Daily Mashriq


ہنڈی حوالہ کے خلاف غیر موثر اور کمزور کارروائی

ہنڈی حوالہ کے خلاف غیر موثر اور کمزور کارروائی

فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی(ایف آئی اے)کا پشاور کے چوک یادگار میں ایک کرنسی مارکیٹ کو سیل کرنا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف)کی شرائط کے تحت منی لانڈرنگ کو روکنے کی جانب ایک قدم ضرور ہے لیکن یہ اس لئے ناکافی ہے کہ صوبہ بھر اور قبائلی اضلاع میں بھی اس دھندے کی روک تھام کے لئے بڑے پیمانے پر اقدامات کرنا ہوں گے۔ڈائریکٹر ایف آئی اے خیبر پختونخوا(کے پی)زون کا ہنڈی حوالہ کو متوازی بینکنگ نظام او ر غیر قانونی قرار دینا قانونی طور پر تو درست بات ہے لیکن ایف آئی اے برسوں سے جاری اس عمل کی روک تھام کے لئے اس وقت ہی کیوں متحرک ہوئی جب اعلیٰ ترین سطح سے اس کو اس کا حکم ملا۔ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کے مطابق یہ کاروبار ان کے باپ دادا کے وقت سے چلا آرہا ہے اور یہ پیسہ کسی بھی طریقے سے ٹریس نہیں ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پیسہ دہشت گردی کے لیے مالی تعاون کے لیے استعمال ہوسکتا ہے۔پشاور کی کرنسی مارکیٹ میں مارے گئے چھاپے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پشاور میں 13 ٹیموں نے اس آپریشن میں حصہ لیا اور 2 کروڑ 68 لاکھ سے زائد کی رقم قبضے میں لی۔ڈائریکٹر ایف آئی اے کے پی کا اس امر کااعتراف کہ چوک یادگار پشاور کی کرنسی مارکیٹ دنیا بھر کو غیر قانونی رقم کی ترسیل کے لیے استعمال کی جاتی ہے اپنی جگہ اعتراف جرم سے کم نہیں ان کا بیان خارجی معترضین اور الزام لگانے والوں کی از خود تصدیق کے مترادف ہے جس کے اظہار کی گنجائش نہ تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے ملک بھر میں کارروائیاں شروع کر دی ہیں جس کا آغاز پشاور کے چوک یاد گار سے کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف نے جون 2018 میں پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں شامل کیا تھا جس کے بعد پاکستان بلیک لسٹ سے ایک قدم دور ہے۔اس سے قبل پیرس سے شائع ہونے والی رپورٹس میں اشارہ دیا گیا تھا کہ پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو مالی معاونت کے خلاف وضع کردہ ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے مزید وقت دیا جا سکتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہنڈی اور حوالہ کے خلاف مہم صرف پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے اور ایف اے ٹی ایف کی سفارشات ہی کے لئے ضروری نہ تھا بلکہ اس کاروبار سے کرنسی کے غیر قانونی لین دین سے پاکستان قیمتی زر مبادلہ سے بھی محروم رہ جاتا رہا ہے جبکہ ہنڈی اور حوالہ کی رقم ٹیکس چوری سے لے کر غیر قانونی مال تجارت اور سمگلنگ کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے جس کا ملکی معیشت اور خزانے دونوں پر برا اثر پڑتا ہے۔ دہشت گردوں کا اس سے فائدہ اٹھانا اور منشیات کی تجارت میں اس ذریعہ منتقلی رقوم کا با سہولت ہونا بھی سنگین معاملہ رہاہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ چوک یاد گار میں کھلے عام ہونے والے اس کاروبار سے ایف آئی اے حکام نے تعرض کرنے کی کبھی زحمت گوارا نہیں کی جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ غیر قانونی کرنسی کا کاروبار ایف آئی اے کی ملی بھگت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جس کارروائی کو ایف آئی اے حکام ایک بڑی کارروائی کے طور پر پیش کر رہے ہیں اس میں برآمد شدہ رقم واجبی اور معمولی ہے۔ اگر تیرہ ٹیموں نے سنجیدگی کے ساتھ کارروائی کی ہوتی تو مجموعی طور پر دو کروڑ 68 لاکھ روپے کی برآمدگی کی بجائے ایک دو کرنسی ڈیلروں ہی سے اتنی رقم کا برآمد ہونا ممکن تھا۔ ایف آئی اے کو اب ان بینکوں کے خلاف بھی کارروائی کرنی ہوگی جہاں لوگوں کے غیر ملکی کرنسی کے اکائونٹس ہیں۔ بنک صارفین کو اس امر پر مجبور کیاجاتا ہے کہ وہ کرنسی ڈیلر سے بنک کے عملے کی وساطت سے بنک کے اندر بیٹھ کر ڈیل کریں اس کا ایف آئی اے اور سٹیٹ بنک دونوں کو سختی سے نوٹس لینا چاہئے۔ صارف کو بنک ہی نوٹ فراہم کرنے کی ذمہ داری پوری کرے اور عملہ کرنسی ڈیلر سے ڈیل نہ کرائے۔ ایف آئی اے کے پوری طرح ہنڈی اورحوالہ کے کاروبار کی سرپرستی کرنے کے تاثر کے لئے یہی کافی ہے کہ برسوں بعد چوک یاد گار میں غیر قانونی کرنسی ڈیلروں جن کی اکثریت افغان مہاجرین کی ہوتی ہے ان کے خلاف حرکت میں آئی۔ پاکستان سے غیر قانونی دولت کی غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقلی ملک میں ٹیکس چوری سمگلنگ سمیت مختلف قسم کے غیر قانونی معاملات کا لین دین ہنڈی حوالہ کے ذریعے کرنے کامحفوظ طریقہ اختیار کیاجاتا ہے جس کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں ہوتا البتہ جن لوگوں کو رقم کی ادائیگی ہوتی ہے ان سے ایک فارم پر دستخط لئے جاتے ہیں جس میں رقم کی تعداد اور ارسال کنندہ کا نام اور شہر کا نام لکھا ہوتا ہے۔ ایف آئی اے کے چھاپے میں اس قسم کے دستاویزات کو تحویل میں لینے کی کوئی اطلاع نہیں جس سے اس چھاپے کے یا تو وقت سے پہلے افشاء یا پھر ملی بھگت سے ایف آئی اے معلومات چھپانے کی غلطی کر رہی ہے جس سے بظاہر ہونے والی بڑی کارروائی بھی مشکوک ہوجاتی ہے۔ ماضی میں جب جب اس غیر قانونی کارو بار کے گرد گھیرا تنگ ہونے کی بھنک پڑتی تھی ہنڈی والے رقوم کی ادائیگی درہ آدم خیل سے کرنے لگتے تھے۔ عین ممکن ہے کہ دیگر قبائلی علاقوں سے بھی ہوتی ہوگی اب قبائلی اضلاع کے بن جانے سے ایف آئی اے کو ان علاقوں میں بھی کارروائی کا اختیار حاصل ہوگیا ہوگا اگر نہیں ہوا تو ان کے اختیارات کو وہاں تک فوری توسیع دے کر ان کو نتیجہ خیز کارروائی کے احکامات دئیے جائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تمام غیر قانونی ذرائع بند کرکے ہی نہ صرف ہم بین الاقوامی طور پر تنقید اور پابندیوں سے بچ سکتے ہیں بلکہ ملک میں زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور ہر قسم کی غیر قانونی تجارت اور سمگلنگ کی روک تھام بھی اسی ذریعے ممکن بنائی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں