Daily Mashriq


اپنے پائوں پر کلہاڑی مت ماریئے

اپنے پائوں پر کلہاڑی مت ماریئے

پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے کراچی میں افغانیوں کو شہریت دینے کے اعلان پر عملدرآمد ہونے کی صورت میں صرف کراچی میں مقیم افغانیوں ہی کے نہیں بلکہ پورے ملک میں مقیم افغان مہاجرین کو شہریت دینے کا جو دروازہ کھل جائے گا اسے پھر بند کرنا خود حکومت کیلئے بھی ممکن نہیں رہے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کراچی میں مقیم بنگالی اور برمی افراد کا معاملہ الگ ہے جبکہ افغان مہاجرین کا معاملہ مختلف ہے ۔ بنگالی اور برمی افراد نے پاکستان میں قیام اسے اپنا ملک قرار دے کر کیا اور بعد ازاں جو غیر قانونی طور پر لوگ آئے ان کا بھی مدعا یہی تھا اب ان میں امتیاز کرنا مشکل ہے اور نہ ہی ایسی دستاویزات دستیاب ہیں جن کی روشنی میںبنگالیوں اور برمیوں کے مقیم ہونے کے عرصے اور وجوہات کا واضح ثبوت ملے۔ یہ لوگ اب نہ تو اپنے وطن جا سکتے ہیں اور نہ ہی وہ ممالک ان کو قبول کریں گے۔ افغانیوں کا معاملہ مختلف ہے وہ افغانستان کے شہری ہیں وہاں پر ان کی جائیدادیں عزیز واقارب موجود ہیں نیز ان کے ملک کی جانب سے ان سے لاتعلقی بھی ظاہر نہیں کی جارہی ہے معاشرے میں ان افراد کی وجہ سے جس قسم کے سنگین مسائل سامنے آتے رہے ہیں اور افغان مہاجرین جن معاملات میں ملوث رہے ہیں ان جملہ وجوہات کے باعث مقامی آبادی اور افغان مہاجرین کے درمیان بعد کی جو کیفیت موجود ہے ان ساری وجوہات کے پیش نظر یہ کسی طور مناسب نہ ہوگا کہ افغان مہاجرین کو پاکستان کی شہریت دی جائے۔ افغان باشندے مہاجربن کر آئے تھے ان کو کیمپوں میں بطور مہاجر رکھ کر واپسی بھجوانے کا جو طریقہ کار ایران نے اختیار کیا تھا ایسانہ کرنے کی غلطی کا جو خمیازہ قوم بھگت چکی ہے اس کے بعد بجائے اس کے کہ ان کوجتنا جلد ممکن ہوسکے واپس بھجوایا جائے الٹا ان کو شہریت دینے کی سوچ سمجھ سے بالاتر ہے ۔ ہمارے تئیں قومی اداروں کو اس سلسلے میں معاملے کی حساسیت سے حکومت کو ایک مرتبہ پھر آگاہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حکومت اپنی سوچ سے رجوع کرے ۔

قبائلی اضلاع میں تعلیمی اداروں کی طویل بندش کا سنگین مسئلہ

خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں قائم3کالجو ں سمیت600سے زائد تعلیمی اداروں میں گزشتہ10 برس سے تدریسی سرگرمیوں کی تعطلی کے بعد ہنوز عدم بحالی تشویشناک اور باعث فوری توجہ امر ہے معروف انگریزی معاصر میں شائع رپورٹ کے مطابق سیکورٹی خدشات اور مقامی افراد کی نقل مکانی کے باعث کئی سو ادارے غیر فعال ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے محسود اور اورکزئی میں بدترین صورتحال رہی جہاں500سرکاری سکول اور کالج میں تالے لگے ہوئے ہیں۔قبائلی اضلاع میں تدریسی اداروں کے نگران ادارے ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن نے غیر سرکاری معاون اداروں کی مدد سے متعلقہ ایجنسیوں میں بچوں کے لیے ٹینٹ لگا کر تدریس شروع کردی ہے۔ڈائریکٹریٹ حکام کے مطابق شمالی وزیرستان میں2کالج دوبارہ کھول دیئے گئے جو جون2014میں ضرب عضب آرمی آپریشن کے بعد بند ہو گئے تھے۔دستاویزات کے مطابق جنوبی وزیرستان ضلع میں747اسکولوں میں سے486غیر فعال ہیں جس میں190لڑکیوں کے اسکول بھی شامل ہیں۔مزید یہ کہ اسی علاقے میں 282پرائمری اسکول اور2ڈگری کالج میں بھی تدریسی سرگرمیاں معطل ہیں۔اس تفصیلی رپورٹ میں سامنے آنے والی صورتحال ایسی نہیں کہ اس حوالے سے مزید کچھ کہا جائے سوائے اس کے کہ اس وقت نہ تو قبائلی علاقوں میں سابقہ فاٹا کے طرز کا نظام ہے اور نہ ہی ان کو مکمل بندوبستی علاقوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ ان علاقوں کا آدھا تیتر آدھا بٹیر کے مصداق ہونا اپنی جگہ کم از کم تعلیمی نظام اور تعلیمی اداروں کے نظام کی تبدیلی سے زیادہ سروکار اور واسطہ نہیں حکومت کو اس طرف فوری طور پر متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر گورنر خیبر پختوا شاہ فرمان کو اس سنگین صورتحال کو فوری طور پر وفاقی حکومت کے سامنے رکھنے اور صوبائی حکومت کو بھی اعتماد میں لیکر جلد سے جلد تعلیمی اداروں کی رونقوں کی بحالی کی سعی کرنی چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں