Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

کے مشہور شہر کوفہ میں ایک شخص نے مکروفریب کر کے عام لوگوں میں اپنی امانت، دیانت اور تقویٰ وطہارت کی عام شہرت حاصل کرلی تھی ۔ ایک شخص نے اس کی دیانت امانت داری کا حال سناتو اس نے اپنا بہت سارامال اس کے پاس امانت رکھوادیا ۔کچھ عرصے بعد جب وہ واپس آیا اور اس شخص سے اپنا مال مانگا تو اس نے صاف انکار کردیا۔ بات آگے بڑھ گئی ۔ اس شخص نے مجبور ہو کر قاضی ایاسؒ عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا اور قاضی ایاسؒ اس سے واقعہ کی پوری تفصیل بیان کردی ۔ادھر قاضی ایاسؒ نے ایک دانشمندانہ تدبیر سوچ کر اپنے ایک خادم کو یہ پیغام دے کر اس شیخ کے پاس بھیجا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ اپنے زہد وتقویٰ اور امانت داری کے اوصاف کی وجہ سے عوام میں بہت مقبول اورعزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔میرے پاس بھی چند یتیموں کا مال بطورامانت رکھا ہوا ہے ، جن کا کوئی سرپرست نہیں ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ ان کا مال میں آپ کے پاس امانت رکھوادوں ۔براہ کرام مطلع فرمایئے کہ آپ اس ذمہ داری کو قبول فرمائیں گے۔ قاضی ایاسؒ کا یہ پیغام جب خادم نے اس مصنوعی بزرگ کو پہنچایاتو اس نے فوراً حامی بھر لی اور کہا کہ قاضی صاحب سے عرض کرو کہ انہوں نے یتیموں کے مال کی حفاظت کے لیے بہترین انتخاب کیا ہے ۔ خادم نے قاضی ایاسؒ کی ہدایت کے مطابق اس مکار شخص کا شکریہ ادا کیا اور اس سے درخواست کی کہ آپ دو دن بعد قاضی ایاسؒ کے پاس تشریف لے آئیں۔ اس عرصے میں امانت رکھنے کی جگہ کا بھی انتظام کرلیں ۔ ادھر وہ شخص جس نے اس پیر کے پاس امانت رکھوائی تھی ، وہ اگلے دن عدالت میں آیا ۔ قاضی ایاسؒ نے اس شخص سے کہا کہ میں نے اس امانت دار کو اگلے دن بلایا ہے ، لہٰذا اب تم اس کے گھر جائو اور اپنی امانت اس سے طلب کرو۔ اگر وہ انکار کرے تو اس سے کہنا کہ کل میں قاضی ایاسؒ کی عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کر رہا ہوں ۔ اب تم سے عدالت ہی میں بات ہوگی ۔ یہ کہہ کر واپس آجانا اور اس سے میری ملاقات کا ذکر مت کرنا۔یہ مظلوم شخص حسب ہدایت اس پیر کے گھر پہنچا اور اپنی امانت دوبارہ طلب کی ۔ اس مکار شخص نے سختی کے ساتھ اسے جھڑک دیا اور امانت دینے سے انکار کیا ۔ اس نے بھی سختی کے ساتھ اسے دھمکی دی کہ میں کل قاضی ایاسؒ کی عدالت میں رجوع کررہاہوں ۔ یہ کہہ کر وہ واپس لوٹنے لگا ۔ ابھی یہ شخص منہ پھیر کر چلا ہی تھا کہ بوڑھے مکار نے اسے آواز دی کہ اچھا ! اب قصہ ختم کرو اور اپنی امانت لے جائو۔ میں جھگڑوں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ شخص اپنا مال لے کرخوش خوش قاضی ایاسؒ کے پاس آیا اور پورا قصہ بیان کیا اور قاضی ایاسؒ کو بہت دعائیں دیتا ہوا واپس ہوگیا ۔دوسرے دن وہ مکار شخص یتیموں کا مال لینے قاضی ایاسؒ کے پاس آیا ۔ اس کے ساتھ دو مزدوربھی تھے ۔ قاضی ایاسؒ پر تو اس کی مکاری کھل چکی تھی ۔ برسرعام لوگوں کے سامنے اس کے مکاری اور دھوکے بازی پر سخت سزا دی اور پورے کوفہ میں اس کی رسوائی عام ہوگئی۔ ( از اکتیس جلیل لقدرتابعین،ص249 )

متعلقہ خبریں