتے ہیںسب سے پہلے تو انعام میں ملنے والی رقم سے ایک پلازہ تعمیر کرنے کا ارادہ ہے بس بہت کام کرلیا پلازے کا کرایہ آتا رہے گا تو زندگی بڑے آرام سے گزر جائے گی۔ بس بانڈ نکل آیا تو سب سے پہلے نوکری چھوڑ دوں گا۔ میں اپنے منحوس باس کی شکل تک دیکھنا نہیں چاہتا بس مجبوری ہے!کچھ رقم ضرورت مندوں میں تقسیم کرنے کے بعد دنیا کے سفر پر نکلنے کا ارادہ ہے بس جی سب سے پہلے دوسری شادی کرنی ہے پھرنئے گھر کی تعمیرہوگی کیونکہ ایک میان میں دو تلواریں کہاں سما سکتی ہیں!یہ وہ خواب ہیں جو ہمارے یہاں بہت کم تقریباً نہ ہونے کے برابر ہی شرمندہ تعبیر ہوتے ہیں۔ جہاں تک مغرب کا تعلق ہے تووہاں نکلنے والی چند لاٹریوں اور ان کے مالکوں کی سوچ پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔حال ہی میں برطانیہ کے ایک مالی نے دس لاکھ پائونڈ مالیت کی لاٹری جیتی اس کا نوکری چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں وہ کرایے کے مکان میں رہتے ہیں سب سے پہلے اپنا مکان خریدیں گے اور خوب سیر سپاٹا کریں گے۔ اس کا خیال ہے کہ اب زندگی آسان ہوجائے گی۔ چند دن پہلے امریکی تاریخ کی اب تک سب سے بڑی یعنی تقریباً75کروڑ 80لاکھ ڈالر کی لاٹری جیتنے والی خاتون نے سب سے پہلے اپنی نوکری کو خیر باد کہہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب آرام کرنا چاہتی ہیں یہ میرا ایک طویل خواب تھا جو شرمندہ تعبیر ہوا۔ وہ ایک میڈیکل سنٹر میں گزشتہ 32برسوں سے کام کر رہی تھیں۔ انہوں نے فون کر کے میڈیکل سنٹر کے مالک کو بتا دیا ہے کہ وہ اب کام پر واپس نہیں آئیں گی اس لاٹری کی حیران کن بات یہ ہے کہ اس لاٹری کا ٹکٹ فروخت کرنے والے کو بھی پچاس ہزار ڈالر کا انعام دیا جاتا ہے۔ یہ ٹکٹ ایک پٹرول سٹیشن کے مالک نے بیچا تھا وہ انعام میں ملنے والی ساری رقم ایک خیراتی ادارے کو دے رہا ہے !دو دن پہلے کینیڈا کے ایک جوڑے نے خوش قسمتی سے تیسری بار سوا آٹھ لاکھ کینیڈین ڈالر کی لاٹری جیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ رقم اپنے بچوں پر خرچ کریں گے۔ اس کے علاوہ ایک نئے گھر کی تعمیر اور دنیا کو دیکھنے کا ارادہ ہے ان کے حوالے سے ایک بڑی عجیب اور نہ ماننے والی بات یہ ہے کہ 1989میں انہوں نے ایک لاکھ اٹھائیس ہزار ڈالر کی انعامی رقم جیت کر اپنے چار دوستوں کے ساتھ شیئر کر دی تھی ۔کالم کی تنگ دامنی آڑے آرہی ہے ورنہ لاٹریوں کے قصے کب ختم ہوتے ہیں۔شکر ہے ہمارے یہاں لاٹریوں کے سلسلے کم ہیں ورنہ ہم لوگ ساری زندگی لاٹری نکل آنے کی امید پر ہی زندگی گزار دیتے ویسے اپنی زندگی پر غور کیجیے ساری زندگی ایک لاٹری ہی تو ہے !۔

اداریہ