Daily Mashriq


افغانستان، امید کی دوکرنیں

افغانستان، امید کی دوکرنیں

افغانستان کے حوالے سے امید کے سورج سے امید کی دو کرنیں پھوٹ رہی ہیں ۔دونوں کا تعلق تاریخ اور تجربے سے حاصل ہونے والے سبق سے ہے ۔دونوں میں تاریخ اور تجربے نے فریقین کو یہ درس دیا ہے کہ ناکام حکمت عملی کی لکیر پیٹنے سے بہتر تدبیر کی تبدیلی ہوتا ہے ۔ امید کی پہلی کرن یہ ہے کہ افغانستان میں برسرپیکار طالبان نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے رائونڈ پر آمادگی کا اظہار کیا ہے جس سے کئی عشروں سے شورش اور خانہ جنگی کا شکار ملک میں قیام امن کی ایک موہوم امید پیدا ہو چلی ہے ۔افغانستان پاکستان کا براہ راست ہمسایہ بھی ہے اور افغان مہاجرین کی بہت بڑی تعداد کا عارضی ٹھکانہ بھی ہے ۔دونوں علاقوں کے عوام میں تاریخی اور نسلی رشتے اور ثقافتی اور لسانی روابط بھی ہیں اس لئے افغانستان کے حالات جلدیا بدیر پاکستان پر اپنا عکس ڈالتے ہیں۔پاکستان ہمیشہ افغانستان میں امن کی کوششیں کرتا رہا مگر دنیا نے افغانستان کو امن واستحکام کی بجائے اپنے وسیع تر سٹریٹجک مفادات کی عینک سے دیکھا ہے ۔انہوںنے افغانستان کے مسائل کے حل کے لئے زمینی حقائق کے خلاف راستہ اپنانے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے افغانستان امن کی منزل سے کوسوں دور رہا ۔سترہ برس سے امریکہ بھی افغان عوام کو آسمانوں سے آتش وآہن کی بارش کرکے جمہوریت اور امن کا سبق پڑھانے میں مصروف ہے مگر یہ طریقہ قطعی ناکام رہا ۔امریکہ نے اپنے کردار کو پوشیدہ رکھنے کی خاطر ہمیشہ طالبان اور کابل حکومت کو ایک میز پر بٹھانے کی کوشش کی مگر افغان طالبان کا اصرار رہا کہ وہ کابل حکومت کوکٹھ پتلی اور اس سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں ۔طالبان نے ہمیشہ امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر اصرار کیا اور وہ روز اول سے اس انداز کے مذاکرات کی حمایت کرتے رہے ۔امریکہ اس حقیقت سے نظریں چراتا اور پہلو بچاتا رہا ۔طالبان افغانستان کے اکسٹھ فیصد حصے پر یا تو کنٹرول رکھتے ہیں یا اکسٹھ فیصد علاقہ امریکہ اورکابل حکومت کی عملداری سے باہر ہے ۔ایک ایسی طاقت کو کچلا جا نا ممکن ہے اور نہ ہی اسے کسی سیاسی عمل سے باہر رکھ کر امن قائم کیا جا سکتا ہے ۔شاید سترہ برس بعد امریکہ کو اس حقیقت کا احسا س ہوگیا ہے کہ افغانستان سے باعزت رخصتی صرف اصل مزاحم قوت سے براہ راست مکالمے سے ہی ممکن ہے۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے دورے کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ امریکہ اپنی افغان پالیسی کا ازسرِ نو جائزہ لے رہاہے۔رواں برس قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کا ایک دور ہو چکا ہے ۔ ان مذاکرات کے بارے میں یہ خبریں بھی ہیں کہ امریکہ افغانستان میں فوجی انخلاء کے بعد بھی دو فوجی اڈوں بگرام اورشورابک کے برقرار رہنے پر اصرار کررہا ہے اور طالبان مکمل انخلاء چاہتے ہیں۔یہ حقیقی وجہ نزع ہے ۔امریکہ افغانستان میں جمہوریت قائم کرنے تو نہیں آیا تھا بلکہ اس کے طویل المیعاد مقاصد تھے جن میں چین کااُبھار اور پاکستان کی ایٹمی طاقت اہم تھی ۔ امریکہ کی ترجیحات ابھی تک تبدیل نہیں ہوئیں۔چین کے ساتھ اب روس کو بھی امریکہ نے حریفوں کی فہرست میں ڈال دیا ہے ۔ پاکستان نہ صرف بدستور ایٹمی طاقت ہے بلکہ وہ امریکی سکیم کے مطابق بھارت کا ’’چھوٹا‘‘ بننے کی تجاویز اور مشوروں کو پائے حقارت سے ٹھکرا چکا ہے ۔ایسے میں امریکہ ان مقاصد سے یکسرغافل ہوکر افغانستان میں اپنے سفارت خانے تک سمٹنا کیسے گوارا کر سکتا ہے ؟۔اس لئے طالبان اور امریکہ اپنے اپنے موقف پر قائم رہتے ہیںتو پھر دوحہ میں جلائی جانے والی مذاکرات کی شمع یونہی ٹمٹماتی رہے گی ۔یہ بات خوش آئند ہے کہ امریکہ کو تلخ اور زمینی حقائق کا احساس وادراک ہونے لگا ہے جس سے افغانستان میں قیام امن کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ مذاکرات کا عمل کامیابی سے چل پڑتا ہے تواس کے اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے پر مثبت انداز میں مرتب ہوں گے۔افغانستان کے محاذ پر امید کا ایک اور چراغ کابل اور اسلام آباد کے درمیان ہونے والا نامہ وپیام ہے ۔جس کاآغاز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ ٔ کابل سے ہوا ہے ۔جہاںاندر کیا ہوا معلوم نہیں ہوا مگر باہر آنے والی خبروں کے مطابق ملتان کے آموں اور قندھار کے انگوروں کے تبادلے کی بات ہوئی اور صدر اشرف غنی کے اسلام آباد کے دورے کے اعلان تک بات پہنچ گئی ۔افغان مسئلے کی ایک جہت کا تعلق کابل اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اور اعتماد کی کمی ہے۔امریکہ سے افغانستان تک سب کا خیال ہے کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جو سیٹی بجاتے ہی کابل کو امن وآشتی سے آشنا کر سکتا ہے ۔پاکستان کے پاس ایسی کوئی سیٹی ہوتی تو گزشتہ ڈیڑھ عشرے میںخود اپنے ہاںامن کی قیمت ہزاروں فوجی اورسویلین قربان کرکے نہ چکاتا۔ البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان ہم آہنگی رہنے دی گئی ہوتی اور کابل میںپاکستان مخالف مصنوعی فضا ء نہ بنائی گئی ہوتی تو آج افغانستان بہتر حالت میں ہوتا۔پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی کی اصل وجہ مصنوعی ہے۔دونوں میں فطری اختلاف نہیں۔دونوں کے درمیان باڑھ لگنا ایک المیہ ہے ۔اب کابل اور اسلام آباد کے درمیان براہ راست روابط شروع ہورہے ہیں مگر اس راہ میں قدم قدم پر سازشوں کی بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں۔جن قوتوں نے پاکستان اور افغانستان کو باہم متصادم کیا ہے ان کے وسیع تر سٹریٹجک اورعلاقائی مقاصد ابھی تک تبدیل نہیں ہوئے ۔ایسے میں وہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان روابط کو ایک حد تک ہی قبول کر سکتے ہیں۔اس کے باوجود اسلام آباد اور کابل کے درمیان امن اور مفاہمت کی باتیں انگوروں اور آموں کے تبادلے امید کی ایک اور کرن ہے۔

متعلقہ خبریں